پاکستان کرکٹ ٹیم

ورلڈ کپ 2019ء میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی

EjazNews

انگلینڈ اور ویلز کے میدانوںمیں30مئی شروع ورلڈ کرکٹ کپ کے مقابلوں میں ہر روز ایک سنسنی پیدا ہو رہی ہے ۔ کون سی ٹیم کیا کر جائے گی کسی کو پتہ نہیں ،بنگلہ دیش اور افغانستان سے کی ٹیموں نے اس دفعہ بہترین کھیل پیش کر کے ناقدین کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔ورلڈ کپ 2019ء 46دن تک جاری رہنا ہے۔ اور اس کے میچز انگلینڈ اور ویلز کے میدانوں میں کھیلے جانے ہیں بس بارشیں کم رہی تو مزہ دوبالا رہے گا ورنہ پویلین میں بیٹھ کر بغیر میچ دیکھے لوٹنے کا دکھ کا اندازہ ٹی وی کی سکرین والوں کو کیا۔آسٹریلیا اب تک سب سے زیادہ پانچ مرتبہ ورلڈ کپ کی فاتح رہ چکی ہے جبکہ بھارت اور ویسٹ انڈیز دو دو مرتبہ فائنل میں کامیابی حاصل کر سکیں ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا نے ایک ایک مرتبہ فائنل میں ٹرافی اٹھائی ہے۔
14جولائی کو لارڈز میں فائنل میں جیتنے والی ٹیم کو چالیس لاکھ ڈالر جب کے دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو بیس لاکھ ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔مجموعی طور پر اس سال آئی سی سی اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ٹیموں کو ایک کروڑ ڈالر کے نقد انعامات تقسیم کرئے گی۔
اس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی ہے اپنے پہلے میچ میں جس طرح سے انہوں اوپننگ کی اور انڈیا کے ساتھ کھیلتے ہوئے جس طرح میچ ہارے یہ ٹیم اور پاکستانی شائقین کیلئے پریشان کن بات تھی حالانکہ سرفراز وہ کھلاڑی ہیں جب انہیں ٹیم میں کھیلنے کے لیے موقع دیا گیا بطور اوپنر انہوں نے49رنز بنائے ،پانچ کیچ لے کر پاکستانی ٹیم کی جیت میں نمایاں کر دار ادا کیااور میچ آف دی میچ بن گئے ۔2016ء میں سرفراز ٹی ٹونٹی ٹیم کے کپتان بنایا ۔ سرفراز کی زیر قیادت 2017ء میں پاکستانی ٹیم نے آئی سی سی چیمپینز ٹرافی جیتی ۔ پاکستان ٹی ٹونٹی میں نمبر ایک پر ہے۔ سرفراز کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے انڈر 19ورلڈ کپ بھی جیتا۔ 2019ء میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں سرفراز کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے کپتان تھے اس ٹیم نے ان کی قیادت میں پاکستان سپر لیگ کا کپ جیتا ۔ سرفراز اپنے کیرئیر کا دوسرا ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔
لیکن 2019ء کے ورلڈ کپ میں اسی کپتان کے زیر قیادت کھیلنے والی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن ترین ہے ۔ دوسری اس ٹیم میں آدھے کھلاڑی تو پہلی دفعہ ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں اب جس ٹیم کے آدھے کھلاڑی پہلی دفعہ ورلڈ کپ کھیل رہے ہوں ان سے آپ یہ امید رکھیں کہ وہ ورلڈ کپ جیت لائیں گے یہ کوئی ٹھیک بات نہیں لیکن ہم یہ امید تو رکھ سکتے ہیں کہ وہ اچھے کھیل کا مظاہرہ کریں گے جو کہ وہ نہیں کر پارہے۔ اس ٹیم میں شعیب ملک، وہاب ریاض، محمد حفظ اور حارث سہیل پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں۔ لیکن اگر ان تجربہ کار کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھی جائے تو مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔اگر آپ بائولنگ اور فیلڈنگ کی جانب دیکھیں تو ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جانے والی سیریز اور ورلڈ کپ میں بھی آپ کو مایوسی نظر آئے گی۔اب ٹیم نے جو سخت ترین محنت سے تیاری کی تھی وہ ان مقابلوں میں نظر آچکی ہے۔
اب پاکستان کا اگلے رائونڈ تک کوالیفائی کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔ ٹیم ورلڈ کپ سے پہلے ہی پاکستان لوٹتی نظر آرہی ہے۔ اب ہمیشہ کی طرح ٹیم میں اکھاڑ پچھا ڑ کی بجائے اگر طریقے سے ٹیم کو لے کر چلا جائے اور ان میں سے جن کی کارکردگی مایوس کن ترین رہی ہے ان کی جگہ نئے لوگوں کو موقع دیا جائے تو کیا ہی بہتر ہوگا ۔ اس طرح نیا اور پرانا تجربہ مل کر کام کرتا رہے گا۔ ہار جیت ہوتی رہتی ہیں لیکن اگر آپ افغانستان اور بنگلہ دیش کی جانب دیکھیں تو وہ کھیل کر ہارے ہیں اور ہماری ٹیم کی جانب دیکھیں تو وہ اچھے کھیل کا مظاہرہ کر ہی نہیں سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  صاحب کردار شخصیت :حسین شہید سہروردی

تحریر:عثمان

اپنا تبصرہ بھیجیں