dr hafeez sheikh

3جولائی تک ایمنسٹی سکیم میں توسیع، اس کے بعد بے نامی کمیشن حرکت میں آجائے گا

EjazNews

اسلام آباد میں وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات کے ہمراہ حکومتی معاشی ٹیم نےپوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی جس میں ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اثاثے ظاہرکرنے کی سکیم ختم ہونے کےبعد بے نامی کمیشن حرکت میں آئے گا۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ بجٹ کا پیش ہونا اہم ایونٹ ہوتا ہے، ان کا کہنا تھاہماری حکومت کی کوشش رہی ہے کہ ہر چیز میں شفافیت ہو،اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور سچ بولا جائے، بجٹ کا محور پاکستان کے عوام ہیں حکومت کے کسی بھی قدم، کسی بھی اچھائی کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ عوام کے لیے کتنی اچھی ہے۔ان کا کہنا تھا بجٹ کے پانچ بنیادی اور اہم نکات ہیں جب حکومت آئی تو ہم بحران کی صورتحال میں مبتلا تھے جس سے ہم نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، ملکی برآمدات خطرناک حدتک گرچکی تھیں، گردشی قرضے 31 ہزار ارب روپے اور غیر ملکی قرضہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ ایسے حالات میں درآمدات اور برآمدات کا خلا بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے روپے کی قدر ڈالر کی قدر گر رہی تھی۔ اس بیرونی خطرے کو قابو کرنے کے لیے ہم نے کچھ اقدامات کیے، جیسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے کے لیے درآمدات پرڈیوٹی بڑھائی گئی، اس بجٹ میں بھی یہی سلسلہ برقرار ہے۔جب حکومت سنبھالی تھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا جسے ایک سال کے دوران ساڑھے 13 ارب ڈالر تک لایا گیا ہے اور نئے بجٹ میں اقدامات تجویز دیے گئے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ کو کم کرکے 7 ارب ڈالر تک لایا جائے گا۔اس سے برآمدات اور درآمدات میں خلا کم ہوگا اور روپے پر بھی دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مشیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں کہاکہ ہم نے چین، متحدہ ارب امارات اور سعودی عرب سے 9 ارب 20 کروڑ ڈالر لیے، سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی موخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کی حاصل کی گئی۔ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک سے موخر ادائیگیوں پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سہولت حاصل کی گئی، قطر سے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے اور آدھی رقم وصول کی جاچکی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 6 ارب ڈالر کا 3پیکج جولائی کو منظور ہونے کا امکان ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک 3 ارب 40 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ایک ارب ڈالر آئندہ سال میں دئیے جائیں گے۔
عالمی بینک سے بھی آسان شرائط پر قرض کےحصول کیلئےکوشاں ہیں۔ہم نے فیصلہ کیا کہ حکومتی اخراجات کو انتہائی سخت انداز میں کم کیے جائیں، آنے والے سال میں 2 ہزار 9سو ارب ماضی میں لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں ادا کرنے ہیں۔یہ قرضے ہم نے نہیں لیے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے، جو بھی ریونیو جمع ہوتے ہیں اس میں سے 57.5 فیصد صوبوں کا حق ہے جس سے ہم آئینی طور پر نہیں بچ سکتے یہ ہمیں صوبوں کو لازمی دینا ہے۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ مسلح افواج کے بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا اور اس پر فوجی اخراجات میں اضافہ نہ کرنےپر آرمی چیف کا اقدام لائق تحسین ہے۔ہم نے پاکستان کے کمزور ترین طبقے پر حکومتی پیسہ خرچ کرنے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے سماجی تحفظ کے بجٹ کو 100 ارب سے بڑھا کر 191 ارب روپے کیا گیا، اس ضمن میں نقد رقم، صحت کارڈ وغیرہ فراہم کیے جائیں گے۔ ہم نے 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والےصارفین پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہیں پڑے گا جس کے لیے 216 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔قبائلی علاقے کے عوام کے لیے 152 ارب روپے مختص کیے گئے اور پی ایس ڈی پی میں 925 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں بلوچستان، جنوبی پنجاب کو توجہ دی جائے گی۔پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے صنعتوں کو بجلی اور گیس سبسڈی دی ہے،کاروبار میں اضافے کے لیے قرضوں کی کچھ ادائیگی حکومت کرے گا۔صنعتوں کو خام مال کی خریداری پر عائد درآمدی ڈیوٹی صفر کی جائے گی ، اس طرح سے 1650 ارب روپے سے زائد کی اشیا پر ڈیوٹی صفر کی گئی ہے۔برآمدات پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس عائد نہیں کی گیا لیکن اندرون ملک فروخت پر عائد کیا گیا ہے، 10 سے 12 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات بیرون ملک فروخت ہوتی ہیں تو اتنی ہی مقامی مارکیٹ میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ ہم صنعت کاروں کو ہر قسم کی مراعات دینے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور اندرون ملک سیلز پر ٹیکس ادا کریں۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ریونیو کا ہدف 5 ہزار 5 سو ارب طے کیا ہے لیکن امیر طبقے سے ٹیکس لیے بغیر کوئی چارہ نہیں جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ٹیکس دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب مل کر کوشش کریں گے کہ یہ ہدف پورا ہو کیونکہ یہ ہدف پورا ہوگا تبھی حکومت انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور صاف پانی سمیت دیگر شعبوں میں بہتری لائے گی جس کے لیے فنڈز ضروری ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے آج سے 10 سے پہلے ایف بی آر ڈیٹا کو نادرہ کے ڈیٹا سے ضم کرنے کا کہا تھا اور ہماری حکومت یہ کام 10 دن میں کرنے میں کامیاب ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں ریونیو کے اضافے میں جو اقدامات نہیں کیے گئے تھے وہ ہم نے ابتدائی 10 ماہ میں کیے۔
مشیر خزانہ نے عوام سے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے مستفید ہونے کی اپیل کی،انہوں نے کہا کہ بےنامی کمیشن بنایا گیا ہے جس کا کام ہوگا کہ ایمنسٹی اسکیم کے بعد جن جائیدادوں کا اعلان نہیں کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد بے نامی کمیشن حرکت میں آجائے گا۔ ایمنسٹی اسکیم میں 3 جولائی تک توسیع کررہے ہیں جس سے بینکنگ اوقات میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ایمنسٹی اسکیم میں توسیع سے متعلق مشیر خزانہ نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت نے شبر زیدی کی سفارش پر کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نیب نے سپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کو گرفتارکر لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں