ذہنی علالت،بیماریوں کی ابتداءہے

ذہنی علالت،بیماریوں کی ابتداءہے

EjazNews

ذہنی علالت صرف مغرب ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ اہل مشرق میںبھی کم نہیں، صرف دیکھنے والی نظر اور بغور جائزہ کی ضرورت ہے۔ ذہنی علالت کی وجہ سے نہ صرف اس میں مبتلا شخص مبتلائے آزاد ہو تا ہے بلکہ اپنے متعلقین کو بھی فکر میں مبتلا کرتا ہے اور معاشرے کے لیے بوجھ اور بعض دفعہ خطرہ بن جاتا ہے۔ کسی بھی شخص کو ذہنی علیل اس وقت سمجھا جاتا ہے جب کوئی شخص خود کو مریض سمجھنا شروع کر دے یا معاشرتی اعتبار سے معمول کے مطابق نظر نہ آئے حالانکہ طبی لحاظ سے اس میں آثار مرض نہ ہوں۔
کسی ملک کی ذہنی علالت کی کثرت و قلت کا انحصار اس ملک کی نگہداشت صحت کے طریقہ کار پر ہوتا ہوتا ہے۔ اگر وہاں فیملی ڈاکٹر جو ایک لحاظ سے ”دربان صحت” کا کر دار ادا کرتا ہے، عام بیماریوں کا علاج خود کرتا ہے اور خصوصی پیچیدہ بیماروں کو ماہرین کے پاس بھیج دیتا ہے مثلاً نفسیاتی مریضوں کو ماہر نفسیات کے پاس تو ذہنی علالت کی طرح اس آبادی میں کم رہتی ہے۔ اس کے برعکس بغیر ابتدائی چھان بین کے اگر ہر شخص خود ہی ماہر نفسیات کے پاس پہنچ جاتا ہے جیسا کہ اکثر مشرقی ممالک میں قاعدہ ہے تو وہاں ذہنی مریضوں کی کثرت ہو سکتی ہے۔
ذہنی علالت کے سبب میں ماحول اور موروثیت دونوں اہم ہیں۔ ماحول کے اثرات متعدد اور مختلف ہیں، کسی عزیز و اقارب کی موت افسردگی طاری کر سکتی ہے اگر متاثرہ شخص کو زندگی کی شاہراہ پر سہارا اور اعانت نہ ملے تو یہ شخص ذہنی طور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ جب ایک ہی طرح کے ناخوش گوار حالات سے لوگوں کو گزرنا پڑتا ہے تو ان پر مختلف قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں کچھ لوگ تو بسلامت ہوش و حواس ان حالات کو برداشت کر لیتے ہیں کچھ دوسرے لوگ اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ سکتے اور ذہنی بیمار ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ ذہنی طور پر تندرست نہیں ہیں تو یہ بیماریوں کا ابتدائی جال ہے۔ اس لیے اپنے ذہن کو زیادہ سے زیادہ پر سکون رکھیں۔

ذہنی طور پر صحیح اور صحت مند رہنے والوں میں چند حفاظتی عوامل کار فرما ہوتے ہیں، مثلاً معاشرتی و خاندانی سہارے، اقتصادی اعانت اور صحیح و ارزاں بآسانی دستیاب طبی نگہداشت کا انتظام۔ اگر اکثر افراد کو اس طرح کی حفاظتیں حاصل ہو جائیں اور ان کی معاشی و مجلسی ناہمواریوں کا ازالہ ہو جائے تو ذہنی علالتوں کاامکان گھٹ جائے گا۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ حفاظتی اقدامات سے حالات برداشت کرنے کی اہلیت میں اضافہ اور ذہنی علالت کے امکانات کو کم کیا جائے گا گو اس ضمن میں ڈاکٹروں کا دائرہ کار محدود ہے کیونکہ ان میں سے بہت سی باتیں معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسائل سے منسلک ہیں۔ اس ضمن میں یہ کوشش کی جائے کہ ذہن پر ناخوشگوار ار ڈالنے والے حالات کا سدباب ہو، مثلاً بچپن میں ماںاوربچے میں علیحدگی نہ ہو کیونہ اس سے نہ صرف ماں کی صحت پر بلکہ بچے کی صحت پر بھی ناشگوار جذباتی ان مٹ نقوش قائم ہو جاتے ہیں جو تادیر بلکہ بعض اوقات تمام زندگی برقرار رہتے ہیں اور شخصیت میں کجی کا باعث ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر خاندان کی دنیوی ضروریات کا اہتمام کیا جائے اور ہر ممکنمجلسی و معاشرتی اعانت فراہم کی جائے۔
یہ بات نہایت اہم ہے کہ کسی فرد میں فکرو پریشانی کیا ولین علامات و آثار کو شناخت کیا جائے اور انھیں پوری طرح مرض میں تبدیل نہ ونے دیا جائے اس طرح علاج آسان ہو جائے ۔ جن افراد میں علالت ذہنی پوری طرح نمایاں ہو گئی ہے انھیں طبی نگرانی میں رکھ کر علاج کیا جائے تاکہ دوا اور نفسیاتی کمکم سے انھیں معاشرہ میں مفید کردار ادا رکنے کا مکررر موقع فراہم ہو۔ عائلی طبیب چونکہ مریض کے خاندان اور ماحول سے بالعموم واقف ہوتا ہے اس لیے علالت ذہنی کے سدباب کے ضمن میں اولین طبی امداد فراہم کر سکتا ہے۔ نفسیاتی کمک اور سہارا دے سکتا ہے اوہ یہ بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس مرض میں درد کمر اور درد سر صرف ذہنی تناﺅ اور فکرو پریشانی کی وجہ سے ہے۔ یا کسی اور وجہ سے اور انھیں حسب ضروری ماہر ڈاکٹرکے پاس رائے ثانی کے لیے بھیج سکتا ہے۔
ذہنی تندرستی
کیا ذہنی صحت کا بھی ماحول اور معاشرے سے کوئی تعلق ہے ؟ صحت دراصل نام ہے مجموعی، جسمانی ، ذہنی اور سماجی ہموار ی کا۔ ہمی وں بھی کہہ سکتے ہیں کہ احساس قناعت خوشی ، تازگی ، تندرستی اپنی سلامت طبع پر یقین واثق اور ترقی یافتہ ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت ہی دراصل صحت کے صحیح مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔
ذہنی صحت پرتین عوام اثر انداز ہوتے ہیں یعنی موروثی خصوصیات، جسمانی کیفیت و حیثیت اور ماحول۔ زندگی کے ابتدائی سال یعنی سات سو نو برس تشکیل شخصیت میں نہایت اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔ 4سال کی عمر تک بچے کی جذباتی ضروریات، ان کا اظہاور اطمینان کا مرکز، ماں کی ذات ہوتی ہے، اس کے بعد باپ کی اہمیت میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے اور گردو پیش کے دیگر افراد سے روابط قائم ہوتے ہیں، مگر ماں کی اعانت اور دیکھ بھال کی اہمیت پھربھی سب سے زیادہ ہی رہتی ہے۔
شخصیت کی تشکیل میں سماجی حالات کی اہمیت کسی سے کم نہیں، اگر معاشرے میں سختی اور جابرانہ نظام کے اثرات ہیں تو گھر کا ماحول بھی سخت اور کشیدہ ہو سکتا ہے۔ معاشرتی جابرانہ طورو طریق سے بچے کا ذہنی ارتقا صحیح خطوط پر نہیں ہوتاے جو بچے ایسے ماحول اور سختیوں کے حالات میں پرورش پاتے ہیں اورنوجوانی میں بالکل مجبور اور بے اختیار زنگدی گزارتے ہیں وہ سماجی طور پرتنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں تشدد کے رجحانات بھی پروان چڑھتے ہیں اور وہ حقائق کی دنیا سے دور ہو کر اوہام اور وسوسوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
بچوں کی شخصیت پر مدرسہ کا ماحول بھی انمٹ اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگر مدرسہ میں ان کو صحیح توجہ ملے گی اور ان کی شخصیت کو ارتقا کے مواقع فراہم ہوں گے تو وہ ذہنی طور پر توانا انسان بنیں گے۔ اگر بے جا سختیاں ہوں گی تو ان کی شخصیت میں کجی رہ جائے گی۔ چنانچہ شخصیت میں ماحول یا معاشرہ کا اثرنہایت اہم ہے۔
اب یہ بات بلا خوف و تردید کہی جاسکتی ہے کہ پر تشدد طرز عمل، دراصل بچہ خود سیکھتا ہے او ر یہ پیدائشی نہیں ہوتا۔ ان بچوں کی زندگی کی محرومیاں اورا ن پر کئی سختیاں، منشیات کی دستیابی، خوردو نوش اور بودو باش کی ناہمواریاں سب اپنا اپنا اثر ڈالتی ہیں، اس لحاظ سے زندگی کی جھنجلاہٹیں اور محرومیاں سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ منشیات و مسکرات کی عادتیں بھی غریب و مفلوم الحال طبقوں میں عام ہیں، جہاں سماجی اقدار کی ٹوٹ پھوٹ او ر خاندانی نظام میں دراڑیں پڑ رہی ہیں جو لوگ خوش حال اور پڑھے لکھے طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی صحت بہتر اور عمر طویل ہوتی ہے۔ حالات بہتر ہوں تو ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔
چنانچہ یہ بات بلا خوف و تردید کہی جاسکتی ہے کہ لوگوں کی تندرستی اور ذہنی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے بشرطیکہ ہم ماحول کو بھی بہتر بنائیں اس ضمن میں سیاست دانوں اور اقتصادی ماہرین پر بھی نہایت اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اول الذکر کی ذمہ داری ہے کہ معاشرہ، جمہوری تہذیب، اختلاف رائے اور برداشت کی عادت ہو ، آویزشیں تشدد اور جارحانہ طرز عمل نہ ہو ورنہ تمام معاشرہ تباہ ہو جائے گا اورآئندہ نسلیں صرف متشدد لوگوں اور ڈاکوﺅں کی ہوں گی۔ اقتصادی ماہرین کی ذمہ داری ایک فلاحی صنعتی نظام کی تشکیل ہے تاکہ لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں، بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو اور وسائل کی فراہمی اور انصاف کے حصول کوی قینی بنایا جائے۔
حادثات زندگی اور ذہنی علالت
مختلف واقعات یا حادثات زندگی ، سوچنے، سمجھنے اور زندگی کی جانب رویہ میں انتہائی تبدیلی لا سکتے ہیں اور ان کا طرز عمل معاشرہ یا افراد کی جانب بالکل بدل سکتا ہے اس وقت مریض کے مزاج کوسمجھنے اور اسے سہارا دینے کی ضرورت ہے جس میں مشفق اہل خاندان، مخلص دوست اور ہمدرد فیملی ڈاکٹر کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ضرورت ہو تو ماہر نفسیات سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ ذہنی طور پر ہلا دینے والے واقعات و حادثات
بچپن میں
ماں باپ سے علیحدگی، سوتیلی ماں، قریبی رشتہ دارو ں یا دوستوں کی موت، آشنا ماحول چھٹ جانا، نقل مکانی، شفاخانہ میں داخلہ۔
لڑکپن میں
گھر یا ماں باپ سے دور چلے جانا، ذاتی مشکلات،دوستوں سے تعلقات میں پیچیدگیاں، جنسی مشکلات۔
نوجوانی میں
شادی، حمل ، خصوصاً پہلے معذور بچے کی پیدائش، نکاح ثانی، مشکل سسرال، ظالم ساس، ازدواجی ناچاقیاں، میاں کی گھر سے دوری (غیر ملک میں شوہر کا چلا جانا)، طلاق، بیروزگاری، ناجائز تعلقات کی وجہ سے احساس گناہ و خوف ، ملازمت سے برطرفی، رشتہ داروں کا نامہربان سلوک، معاشرہ سے کٹ جانا، محلہ داروںس ے کوئی ربط ضبط نہ ہونا، شریکوں کی شرارتیں ، ساتھ کام کرنے والوں کی سازشیں، کثیر الازدواجی۔
بڑھاپے میں
سبکدوشی، گھر میں پابند ہو جانا، پیاروں اور اعزہ کی اموات، جانے پہچانے ماحول سے دوری، پیر خانہ میں داخلہ، تنہائی، اقتصادی مشکلات۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت کیلئے مسلسل بیٹھے رہنے کے نقصانات

تحریر:ڈاکٹر سید اسلم

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں