مختصر اسلامی عقائد

EjazNews

س: اگر کوئی شخص آپﷺ کو خاتم النبیین نہ مانے اور یہ کہے کہ دوسرا نبی بھی پیدا ہو سکتا ہے وہ کیسا ہے؟
ج:وہ شخص بھی کافر ہے، اس لئے کہ وہ قرآن کریم و حدیث کا منکر و مخالف ہے۔
س: کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں اور سب مخلوق سے بہتر اور افضل ہے؟
ج: ہاں ضرور آپ ﷺ تمام نبیوںاور رسولوں اور کل مخلوق سے بہتر اور افضل ہیں اور سب رسولوں کے سردار ہیں۔
س: حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات کیا ہے ؟
ج: آپﷺ کے ارشادات طیبات تو بے شمار ہیں ان میں سے دو چار باتیں اس حصہ میں بتاتے ہیںاور تھوڑے تھوڑے دوسرے حصوں میں بیان کئے جائیں گے۔ انشاءاللہ تعالیٰ۔
آپ ﷺ فرماتے کہ تمہارا پیدا کرنے والا ایک اللہ ہے اسی پر ایمان لاﺅ اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا حکم مانو اور اس کے سب نبیوں اور رسولوں کو سچا رسول سمجھو اور اس کی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان لاﺅ، جنت و دوزخ ح ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ قیامت حساب کتاب، قبر کا عذاب ثواب حق ہے اور برائی بھلائی اسی کی طرف سے ہے۔ یعنی یوں کہو
ترجمہ: “میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اورکتابوں اور رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری چیز کے اندازے پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اندازہ کر رکھا ہے اور مر جانے کے بعد اٹھائے جانے پر۔“
اسی کو ایمان مفصل کہتے ہیں ۔
س: ایمان مجمل کیا ہے ؟
ایمان مجمل یہ ہے کہ کہو
ترجمہ: ”یعنی اللہ پر ایمان لایا میں جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور صفتوں کےس اتھ ہے اور میںنے اس کے تمام حکموں کو قبول کیا ۔
س: تمہار کیا دین (مذہب ہے) ہے؟
ج: ہمارا دین اسلام ہے۔
س: اسلام کسے کہتے ہیں ؟
ج: اسلام کے معنی اطاعت و فرمانبرداری میں گردن جھکا دینا، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے گردن جھکائے رکھے اور اس کے ہر حکم کے مطابق عمل کرتا رہے۔ اسی اطاعت کو اسلام کہتے ہیں۔
س: سب مذہبوں سے اچھا کونسا مذہب ہے ؟
ج: سب مذہبوں سے اچھا مذہب یہی اسلام ہے اوراس کے علاوہ سارے مذاہب غلط اور جھوٹے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے۔
ترجمہ: اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہی ہے۔ اور جو اسلام کے علاوہ دوسرے دین کو تلاش کرے گا وہ اس کی طرف ہرگز قبول نہ ہوگا۔ “
س: کیا اسلام نیا مذہب ہے ؟
ج: ہرگز نہیں بلکہ قدیم اور پرانا مذہب ہے سب نبیوں کا مذہب بھی اسلام ہی تھا۔ اس لئے کہ اسلام اللہ تعالیٰ کے حکم ماننے اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے اور قیامت تک یہی مذہب رہے گا۔
س: اسلام کی بنیاد کتنی چیزوں پر قائم ہے ؟
ج: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے ۔
س: وہ پانچ چیزیں کیا کیا ہیں جن پر اسلام کی بنیاد قائم ہے ؟
ج: وہ پانچ چیزیں یہ ہیں۔(۱)یہ ماننا کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور سچے رسول ہیں۔( ۱) نماز پڑھا(۳) زکوٰة دینا (۴) رمضان شریف کے روزے رکھنا (۵) اگر استطاعت ہو تو حج کرنا۔
س: جو لوگ اللہ و رسول کو اور اسلام کی ان بنیادی چیزوں کونہیں مانتے ان کو کیا کہتے ہیں ؟
ج: انھیں کافر کہتے ہیں۔
س: جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اور چیزوں کی عبادت (پوجا) کرتے ہیں جیسے ہندو و کافر بتوں کو اور قبر پرست قبروں کو پوجتے ہیں ان کو شریعت میں کیا کہتے ہیں ؟
ج: ایسے لوگوں کو مشرک کہتے ہیں ۔
س: کیا مشرک بخشے جائیں گے؟
ج: ہرگز نہیں بخشے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ مشرکوں کو نہیں بخشے گا۔
س: جو لوگ تین خدا مانتے ہیں جیسے عیسائی تین خدا مانتے ہیں ان کو کیا کہا جائے گا۔؟
ج: ان کو بھی مشرک کہا جائے گا۔
س: کفر اور شرک کے کیا معنی ہیں؟
ج: کفر کے معنی چھپانے اور پردہ ڈالنے اور انکار کرنے کے ہیں اور اسلام میں کفر اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے ان کا انکار کر دیا جائے جیسے اللہ کے وجود سے انکار کر دینا یا اللہ کی عبادت اور رسول کی اطاعت سے انکار کر دینا اور شرک کے معنی سا جھے اور برابری کے ہیں یعنی جو جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کےس اتھ خاص ہیں ان میں کسی دوسرے کو بھی اس کے برابر جانے اور ان میں ساجھی و شریک سمجھے جیسے روزی دینا۔ اولاد دینا، غیب کی بات جاننا ، مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرنا، ہر جگہ حاضر و ناضر رہنا، مارنا جلانا وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں ان میں دوسرے کو ساجھی و شریک سمجھنا شرک کرنے والے کو مشرک کہتے ہیں۔
س: جو لوگ صرف زبان سے کلمہ توحید پڑھتے ہیں مگر دل میں یقین نہیں ہوتا یاسے لوگوں کو کیا کہتے ہیں ؟
ج: ایسے لوگوں کو منافق کہتے ہیں ۔
س: منافق کی کتنی نشانیاں ہیں اور وہ کیا کیا ہیں ؟
ج: چار نشانیاں ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ جھوٹ بولنا، خلاف وعدہ کرنا، امانت میں خیانت کرنا، جھگڑے میں گالی گلوچ بکنا، جس میں یہ چاروںنشانیاں پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہوگا اور اللہ کے یہاں سزاﺅں کا مستحق ہوگا۔
س: احسان کس کو کہتے ہیں ؟
ج: احسان کے یہ معنی ہیں کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اس کی عبادت کی جائے کسی دوسرے کے خوش کرنے یا دوسرے کو دکھانے کے ہرگز نہ ہو۔ اس احسان کے دو درجے ہیں۔ پلہا درجہاور سب سے بہتر درجہ یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بندگی اس طرح کرو کہ گویا اللہ تعالیٰ کو تم دیکھ رہے ہو اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو تم اپنے دل میں یہ یقین رکھو کہ وہ تم کو ضرور دیکھتا ہے یہ (اخلاص) تمام دینی کاموں کے لئے شروع اور ضروری ہے اگر کوئی عبادت کرے اور احسان یعنی اخلاص نہ ہو تو وہ عبادت بالکل بیکار اور اکارت ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں کچھ ثواب نہیں ملے گا اور جو لوگوں کو دکھانے اور کسی کو خوش کرنے کے لئے عبادت کرے تو وہ ریا کار ہے اور اس دکھاوے کو ریا و نمود کہتے ہیں ۔
س: ملائکہ (فرشتے) کون ہوتے ہیں اور وہ کیا کام کرتے ہیں ؟
ج: فرشتے اللہ تعالیٰ کے نیک ب ندے ہیں ان کو اللہ نے روشنی سے پیدا کیا وہ ہماری نظروں سے غائب رہتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں نبیوں کو دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کھاتے پیتے نہیں اور وہ نہ مرد ہیں نہ عوتر ہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ نہیں کرتے جس کام پر اللہت عایٰ نے ان کو لگا دیا ہے وہی کام کرتے ہیں ان کے دو دو تین تین چار چار بازو ہوتے ہیں۔
س: کتنے فرشتے ہیں ؟
ج: اتنے زیادہ اور بے شمار فرشتے ہیں کہ ان کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔ اتنا ضرور معلوم ہے کہ وہ بہت ہیں ان میں سے چار فرشتے زیادہ مشہور ہیں (۱) حضرت جبرئیل علیہ السلام جو اللہ کے حکموں کو نبیوں کے پاس لاتے تھے (۲) حضرت اسرافیل علیہ السلام (۳)حضرت میکائیل علیہ السلام (۴) حضرت عزرائیل علیہ السلام جو اللہ کے حکم سے لوگوں کی جانیں نکالتے ہیں۔
حضرت مولانا عبدالسلام بستوی دہلوی (جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں:  قماقم کا انجام
کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں