rana sana

ایک اور مسلم لیگی رہنما حکومتی ایما پر گرفتار ہوا ہے: اپوزیشن

EjazNews

رانا ثناء اللہ مسلم لیگ ن کے اہم ترین رہنمائوں میں سے ایک ہیں،فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے رانا ثناء اللہ وہاں پر اپنا ایک علیحدہ سیاسی گروپ رکھتے ہیں ۔ ان کے سیاسی اثرو رسوخ میں گزشتہ دور میں بہت اضافہ ہوا جب وہ پنجاب کے وزیر قانون بنائے گئے۔ اس دفعہ وہ صوبائی نشست تو ہار گئے تھے لیکن قومی اسمبلی کی نشست جیت گئے وہ حلقہ این اے 106سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔مسلم لیگی رہنما کو اے این ایف نے حراست میں لے لیا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے اس بات کی تصدیق بھی ہو چکی ہے کہ وہ زیر حراست ہیں۔
رانا ثناء اللہ کو سکھیکھی کے قریب سے حراست میں لیا گیا ہے ۔ وہ اپنی اہلیہ ، بیٹی، داماد اور 3بچوں کے ہمراہ گھر سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
ابتدائی معلومات کے تحت لیگی رہنما پر جو الزام عائد کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے ڈیرے پر اسمگلر پناہ لیتے ہیں اور ان کے اسمگلروں کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔
ان کی گرفتاری کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے اداروں کا استعمال افسوسناک امر ہے۔ آج اداروں کے مخالفین پر استعمال کی گھنائونی مثال قائم کی گئی ہے۔ کبھی نیب کبھی نیب ٹو اور اب اے این ایف۔ جبکہ مریم نواز کا ٹویٹ بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ کو جرأت مند موقف اختیار کر نے پر گرفتار کیا گیا ہے۔رانا ثناء اللہ کا اے این ایف سے کیا تعلق۔ مریم نواز ٹویٹر پر اپنی پروفائل تصویر تبدیل کر کے رانا ثناء اللہ کی تصویر لگائی ہے۔ ٹویٹر پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ کو جرأت مندانہ موقف اختیار کرنے پر گرفتار کیاگیا ہے۔
رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹویٹ کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں رانا ثناء اللہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سخت ترین ناقد رہے ہیں اور موجودہ حکومت کے بھی ناقدین میں مؤثر ترین آواز ہیں۔ یہ گرفتاریاں حکومتوں کی کمزوریاں اور مایوسی کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرکٹر آصف علی کی کمسن بیٹی انتقال کر گئیں

اپنا تبصرہ بھیجیں