حکومت بمقابلہ اپوزیشن،

حکومت بمقابلہ اپوزیشن، عوامی مفاد میں

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔اس اجلاس میںوزیراعظم نے کابینہ ارکان سے کہا کہ بجٹ منظوری کی ٹینشن نہ لیں، بجٹ ہم منظور کرالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ارکان کسی بلیک میلنگ میں نہ آئیں، اپوزیشن آپ کو کسی جگہ بولنے نہیں دیتی تو آپ بھی بولنے نہ دیں۔
اجلاس میں وزیرعظم کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن احتجاج کرناچاہتی ہے تو سو دفعہ کرے لیکن عوام کی زندگی میں خلل ڈالا گیا تو قانون حرکت میں آئے گا۔ان کا کہنا تھا میں نے ڈرنا نہیں سیکھا اور نہ میں بلیک میل ہوتا ہوں، آپ کو ایڈوائس کرتا ہوں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیں۔
اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات نے پریس کافرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں احتساب سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ، ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے ساتھ ملکی دفاع جڑا ہوا ہے، سب نے دیکھا سپیکر کو کس طرح یرغمال بنایا گیا، کرمنلز پارلیمنٹ کی راہداری میں گھومنا پھرنا چا ہتے ہیں، تو اس کا استحقاق سپیکر کے پاس ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر طنز کیا کہ آپ کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ نہ منظور کرنے دینے والے پارلیمنٹ کو یرغمال بنانے والے سیاسی قیدی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جو کرپشن کیسز بھگت رہے ہیں انھیں پولیس سکواڈ دینے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ سپیکر سندھ اسمبلی کو نیب نے پکڑا ہے اس سے استعفیٰ کیوں نہیں مانگتے۔ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کیسز میں اندر ہونے والے سیاسی قیدی کا لیبل لگا رہے ہیں قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے، منی لانڈرنگ، جعلی ا کائونٹس میں ملوث رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔
ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہباز ریف 45بلین روپے ذاتی تشہیر پر خرچ کئے، شہباز شریف قوم کو زہر کے ٹیکے لگا کر گئے ، بھائی کے جہاز پر سیر و تفریح کرتے رہے، یو این میں نواز شریف راجکماری مریم صاحبہ بیٹی کو بھی لے گئے۔پنجاب حکومت ان کی عیاشیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے۔
وزیراعظم کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے جائیں گے اور وہ سیون سٹار ہوٹل میں نہیں ٹھہریں گے بلکہ سفیر کے گھر میں رہیں گے۔ فردوش عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے گھر میں بننے والی سکیورٹی دیوار انہو ں نے ا پنی ذاتی آمدن سے بنوائی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میںاپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل کے اجلاس میں میرے الفاظ کو حذف کرنے کو کہا گیا جو مناسب نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ دروغ گوئی اور غلط بیانی غیر پارلیمانی الفاظ نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نےاقتدار سنبھالا تو ملک کی معاشی حالت خراب تھی، پرویز مشرف دور میں 20،20گھنٹے بجلی نہیں آتی تھی لیکن نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں 11ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی اور ملکی معیشت کو ٹھیک کیا گیا۔ابھی یہ تقریر جاری تھی لیکن تقریر کے دوران مسلسل شور ہوتا رہا ،اور ڈپٹی سپیکر نے تمام اراکین سے نظم وضبط کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حمزہ شہباز شریف کی نیب پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو

اپنا تبصرہ بھیجیں