ATM

کیا نصف صدی قبل کوئی اے ٹی ایم کا سوچ سکتا تھا؟

EjazNews

آپ ایک مرتبہ سوچیں کہ آپ 1960ء کی دہائی میں رہ رہے ہیں اور شام 5بجے کے بعد یااتوار والے دن آپ کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی ہے تو جان لیجئے آپ کیلئے پیسے نکلوانے ناممکن ہیں ۔آپ کو اگلے دن کی صبح تک بینک کھلنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ لیکن 1960ء کی دہائی کو دیکھنے والے اس اے ٹی ایم مشین کی ایجادکو ایجادات کے معجزہ سے کم نہیں گردانتے کیونکہ آپ نصف صدی پہلے کارڈ سسٹم کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کاروباری لین دین سے لے کر پیسوں کے ہر طرح کے حساب کتاب کو آپ کوہفتہ والے دن ختم کرنا ہوتا تھا۔یہ وہ دور تھا جب نہ اے ٹی ایم ہوا کرتے تھے نہ ڈیبٹ کارڈز۔
انسانی ضرورت کے تحت دنیا کے بہترین دماغوں نے کام شروع کیا کہ کیسے 24گھنٹے تک اکائونٹ ہولڈر پیسے حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس نوعیت کی سب سے پہلی مشین ایک امریکی کاروباری شخصیت لوتھرسمجیان نے ایجاد کی جواس وقت محض چیک یا کیش جمع کرتی تھی۔ پھر1967 میں سکاٹ لینڈ کے ایک سائنسدان شیفرڈ بیرن نے کاغذ پہ ریڈیو ایکٹو سیاہی پڑھنے والا آٹومیٹڈ ٹیلرمشین بنائی۔
بارکلے بینک کی شمالی لندن برانچ میں 27 جون1967 کو سب سے پہلے اے ٹی ایم کی تنصیب کی گئی۔ اے ٹی ایم کی جو شکل آج ہمارے سامنے ہے اس کی ابتدا ایک امریکی شخص ڈونلڈ ویٹزل نے 1969 میں کی، یہ اے ٹی ایم پلاسٹک کارڈز پڑھ کے مختلف فنکشنز کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔رفتہ رفتہ یہ ٹیکنالوجی امیر ملکوں سے منتقل ہو کر ترقی پذیر ملکوں میں بھی پہنچ گئی اور اب اے ٹی ایم کی ایجاد نے پیسوں کا لین دین انتہائی آسان کر دیا ہے ۔ اے ٹی ایم کے بغیر بینکاری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ آج اس مشین کے ذریعے لوگ بینک کے اوقات سے بے فکر معمول کے کام جیسا کہ پیسے نکالنا، جمع کروانا یا کسی کو بھیجنا بآسانی کر سکتے ہیں۔ اے ٹی ایمز بلا شبہ بہت جدید ہیں لیکن وقت کی رفتار اور ذہین دماغوں کے ساتھ انسانی ضرورتیں جدت کی متقاضی ہوتی ہیں ، اس لیے اب دنیا ان مشینوں سے بھی آگے جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  محبت صرف فلموں میں نہیں ہوتی اس کا حقیقت سے بھی تعلق ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں