Hajar Aswad

حجر اسود کی فضیلت

EjazNews

یہ ایک کالا پتھر ہے جو بیت اللہ شریف کے ایک گوشہ میں لگا ہوا ہے اور اس کے چاروں طرف چاندی کا خول ہے۔ یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا گویا ہاتھ ہے جسے خدا سے محبت ہے وہ اس سے مصافحہ کرے۔ گویا خدا سے مصافحہ کرتا ہے۔ جس نے اس کو بوسہ دیا اس نے اللہ تعالیٰ کے دست مبارک کو بوسہ دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وفاداری اور جاں نثاری کی کسوٹی ہے۔یہاں کھرا اور کھوٹا پرکھااتا ہے اور برے بھلے کی تمیز ہوتی ہے۔ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: حجر اسود جنت سے اُترا ہے، یہ دودھ سے زیادہ سفید تھا، لیکن انسانوں کے گناہوں نے اسے کالا کردیا۔
رسول اللہ ﷺنے اس پتھر کے بارے میں یہ بھی فرمایا
ترجمہ: خدا کی قسم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا اس حال میں کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جس سے دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے وہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے خلوص دل سے چھوا ہے ۔
طبرانی کی روایت:
قیامت کے دن حجر اسود اور رکن یمانی ایسے حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کی دوآنکھیں اور دو زبانیں اور دو ہونٹ ہوں گے جس کے ذریعہ وہ بوسہ دینے والوں کے حق میں شہادت دے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ترجمہ: حجر اسود کی بھلائی کے تم شاہد رہو کہ قیامت کے دن اپنے استیلام کرنے والوں کوشہادت دے گا اور اس کی دو زبانیں اور دو ہونٹ ہوںگے جو بوسہ دینے والوں کی گواہی دیں گے۔
ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ حجر اسود جنت کے سفید یاقوتوں میں سے ایک سفید یاقوت تھا ، مشرکین کی خطاﺅںنے اسے کالا کر دیا۔ قیامت کے دن احد پہاڑ کے مثل اٹھایا جائے گا جو اپنے بوسہ دینے والوں کے حق میں گواہی دے گا۔ (ابن خزیمہ)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ، حجر اسود اور مقام ابراہیم ؑ جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت تھے اگر اللہ تعالیٰ ان کی روشنی نہ مٹاتا تو ان کی روشنی سے مشرق سے مغرب تک اُجالا رہتا۔
بیہقی کی روایت میں ہے کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں اگر مشرکین کے گنا ہ اس کو نہ چھوتے تو مشرق و مغرب کے درمیان چمکتا رہتا۔
ترجمہ: اور جو بھی آفت اور مصیبت زدہ اندھا کوڑھی وغیرہ اس کو ہاتھ لگاتا اچھا ہو جاتا اور زمین میں جنتی چیزوں میں سوا حجر اسود کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ صرف یہی حجر اسود جنتی ہے۔
ان حدیثوں سے معلوم ہوا گناہ سفید چیزوں کوس یاہ کر دیتا ہے۔ اس جگہ سے عبرت پکڑنی چاہیے کہ ظاہری ہاتھوں کےل گانے سے سخت پتھر سیاہ و کالا ہوگیا تو ان گنہگار دلوں کا کیا حال ہوگا۔ دل بہت نرم ہے۔ یہ بہت جلد متاثر ہوتا ہے۔ حدیث میں فرمایا کہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ داغ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اس نے توبہ کی تو وہ داغ سیاہ مٹ جاتا ہے ورنہ لگا رہتا ہے۔ اس کے بعد جب دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا داغ دل پر لگ جاتا ہے اگر توبہ استغار کر لیا تو صاف ہو گیا ورنہ لگا رہتا ہے۔ اسی طرح کرتے کرتے سارا دل کالا ہو جاتا ہے قرآن مجید میں اسی کو ”رین“ کے ساتھ تعبیر کیا گیا۔ بہر حال حجر اسود گناہوں کو چوستے کالا ہوگیا ہے۔ خود کالا ہو کر لوگوں کوس فید کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
ترجمہ:حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حجر اسود گویا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔ اس پر ہاتھ رکھنا گو خدا کے دست مبارک پر ہاتھ رکھنا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ، جس نے حجر اسود کا استیلام کیا گویا اس نے خدا کے ہاتھ پر مصافحہ کیا ۔ (ابن ماجہ)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :
ترجمہ: یہ حجر اسود زمین میں اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ ہے اپنے نیک بندوں سے مصافحہ کرتا ہے، جس طرح کوئی اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے۔
علامہ خطابی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حجر اسود کے یمین اللہ ہونے سے یہ مراد ہے کہ جس نے اللہ پر ہاتھ لگایا تو گویا اس نے خدا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا او ر یہ قاعدہ ہے کہ بادشاہ جب کسی دوست سے معہدہ کرتا ہے تو اس سے ہاتھ ملاتا ہے تو حجر اسود کا چھونا اللہ تعالیٰ سے مصافحہ کرنا ہے۔
علامہ طبری فرماتے ہیں جب کوئی بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے تو وہ بادشاہ کی وفاداری کا عہد کر کے حلف وفاداری اٹھاتا ہے تو حجر اسود گویا اللہ تعالیٰ سے حلف وفا داری اور اظہار محبت کا رتبہ رکھتا ہے اور حجر اسود کو ہاتھ لگانے اور بوسہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا عہد کرتے اور حلف اٹھاتے ہیں۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جسے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے کا اتفاق نہیں پڑا۔ اس نے حجر اسود سے استلام کرلیا ۔ تو گویا اس نے اللہ و رسول سے بیعت کر لی۔ تحفة الاحوذی )
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ،
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرنے اور بوسہ لیتے میں نے دیکھا ہے۔
حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ حجر اسود کا ایک چھڑی سے استلام کیا اور اس چھڑی کا بوسہ لیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت یہ فرمایا:
ترجمہ: میں یقینا یہ جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے نہ تو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع اگر رسول اللہ ﷺ کو میں نے تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا۔ (امر تعبدی کی بنا پر ایسا کرتاہوں)۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کو بوسہ دیتے وقت یہ پڑھتے تھے:
ترجمہ: الٰہی میں تیرے اوپر ایمان لاتے ہوئے تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے تیرے عہد کی وفا کرتے ہوئے تیرے نبی ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اس پتھر کو چھوتاہوں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حجر اسود کا استسلام امر تعبدی اور امتثال امر کی بنا پر ہے نہ اس کی پرستش کی جاتی ہے اور نہ اس کو خدا سمجھا جاتا ہے اور نہ اس کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جاتا ہے۔ اور نہ اس کو نفع و نقصان کا مالک سمجھا جاتا ہے بلکہ وفاداری اور اتباع سنت میں ایسا کیا جاتا ہے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں حلف وفاداری اٹھانے میں یہ قاعدہ تھا کہ ایک پتھر پر ہاتھ رکھ دیا جاتا ، جس کا مطلب یہ ہوتا کہ جس عہد و اقرار کے لئے وہ پتھر ہے اس دستور کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اتباع کے لئے اس پتھر حجر اسود کو نصب کیا تھا کہ جو شخص بیت اللہ میں آئے وہ اس پتھر پر ہاتھ رکھے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربوبیت کو جان و دل سے قبول کرلیا ہے اس سلسلہ میں اگر جان بھی دنیا پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرے گا۔
علامہ طبری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اعلان کیا کہ حجر اسود کا استسلام اتباع سنت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ نفع و نقصان کا مالک نہیں سمجھا جاتا ہے یہ اس لئے تھا کہ عرب لوگ ابھی نومسلم ہیں اور اسلام لانے سے پہلے ان کے دلوں میں پتھروں کی بڑی تعظیم تھی۔ تو آپ کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ بعض نادان لوگ یہ نہ سمجھیں کہ جاہلیت کی طرح ان پتھروں کی تعظیم مقصود ہے۔ ان کے اس غلط عقیدہ کی تردید میں فرمایا کہ یہ پتھر فی نفسہ احترام و عزت کے لائق نہیں ہے اور نہ اس کی ذات میں نفع و نقصان ہے بلکہ اس کا استسلام اتباع سنت کی وجہ سے ہے۔
ابن ابی شیبہ اور دار قطنی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بھی یہی الفاظ نقل کئے ہیں کہ آپ نے حجر اسود کے استلام کے وقت یوں فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تیری حقیقت ایک پتھر سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ نفع و نقصان کی کوئی طاقت تیرے اندر نہیں ہے اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کے بھی یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیتے ہﺅے فرمایا: میں جانتا ہوںکہ تو ایک پتھر ہے جس میں نفع و نقصان کی تاثیر نہیں ہے اگر مجھے میرے رب نے حکم نہ دیا ہوتا تو میں تجھ کو بوسہ نہ دیتا ۔ (نیل الاوطار)
حجر اسود کے ان ضائل کی وجہ سے ہر حاجی بوسہ لینے کی بڑی کوشش کرتا ہے۔ یہاں طواف کے وقت بھیڑ رہتی ہے اگر آسانی سے استلام ہو سکے تو استلام کر لینا چاہئے ورنہ ہاتھ سے اشارہ کر کے ہاتھ کا بوسہ لے لینا کافی ہے، بھیڑ میں گھس کر دھکا مکا کھا کر بوسہ لینا ضروری نہیں ہے۔
کیا بھیڑ میکدے کی ہے در پرلگی ہوئی
پیاسو! سبیل ہے سر کوثر لگی ہو

یہ بھی پڑھیں:  احرام کی قسمیں، احرام کے کپڑے و مردوں کو احرام کی حالت میں کیا کام منع ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں