poverty

بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی

EjazNews

بھوک کو سماج کا کوئی پیمانہ قبول نہیں۔ کوئی قانون اور کوئی انصاف کا ڈھانچہ قبول نہیں۔ حتیٰ کہ وہ زندگی بھی قبول نہیں جو اسے پروان چڑھائے۔ بھوک زندگی کی سب سے بڑی اور اہم دشمن ہے۔ اور ہماری حکومتیں نیوٹریشن پر توجہ دینے سے قاصر ہیں۔ حالانکہ حکمرانوں کو پتہ ہے کہ خوراک کی کمی نے آدھی آبادی کو کم وزن، کم خوراکی کا شکار چھوٹے قد کا بنا دیا ہے۔ پھر بھی حکمران ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے تو پھر قوم کے نونہال کیوں نہ موت کو گلے لگائیں اور اس دنیا سے کنارہ کر لیں ۔
کئی جسمانی عوارض بھی خودکشی کا ایک سبب ہیں۔ مثلاً ہائپر ٹینشن، ذیباطیس، سرطان، پارکنسن کی بیماری اور تھائیرائیڈ غدود کی بیماری۔ یہ بھی انسان میں خودکشی کو تحریک دیتی ہیں۔ اور انہیں موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہیں۔
مسلسل جنگ ، تنازعات اور قدرتی آفات کا سامنا کرنے والے ہمت ہار جاتے ہیں۔ بھارتی اور امریکی فوجیوں کو لیجئے مقبوضہ کشمیر میں فوجی بھگوڑوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ انہی میں سے بہت سے لوگ جنگ لڑ کر مرنے کی بجائے خود اپنی موت آپ مر ر ہے ہیں امریکہ اور دوسرے ممالک کے تنازعات میں الجھے ہوئے فوجی بھی موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ ان کا کوئی علاج نہیں، ہاں بچاﺅ کا ایک طریقہ ہے اور وہ ہے امن، امن کی فاختہ ان لوگوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچا سکتی ہے لیکن بھارت اور کوئی دوسرا ملک امن کی قیمت ادا کر نے کو تیار نہیں۔
منشیات کا استعمال موت کا ایک سبب ہے۔ بسا اوقات اس علت کے شکار شخص کے لیے زندگی اجیرن ہوجاتی ہے وہ ایک ایسے ماحول میں چلا جاتا ہے جہاں اس کا زندہ رہن اور مرنا خود اس کے لیے بھی کسی کام کا نہیں رہتا۔ ایسے لوگ اپنے اوپر کنٹرول کھو ل دیتے ہیں تب کسی بھی لمحے ان پر خودکشی کی کیفیت طاری ہوسکتی ہے۔
حالات میں اچانک تبدیلی مثلاً شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، نوکری سے محرومی یا طلاق۔ یہ صورتیں انسان کو جہاں خوشی دیتی ہیں وہاں اس کی ذہنی کیفیت میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں بھونچال آجاتا ہے۔ بالخصوص طلاق اور نوکری کی محرومی یا بچوں کی پیدائش میں تاخیر اور شادی بیاہ کے بعد روز روز کی بک بک ۔ اس صورت میں انسان اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیل دیتا ہے۔ کراچی میں ایک وزیر کی خودکشی کے پیچھے شادی اور اس کے بعد کی زندگی ہی تو ہے۔ سابق صوبائی وزیر میر ہزار خان بجرانی کا شمار پرانے سیاست دانوں میں ہوتا ہے انہوں نے اپنی پوری زندگی مزے سے گزاری۔ مگر دوسری شادی نے انہیں غم کی ایسی دلدل میں دھکیلاجہاں سے انہیں موت ہی بچا سکتی تھی۔ موت سے ایک روز پہلے بیوی نے صوبائی وزیر کی کاروں کی چابیاں حاصل کرلیں اور بیچارے وزیر کو دفتر سے کار منگوا کر دفتر جانا پڑا۔ کتنی بے عزتی ہو ئی ہوگی کہ گاڑیاں گھر پر کھڑی ہیں لیکن وزارت آنے کو کوئی کار میسر نہیں اسی لیے وزارت سے ایک کار اور مانگنا پڑی یہ تناﺅ ایک دن کا نہیں اس کے پیچھے کئی اور بہت سی کہانیاں نہاں ہیں۔ یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں گھر گھر کی کہانی یہی ہے۔ غریبوں کے اپنے مسائل ہیں اور امیروں کے اپنے۔ ایسے ہی ایک مسئلے میں میر ہزار خان بجرانی کو اپنی اہلیہ کو قتل کر نے کے بعد خود اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بچپن کے دکھ جوانی میں موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ قصور جیسے واقعات کے احساسات کی شدت جوانی میں لوگوں کو جیتے جی مار دیتی ہے۔ ایسے کچھ بچوں میں بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ خودکشی کے رجحانات بھی تقویت پکڑتے رہتے ہیں۔ ماں باپ سے محرومی بھی جذبات کو برانگیختہ کر دیتی ہے۔ یہ خودکشی کے تمام اسباب نہیں ہیں بلکہ کچھ موٹی موٹی باتیں ہیں جن کا ہم نے جائزہ لیا۔ چنانچہ جو بات ہم وثوق سے لکھ سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ ایسے آدھے سے زیادہ مردوں اور عورتوں کو علاج کی سرے سے کوئی سہولت میسر نہیں حکومت کا ذہنی امراض کی جانب سرے سے کوئی دھیان نہیں۔ ایک مینٹل ہسپتال تھا جو بربادی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ حکومت نے دماغی امراض کی اس سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ پر کوئی خرچہ نہیں کیا ۔ بلکہ اسے اپنی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں کیا۔ اسی لیے عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو ڈپریشن کے حوالے سے ایک خطرناک ملک قرار دیاہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہاں بڑھنے والے ذہنی دباﺅ کو قابو کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ ذہنی امراض میں مبتلا قوم مستقبل کے مسائل کا مقابلہ کر نے سے قاصر ہے۔
ایک اور سروے سے ایک انتہائی حیرت ناک نتائج سامنے آئے جب پتہ چلا کہ مردوں اور عورتوں میں خودکشی کا تناسب 2-1کا ہے یعنی 66فیصد مرد اور 33فیصد خواتین ہیں۔ سال بھر میں پاکستان کے 35شہروں میں 3سو لوگوں کی خودکشی کا جائزہ لیا گیاتو پتہ چلا کہ اکثریت کی عمریں 30سال سے کم تھیںجبکہ مرنے والوں میں غیر شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورتوں کی تعداد زیادہ تھی شاید بیوی کی عدم موجودگی غیر شادی شدہ مردوں کی موت کا سبب بن گئی۔ جبکہ شادی شدہ افراد نے اپنا غم عورتوں کو دے کر اپنی جان بچالی۔

یہ بھی پڑھیں:  اقلیتوں کیخلاف ریاستی امتیاز کا مرتکب بھارت ہے

فیڈرل کاستروکے سب سے بڑے بیٹے فیڈرل کاسترو فی دلتو نے خودکشی کر لی وہ 68برس کے تھے۔ اور طویل عرصے سے ذہنی دباﺅ کے مرض میں مبتلا تھے۔ ذہنی دباﺅ نے ان کی جان لے لی۔ ممبئی کی معروف اداکارہ سروج پنجولی کا نام بھی ایک خودکشی میں آگیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی مرحوم گرل فرینڈ جیا خان کو خودکشی پر اکسایا۔ اور ان کے اکسانے پر جیا خان نے موت کو گلے لگا لیا۔ اسی طرح کے مقدمے میں امریکہ نے پچھلے دنوں ایک نوجوان لڑکی کو لمبی سزائے قید پر جیل بھجوا دیا۔ اس پر اپنے بوائے فرینڈ کو خودکشی پر اکسانے کا الزام تھا۔
عالمی دنیا میں بے شمار امیروں نے بھی خودکشی کی اور بہت سے موسیقاروں اور کھلاڑیوں نے بھی موت کا دامن تھام لیا۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو جنوری کے دوسرے ہفتے میں چترال کے گاﺅں گھو کھیر میں حبیبہ جمال نامی 22سالہ طالبہ نے خودکشی کر لی۔ اسی طرح یو ٹیوب نے امریکہ کے معروف ویڈیو بلاگر لوگان پاﺅل سے ناطہ توڑ لیا جب اس نے جاپان میں ایک نوجوان کی خودکشی کی ویڈیو اپ لوڈ کی۔ اسے گوگل اور یوٹیوب نے اپنی فہرست سے خارج کر دیا۔
وہاڑی میں جنوری کے پہلے ہفتے میں ایک طالب علم نے نقل مارنے کے الزام میں امتحان دینے سے تین سال سے روکنے پر یہ دنیا چھوڑ دی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کے طالب علم شاہد پر الزام تھا کہ وہ نقل مار رہا ہے۔ یہ غم وہ سہ نہ سکا۔اور اس نے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ جنوبی کوریا کے معروف پاپ سنگر shineeنے بھی خودکشی کرلی۔
فیصل آباد میں ایک جواں سال عورت نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ 32سالہ شازیہ سلیم کی اہلیہ تھیں۔ لیکن روز کی ان بن نے اسے مرنے پر مجبور کر دیا۔ زندگی کی امنگ ختم ہو چکی تھی۔ ادھر کراچی میں دسمبر 2017ءمیں لیاری میں ہفتے کی صبح ریسکیو ٹیم نے 55سالہ محمد آصف کی لاش کو اتار کر ہسپتال پہنچا دیا۔ حافظ آباد میں پچھلے سال دسمبر میں پنڈی بھٹیاں میں ایک عورت نے اپنے تین بچوں کو جھنگ نہر میں پھینک دیا او خود بھی خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ فیصل آباد میں 26سالہ عدنان مقصود نے بے روزگاری سے تنگ آکر زندگی پر موت کو ترجیح دی۔ ادھر 21نومبر کو کراچی میں ایک شخص نے کورنگی ایریامیں بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کے بعد خود بھی خودکشی کرلی۔
2015ءاور 2016ءمیں 35شہروں میں خودکشی کے واقعات کا ایک جائزہ لیا گیا۔ تب 1473 کیسز میں سے 673کیسز سندھ میں 645پنجاب میں 121 خیبر پختونخواہ میں اور 24کیسز بلوچستان میں ہوئے ۔ ان کی بڑی وجوہات میں بے روزگاری ، بیماری ، غربت ، بے گھر ہونا اور خاندانی تنازعات تھے۔ بچوں میں خودکشی کے رجحانات کا ایک انتہائی سبب دوران پیدائش بچے کے ماں باپ کے آپس کے جھگڑے ہیں ماں باپ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ دوران حمل بچہ سب کچھ محسوس کر رہا ہے۔ اس لڑائی جھگڑے کے اثرات ان کے ناپختہ ذہنوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں ایسے بچے جرائم کی دلدل میں بھی پھنس سکتے ہیں یہ اپنا انتقام دوسروں سے لیتے ہیں اور خود بھی خودکشی کر سکتے ہیں۔ یہ رجحانات ایسے بچوں میں پائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں ٹین ایجرز میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک خطرناک علامت ہے۔ اور یہ پچھلے چار پانچ سال سے بڑھتا جارہا ہے۔ جب کراچی میں 13سالہ بچے نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی وہ امتحان میں ناکام تھا۔ جبکہ ایبٹ آباد میں عبدالمبین نے سکول میں تشدد سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔ اسی طرح اسلام آباد کے 18سالہ نوجوان خورشید نے اپنے باپ کے پستول سے خودکشی کرلی۔ غریب آباد میں انٹری ٹیسٹ کے جھگڑے پر 17سالہ شان نے زہریلی گولیاں کھا لیں۔اسی طرح پڑھائی میں عدم دلچسپی پر باپ کلیم کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد یعقوب نے خودکشی کرلی۔ باپ نے پولیس سٹیشن میں بتایا کہ اس کا بیٹا سکول سے بھاگ جاتا تھا۔ اس نے ڈانٹا تو بیٹے نے خودکشی کرلی۔ امتحانوں اور پڑھائی کا دباﺅبچوں میں خودکشی کی ایک خطرناک وجہ ہے۔
دنیا کی امیر ترین خودکشی
جرمنی کے معروف صنعت کار ایڈوف مرکل کا شما ر امیر ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔ 2008ءمیں ایک غیر ملکی جریدے نے اسے دنیا کا 94واں امیر ترین شخص قرار دیا۔ اس وقت اس کے ملازمین کی تعداد 1لاکھ سے زیادہ تھی۔ 74سالہ صنعت کار اپنے اس کاروبار کو سنبھالنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ وہ 4بچوں کا باپ تھا اور جرمنی کے جنوب مغرب حصے میں خوبصورت گھر میں رہائش اختیار کر رکھی تھی اسے سکائینگ اور کلائمنگ کا شوق تھا۔ اسے 2005ءمیں جرمنی کی معیشت میں اہم حصہ ڈالنے پر جرمن فیڈرل کراس آف میرٹ بھی ملا۔ اور تھوڑے سے عرصے میں اس کے حصص 210 یورو فی حصص سے بڑھ کر ایک ہزار تک پہنچ گئے۔ مگر ایک روز 6جنوری 2009ءکو جرمن پولیس کو اس ارب پتی ایڈوف مرکل کی لاش اس کے شہر کے قریبی ریلوے لائن کے پاس ملی۔ وہ عاجز اور انکساری سے کام لیتا تھا۔ اس کی طبیعت میں دھیما پن تھامگر معلوم نہیں اس نے خودکشی کیوں کی۔ دنیا یہ جانتی ہے کہ اس کے کاروبار میں 40کروڑ یورو کا خسارہ ہوا باوجود محنت کے وہ اپنی عمارت بچا نہ سکا۔ امیر عام طور پر ایسی صورت میں ٹیکس پیئرز کی دولت کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ ایک روز اخبارات میں سرخیاں لگائیں ارب پتی پھانک ہو گیا۔ کیا وہ سرکاری پیسے کی مدد سے ایک اور جوا کھیلے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ان دو سرخیوں سے دلبرداشتہ ہو کر ایڈووف مرکل نے ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔
پیٹر ڈف Peter Duff بھی ایک امیر ترین آدمی تھا۔ وہ شراک کمپنی کا مالک تھا، 80سال عمر تھی اس کی بیوی کی عمر بھی 70سال تھی دونوں سرطان کے مریض تھے۔ اور ایک روز ان دونوں نے اپنی زندگیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ زیوریخ میں زیر علاج تھے ۔ایک روز دونوں میاں بیوی نے Dorsetمیں واقع اپنی بیٹی کے خوبصورت محل میں کچھ لمحات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان دونوں نے اس روز خوب انجوائے کیا اور 27فروری کو انہوں نے اچانک خودکشی کرلی۔ یہ امیر ترین جوڑا تھا۔ جس نے اب تک خودکشی کی ہے۔
Rai jane Huaiکا شمار معروف سافٹ وئیر انجینئرز میں ہوتا تھا۔ وہ 25لاکھ ڈالر کے گھر میں رہائش پذیر تھا۔ گاڑی چل رہی تھی۔ اور منزل کی جانب رواں دواں تھی اتنے میں گول چلنے کی آواز آئی اور رے جین نے چلتی گاڑی میں چھاتی میں گولی مار کر خودکشی کرلی۔ اس کی عمر محض 52برس تھی۔ 52برس کی عمر میں ہی ہارورڈ وار تھنگ ٹن نے خودکشی کی۔ پہلے اس نے اپنی پارٹنر جولی کو گولی ماری اور پھر خود کو قتل کیا۔ وین پائے تائیوانی بروکریج ہاﺅس کا مالک تھا۔ ا س پر دو چار الزامات لگے لوگوں نے سمجھایا غم نہ کر پاکستان میں تو روز ہوتا ہے۔ مگر اس نے پچپن سال کی عمر میں انگزائٹی سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔
جان لارنسن اور اس کی اہلیہ انتہائی امیر لوگ تھے۔ ان کے گھر کا نام The old Rectory the Old stablesدی اولڈ اسٹیبلس The Old Stablesتھا۔47سال کی عمر تک تو دونوں کی زندگی بہت خوشگوار رہی۔ پھر اچانک دونوں میاں بیوی کو بیماریوں نے دبوچ لیا۔ اور انہوں نے گولیاں کھا کر اکٹھے خودکشی کرلی۔
شہزادہ چارلس کے ایک دیرینہ دوست کا نام پاﺅل کاسل تھا۔ وہ سلف میڈبزنس مین تھا۔ مگر دل کا مریض تھا۔ اسے ٹیومر بھی تھا چنانچہ 54برس کے پاﺅل نے خودکشی کرلی۔ 35سالہ جوناتھن ریتھ کا شمار معروف ینگ ارب پتیوں میں ہوتا تھا۔ وہ دو بچوں کا باپ تھا۔ اور بچوں کے ساتھ بہت انجوائے کرتا تھا۔ لوگ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایک خوشگوار زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس پر کسی قسم کا دباﺅ نہ تھا۔ اس کا اپنے باپ کے ساتھ مشترکہ کاروبار تھا۔ جس کی مالیت 3کروڑ پاﺅنڈ یعنی ساڑھے چار ارب روپے کے لگ بھگ تھی۔ ایک روز اس کے باپ پر اچانک سٹروک کا حملہ ہوا۔ باپ کی بیماری کا جھٹکا 35سالہ جواں ہمت جوناتھن برداشت نہ کر سکا اور خودکشی کرلی۔
پیٹرسن سمیڈلے کروڑ پتی تھا،کرسٹی سمیلڈلے کے ساتھ اس کا ساتھ 33برس کا تھا ایک ایک لمحہ انہوں نے دل سے انجوائے کیا۔ ایک دوسرے کے لیے ان کے پاس پیار کے سوا کچھ نہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پیٹر انتہائی مہذب شخص تھا کوئی نہیں جانتا تھا کہ پیٹر کو اندر ہی اندر کیا غم کھائے جارہا ہے وہ Motor Neuronنامی ذہنی امراض کا شکار تھا۔ یہ ایک اعصابی مرض ہے۔ وہ سوئزرلینڈ میں کلینک پر موجود تھا کہ اس نے اس مرض سے جان چھڑانے کے لیے کلینک میں ہی گولیاں کھا لیں۔
مائیکل مارین کروڑ پتی تو تھا ہی بہترین کو ہ پیماﺅں میں بھی اس کا شمار ہوتا تھا ماﺅنٹ ایورسٹ کی فلک بوس چوٹی سر کرنے والوں میں اس کا نام بھی شامل ہے ۔ و ہ دنیا کی سات دوسری چوٹیوں کو بھی سر کر چکا ہے۔ وہ 23لاکھ ڈالر کے گھر میں رہتا تھا۔ مگر ایک روز پتہ نہیں کیا ہوا کہ اس کے کاروبار کو دھچکا لگا اور گرتے گرتے اس کا بزنس صفر پر آگیا اس کے اکاﺅنٹ میں 90لاکھ ڈالر تھے جو صرف 50ڈالر پر آگئے۔ اس نے گھر کرائے پر لے رکھا تھا۔ سواسترہ ہزار اس کی ماہانہ قسط تھی۔ تب بینکوں نے اس پر بہت دباﺅ ڈالا فونیکس کورٹ نے اسے 21سال کی سزا سنائی۔ تب غصے میں اس نے اپنے 10ہزار مربع فٹ پر محیط 23لاکھ ڈالر کے مکان کو آگ لگا دی۔ وہ 21سال کے لیے جیل گیا مگر 53برس کی عمر میں خودکشی کر کے اس سزا سے آزاد ہوگیا۔
Eli m. Black ایک یہودی نژاد امریکی بزنس مین تھا۔ اس نے شیرلے لوبل نامی ایک آرٹسٹ سے شادی کی۔ ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا۔ ا س کے کاروبار نے ترقی کی اور اپولو مینجمنٹ کے نام سے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اپنے کاروبار کوبڑھانے کے لیے ستر کی دھائی میں اس نے ہنڈراس کے صدر اوس والڈو لوپاس کو رشوت دے ڈالی۔ وہ کیلو کی تجارت کرتا تھا۔ اور اس نے کیلوں کی تجارت پر ٹیکس ختم کرنے کے لیے 25لاکھ ڈالر رشوت دے ڈالی۔ اس کی خبریں منظر عام پر آئیں۔ تب دکھی دل مگر بد عنوان ایلی ایم بلیک نے بلند و بالا بلڈنگ کی 44ویں منزل سے چھلانگ لگا کر موت کو گلے لگا لیا۔
23دسمبر 2017ءکو کینیڈا کے ارب پتی بیری اور ہنی شرمینز نے خودکشی کرلی۔ انہوں نے خودکشی سے پہلے ٹورنٹو میں اپنا 54لاکھ کے مکان پر برائے فروخت لگا دیا تھا ان کا کاروبار تقریباً 4ارب ڈالر کا تھا پورے کینیڈا میں اس کی شناخت تھی ہسپتالوں ، اولڈ ایج ہوم اور سکولوں کو کروڑوں ڈالر کے عطیے دیتا تھا۔ مگر 2016ءمیں اس نے محض 66ہزار ڈالر دئیے۔ کہا جاتا ہے کہ شرمن فیملی فاﺅنڈیشن کے اکاﺅنٹس میں محض 10لاکھ ڈالر ہی بچے تھے۔ ورنہ اس نے ایک مرتبہ یہودیوں کی ایک تنظیم کو 3کروڑ 90لاکھ ڈالر تحفے میں دے دئیے تھے۔ خیراتی اداروں کے حوالے سے اس کا بڑا نام تھا۔ وہ 4بچوں کا باپ تھا۔ اور زندگی کے آخری ایام میں ان پر کئی مقدمات بنے۔ اور آخر کار اس جوڑے نے خودکشی کرلی۔ اس کے جنازے میں 10ہزارلوگ ماتم کناں تھے۔ کینیڈا کے وزیراعظم ٹروڈو اور ٹورنٹو کے مئیر بھی اس فراخ دل شخص کے جنازے میں شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا گوشت کھانا ضروری ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں