imran khan

ریاست کا سربراہ جوابدہ ہوتا ہے: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا، بجٹ کو سمجھنے کے لیے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ بجٹ ہے جو نئے پاکستان کے نظرئیے کی عکاسی کرے گا، پاکستان عظیم ملک بننے جارہا ہے جبکہ نیا پاکستان نبی کریم ﷺ کی مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر بنے گا۔مدینہ کی ریاست ماڈل ریاست تھی، مدینہ کی ریاست کے اصول ہمارے ملک میں نہیں ہیں ہمارے ملک میںنہیں ہیں ۔ مدینہ کی ریاست کا سب بڑا اصول ریاست کا سربراہ جوابدہ ہے قانون کی بالا دستی کا مطلب سب انسان برابرہیں ۔جس میں ایک خلیفہ ایک معمولی آدمی سے کیس ہار جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ عظیم انسان سے مسجد میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے یہ کپڑے کہاں سے خریدے تو وہ یہ نہیں کہتے تم نے مجھ سے کیسے پوچھا بلکہ جواب دیتے ہیں۔سربراہ جوابدہ ہے۔ ہمارے ملک میں کیاہے نیب کی کیا جرا¿ت مجھے ہاتھ لگانے کی ۔ ہم دور چلے گئے ہیں ہمارے مسئلے اس لئے ہیں کہ ہم مدینہ کی ریاست سے دور چلے گئے ہیں۔خالد بن ولید نے مسلمانوں کو جنگ احد میں شکست دے دی تھی اسلام لائے سرکار مدینہ ﷺ نے انہیں سپہ سالار بنا دیا ۔ سیف اللہ کا خطاب دیا میرٹ پر تھے۔ میرٹ تھا قانون کی بالا دستی تھی انسان کی قدر تھی امیر سے پیسے لے کر غریب پر خرچ کیے جاتے تھے۔ معذورں ، کمزوروں ، یتیموں کی ریاست ذمہ داری لیتی تھی۔
اقلیتیں برابر کے شہری تھے ۔جس شخص نے حضرت علی ؓ کو کیس ہرایا وہ ایک یہودی تھے کیونکہ سب قانون کے برابر تھے۔ وہ ریاست تھی جو نبیﷺنے ماڈل بنایا ۔ انہوں نے عورتوں کوآزاد کیا، غلاموں کو آزاد کیا، نبی کریم ﷺ کا آخری خطبہ یواین او کے چارٹر میں ہے۔ میرا نظریہ پاکستان بھی ایسا ہی ہے،یہ نظریہ جب پاکستان میں آگیا تو دیکھیں ہماری قوم کیسی اٹھتی ہے۔
آج میں ہر طرف سے آوازیں سن رہا ہوں کہاں ہے مدینہ کی ریاست ،مدینہ کی ریاست پہلے دن مدینہ کی ریاست نہیں بن گئی تھی۔ جنگ بدر میں لڑنے والے 313تھے۔ جنگ احد میں تیر چلانے والوں نے اللہ کے نبی کا حکم نہیں مانا اور شکست ہوئی ، جنگ احد میں طوفان آیا اور فتح ہوئی وہ پہلے دن ایک عظیم قوم نہیں بن گئے تھے۔ وہ ایک پراسیسس تھا۔ پہلے عرب اور پھر دنیا ان کے زیر آئی۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ بڑے بڑے برج جو جیل میں کبھی جیل میں ہوں گے۔ جو ججوں کو فون کر کے بتاتے تھے یہ کرو ، جنہوں نے ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیااور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھگایا اور پھر سپریم کورٹ چلا کر ججوں کو خریدا۔
آج عدلیہ آزاد ہے، نہ عدلیہ کو کوئی کچھ کر سکتا ہے نہ نیب کو، نیب کا چیئرمین ہمارا لگایا ہوا نہیںانہوں نے لگایا، اپوزیشن پر کیسز میں نے نہیں بنائے،جمہوریت ہمارے ملک میں کیوں نہیں چل رہی۔ جب دو نظرئیے ہوتے ہیں وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ جب پارلیمنٹ میں بیٹھ کر گفتگو ہوتی ہے۔ تو یہ ہوتی ہے جمہوریت کی خوبصورتی۔
آصف زرداری پر فیک اکاﺅنٹس کا جو کیس ہے وہ تو ن لیگ کے انٹیرئیر منسٹر نے کہا تھا کہ ایان علی کو جس اکاﺅنٹ سے پیسے جا رہے ہیں اسی سے بلاول کو جارہے ہیں وہ ہم نے تو نہیں کہا تھا۔ یہ جو کیسز تھے باقی سارے پانامہ کے کیسز ، جو شہباز شریف کے کیسز تھے یہ سب پرانے کیسز تھے ہم تو اقتدار میں تھے ہی نہیں ،تو پھر میرے اوپر شور کیسا میں جب بھی پارلیمنٹ میں جاتا ہوں بدتمیزی کرتے ہیں شور مچاتے ہیں۔میری غلطی کیا ہے۔ میں ان کی بلیک میلنگ اور پریشر میں آکر میں این آر او نہیں دے رہا۔
میرے پاکستانیو !جان لو جتنا نقصان این آر او نہیں دیا یہ غربت کی بڑی وجہ ہے۔ تاریخ میں پیچھے جائیں تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی 90کی دھائی ایک دوسرے کو کرپٹ کہہ رہے تھے اور دونوں کی حکومتیں بھی کرپشن کی وجہ سے گئیں آصف زرداری کو جیل میں دو دفعہ نواز شریف نے جیل میں بھیجا۔آج یہ اکٹھے ہو رہے ہیں۔
جنرل مشرف نے حدیبیہ مل میں این آراو دے کر بھیجا۔باہر پیسہ بھیجنے کے بعد اپنے نوکروں اور دیگر کے نام سے پیسہ منگوایا۔ جنرل مشرف نے ‘2ارب روپے خرچ کرنے کے بعد جنرل مشرف نے این آر او دیا اور سب کو واپس بلا لیا۔ اس دو این آر او کی ملک نے قیمت ادا کی۔ یہ 2008ءمیں واپس آئے انہوں نے چارٹر آف ڈیمو کریسی سائن کی۔ دونوں نے مل کر چیئرمین نیب بنایا۔ اور اس میں کہا کہ پانچ سال تمہارے پانچ سال ہمارے ۔30ہزار ارب پر قرضہ چلا گیا اور بنا کیا دونوں کو پتہ تھا پکڑے جانا نہیں ہے دونوں نے مل کر کرپشن کی ۔ جیسے ہی قرض اوپر گئے ان کی دولت بھی ویسے ہی اوپر گئی۔ 2008ءکے بعد تین گھر کرپشن کرتے تھے۔ یہاں سے پیسے بنا کر حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے باہر بھجواتے تھے۔ جس پیسے کی ضرورت ہوتی ہے حمزہ نے گھر بنانا ہے ، شہباز شریف نے دوسری بیگم کو پیسے دینے ہیں تو باہر سے ٹی ٹی آجاتی تھی۔ دیکھیں ملک کیسے لوٹا گیا۔ شہباز شریف اور اس کے بیٹوں نے 3ارب روپے سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کی ۔ جب ملک کا قرضہ اوپر جارہا تھا ان کی دولت بھی اوپر جارہی تھی۔ یہاں سے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے پیسے باہر بھجوائے ۔ جب چیک کیا گیا تو ایک پاپڑ والے کا اکاﺅنٹ تھا جو کبھی باہر نہیں کیا گیا۔
آصف زرداری کی چیک کی گئی تو فیک اکاﺅنٹ میں فلودے والا کے اکاﺅنٹ سے 3ارب نکلے۔ جو خاتون 5لاکھ ڈالر ملک سے باہر لیجاتے ہوئے پکڑی گئی وہ 75دفعہ ملک سے باہر جا چکی ہے سوچئیے کتنے پیسے لے کر گئی ہو گی اس کے اور بلاول کے ایک ہی اکاﺅنٹ سے پیسے جارہے ہیں۔ پہلے یہ سوچئے پاکستان کا وزیراعظم ایک باہر کی کمپنی کا ملازم بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا فارن ، ڈیفنس منسٹر دبئی کی ایک کمپنی سے 16لاکھ تنخواہ لے رہا ہے اور اس کا ملازم بنا ہوا۔ ہمارے ساتھ ہندوستان آزاد ہوا عتھا۔ ہمارے میں سے بنگلہ دیش بنا تھا۔ کبھی سوچا ہے کہ ملک کے سب سے اہم عہدے پر بیٹھا شخص باہر کی کسی کمپنی کا ملازم ہو ۔ یہ کرپشن ہو رہی تھی یہ طریقے تھے منی لانڈرنگ کے۔ آپ حیران ہوں گے کہ صرف 10ارب کے تو پاکستانیوں کے باہر بینک اکاﺅنٹس ہیں۔دبئی میں پاکستانیوںنے 9ارب ڈالر کی پراپرٹی لی ہے۔آئی ایم ایف سے ہم کتنا قرضہ لے رہے ہیں6ارب ڈالر۔ جب اوپر کے سربراہ ، وزیر کر رہے تھے تو کس نے کس کو روکنا تھا۔
نواز شریف کی ہیل بیٹل سعودی عرب میں نقصان میںتھی جیسے ہی اقتدار میں آئے وہ چلنی شروع ہو گئی۔ وہاں سے پیسے کس کے نام سے منگوا رہے ہیں ڈرائیور کے نام پر ۔ یہ ساری منی لانڈرنگ ملک کے سربراہ کر رہے ہیں۔ مجھے آج سے 15-20سال پہلے مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ دیکھیں جو چھوٹی چوری ہوتی ہے وہ لوگوں کو تنگ کرتی ہے جب آپ کا پرائم منسٹر اور وزیر کرپشن کرتے ہیں وہ ملک کو نیچے لے جاتے ہیں۔ یہ آپ کے سامنے 6ارب سے 30ارب سے قرضہ لے گئے۔ باقی انہوں نے جو پاکستان ہم کو دیا یہ بھی سن لیا۔
مشرف دور میں ہمارا 2ارب ڈالر بیرونی قرضہ بڑھا۔اندونوں کی پارٹنر شپ ملی ۔ جمہوریت جب اس ملک سے بدلا لینے آئی ہمارا بیرون ملک قرضہ گیا 41ارب ڈالر سے 97ارب ڈالر ۔ 41ارب پوری پاکستانی تاریخ میں لیا تھا۔ ان دس سالوں میں 41سے 97ڈالر میں چلا گیا۔ اس کا مطلب تھا ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہوئی ۔ یہ جب 2018ءمیں گئے جو چیزیں ہم دنیا سے خریدتے اوربیچتے ہیں ۔ اس کا 70سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ خسارہ تھا۔
آصف زرداری کے خلاف میگامنی لانڈرنگ کا کیس (ن) لیگ نے بنایا، شہباز شریف کے خلاف بھی کیس ہم نے نہیں بنایا، اپوزیشن کے خلاف کیسز پی ٹی آئی نے نہیں بنائے پھر شور کیوں مچاتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے ان کو این آر او دیا جائے، آج شور مچ رہا ہے کہ زرداری جیل میں ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اکٹھی ہوگئی ہے، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی دونوں حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں، (ن) لیگ نے اپنے دور میں آصف زرداری کو جیل میں ڈالا تھا، جبکہ دو این آر اوز کی قیمت ملک نے ادا کی۔
ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور دونوں نے کھل کر کرپشن کی، 2008 کے بعد ملک پر جو قرضہ چڑھا اس کی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے، جبکہ (ن) لیگ نے 10 سال میں 4 کمپنیوں سے 30 کمپنیاں بنائیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میثاق جمہوریت سے دونوں جماعتوں نے طے کیا تھا ایک دوسرے کومدت پوری کرنے دیں گے، دونوں جماعتوں نے کرپشن کر کے پیسہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوایا، جبکہ زرداری کی 100 ارب روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آئی، باہر سے پیسے بھیجنے والا کوئی فالودہ والا نکلا، جعلی اکاو¿نٹس استعمال کیے گئے، ایک خاتون 5 لاکھ ڈالرز باہر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی، جبکہ اقامے بھی منی لانڈرنگ کے طریقے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 10 سال میں ملکی قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہوگیا، مشرف کے 8 سال کے دور میں 2 ارب ڈالرز کا غیر ملکی قرضہ بڑھا، جبکہ پاکستانیوں کے 10 ارب ڈالرز کے بیرون ملک بینک اکاو¿نٹس ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے نیچے اعلیٰ سطح کا انکوائری کمیشن بنانے لگا ہوں، تحقیقات کریں گے کہ 10 سال میں کس طرح ملک کو تباہ کیا گیا، انہوں نے پوری کوشش کی ملک کو تباہ کیا جائے، انکوائری کمیشن کے ذریعے 10 سال میں لیے گئے قرضے کی تحقیقات کی جائے گی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندے شامل ہوں گے، 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ کیسے چڑھا، انکوائری کمیشن کے ذریعے پتہ لگائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میری جان بھی چلی جائے ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا، پاکستانی قوم کا مجھ پر اعتماد ہے جبکہ شبر زیدی کے ساتھ مل کر ایف بی آر کو ٹھیک کروں گا۔
وزیر اعظم نے عوام سے ایک بار پھر ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 30جون کے بعد بے نامی اثاثے اور اکاو¿نٹس ضبط ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چند مہینے مشکل ہیں اس کے بعد پاکستان اوپر اٹھے گا اور سرمایہ کاری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  محمد حفیظ نے کرونا ٹیسٹ منفی آنے کا دعویٰ کر دیا،پہلے ٹیسٹ خراب تھا یہ اب کا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں