Liver

جگر کی حفاظت کیجئے

EjazNews

آپ کا جگر ایک نہایت کارآمد اور جسم کے لیے نہایت کارگزار خدمت گزار ہے اس کی دیکھ بھال کرنا نہایت اہم فرض ہے۔ انسان کی تمام زندگی جگر نہایت اہلیت سے اپنا کام سرانجام دیتا ہے مگر بعض دفعہ بعض وجوہ سے اس کو ضرر پہنچ سکتا ہے جن کے متعلق علم ہونا ضروری ہے تاکہ ان کا تدارک بروقت کیا جاسکے۔ یہ درست ہے کہ جگر کے خلیات میں اپنی مرمت کی نہایت اہلیت ہے مگر بعض زہر جگر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں ان میں سے بعض اشیائے بے ہوش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور بعض صنعتی استعمال میں آتی ہیں۔
جگر کو سب سے زیادہ ضرر غذائی ذریعہ سے پہنچتا ہے اگر غذا میں لحمیات کی قلت ہو اور ضروری امینو ایسڈ نہ ملیں تو جگر مجروح ہو جاتا ہے اس کے نتیجہ میں کہبت جگر (سروسس) کا مرض واقع ہو جاتا ہے۔
شراب نوشی سے بھی جگر کو سخت نقصان پہنچتا ہے اور نتیجتاً کہبت جگر (سروسس) ہوجاتا ہے ۔ شراب نوشی دو طرح سے نقصان پہچاتی ہے اول تو شراب کی الکوحل خود مخزش اور ضرر رساں ہے، دوسری یہ کہ شراب نوشوں میں غذائی قلت بھی ہو جاتی ہے جو صورتحال کو مزید خراب کر دیتی ہے۔ اگر غذا میں مناسب مقدار میں حیاتین نہ ہوں ، مثلاً حیاتین ”ب“ مجموعی طور پر نہیں ہوں گے تو پھر بھی جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس حیاتین کی قلت رفع کرنے کے لیے پتی والی ترکاریاں اناج، پھلیاں، دالیں ، دودھ اور انڈے کھائے جائیں۔
جن افراد میں اشتہا مناسب نہیں ہوتی، مثلاً حاملہ خواتین اگر ان کی غذائی ضروریات کو مناسب خیال نہ رکھا جائے تو ان کے جگر کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے جگر کو ضرر پتے میں سنگریزوں سے بھی ہوجاتا ہے خصوصاً جب وہ صفرا کے بہاﺅ میں رکاوٹ پیدا کریں۔
جگوکو سب سے زیادہ ضرر ان وائرسی عفونتوں سے پہنچتا ہے جو سوزش جگر کا باعث ہوتی ہیں یعنی سوزش جگر ”الف اور سوزش جگر ”ب“ سے یہ دونوں سنگین بیماریاں ہیں جن میں سوزش جگر ”ب“ کا اگر صحیح طرح علاج نہ کیا جائے تو آئندہ عمر میں سرطان جگر کا باعث ہو سکتی ہے۔
ان دونوں عفونتوں سے تحفظ کے لیے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا انتہائی ضرور ی ہے۔ اس مقصد کے لیے جسم سے خارج ہونے والے مواد، بول و براز کو مناسب طرح ٹھکانے لگادیا جائے اس مرض میں مبتلا مریض کے سامان اشیاءعلیحدہ رکھنا اور مریض کو دوسرے لوگوں سے دو رکھنا، ٹیکے لگواتے وقت ایسی سوئی استعمال نہ کرنا جو کسی دوسرے مریض میں بھی استعمال کی گئی کسی دوسرے آدمی کا خون اور خون کے دیگر عروق چڑھاتے وقت تمام مناسب حفاظتی اقدامات کرنا ۔ اس زمانہ میں ان عفونتوں سے تحفظ کے لیے حفاظتی ٹیکے بھی مروجہیں، جن کا استعمال مفید ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن کا واسطہ مریض سے پڑتا ہے مثلاً نرسیں ، بیمارکے ساتھ رہنے والا، تیمار داری کرنے والے ، علاج کرنے والے، ۔ ایک شمار کے لحاظ سے امریکہ کے 4فیصد ڈاکٹر سوزش جگر ”ب“ کی عفونت میں ملوث ہیں۔
جگر کیحفاظت کیلئے مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ تمام احتیاطیں ضروری ہیں جو انسانی جسم کی حفاظت کے لیے بالعموم ضروری ہیں، مثلاً متوازن غذا، ورزش، آرام و کام میں مناسب وقفے مشاغل اورزندگی کی طرف ایک صحت مندانہ طرز عمل اور نقطہ نظر۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ سوزش جگر ”ب“ نے موجودہ دنوں میں نہایت اہمیت اختیار کرلی ہے اور اس ضمن میں عوام الناس میں علم و شعور پیدا کرنے کے لیے ملک بھر میں اور خاص طور پر دیہات میں طبی میلے منعقد کیے جائیں تاکہ لوگ اپنی صحت خود اپنے آپ درست کرنے کے طریقوں سے آشنا ہو جائیں کیونکہ یہی راہ نجات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں میں انفیکشن : حفاظت صحت کے اصولوں پر عمل کیجئے
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں