marriage

دوسری شادی کیلئے مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری

EjazNews

لیاقت علی میر نے 2011میں دلشاد بی بی سے پسند کی شادی کی۔ تاہم 2013ءمیں پہلی بیوی اور مصالحتی کونسل کو بتائے بغیر دوسری شادی رچا لی۔ جس کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ مجسٹریٹ اسلام آباد نے مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر شادی کرنے پر علی میر کو ایک ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانہ کیا ۔لیکن کیس جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہنچا تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے لیاقت علی کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوسری شادی کیلئے مصالحتی کونسل کی اجازت کو ضروری قرار دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے 12 صفحات پر مشتمل ایک فیصلہ کیا گیا ہے۔ فیصلے کشمیر سے تعلق رکھنے والے لیاقت علی میر کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوسری شادی کے لیے مصالحتی کونسل کی اجازت کو ضروری قرار دیا گیا۔عدالت نے کہا کہ بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر سزا ہوگی۔مذکورہ فیصلے میں کہا گیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے مطابق اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانہ ہوگا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے کشمیر کا باشندہ ہونے کی وجہ سے لیاقت علی کو بری کیا تاہم جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہو گا۔اس موقع پر عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہلی بیوی کی اپیل پر لیاقت علی میر کی بریت کو کالعدم قرار دیتی ہے، ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں، نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے، عدالت کا مکمل دائرہ اختیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  12ربیع الاول کو آزادی مارچ سیرت طیبہ کانفرنس میں تبدیل ہوگا:مولانا فضل الرحمن

اپنا تبصرہ بھیجیں