tetenues

تشنج یا کزار(tetanus)

EjazNews

تشنج کو عام زبان میں فگ بستگی (جکڑا جبڑا) کہا جاتا ہے۔یہ ایک سنگین اور دہشت زدہ کر دینے والا مرض ہے، اس مرض میں جو سمین (ٹاکسن)پیدا ہوتی ہے وہ تمام اعصابی نظام کو متاثر کردیتی ہے جس کے نتیجہ میں چند عضلات بالخصوص جبڑے اور گردن میں پر درد کھنچاﺅ ہوتا ہے ان کے عضلات شدید درد میں مبتلا ہوکر کھنچ جاتے ہیں اور نہ جبڑا کھل سکتا ہے اورنہ گردن ہل سکتی ہے۔ اس مرض میں پیدا ہونے والی سمین سخت زہریلی ہوتی ہے۔ نسبتاً اس کی قلیل مقدار بھی باعث موت ہو سکتی ہے۔
تشنج کے جراثیم یا تمخمک (اسپور) بالعموم اصطبل ، کھاد اور باغ کے کوڑے کرکٹ میں پائے جاتے ہیں۔ سوراخ کرنے یا گھسنے والے زخم جو کیل یا نوکیلی چیزوں سے ہوتے ہیں جراثیم کو جسم کے اندر داخل کر دیتے ہیں یہ جراثیم جسم کے اندر ان مقامات پر تیزی سے تعداد میں بڑھ جاتے ہیں جہاں ہوا نہیں ہوتی۔
جسم کے اندرونی بافتوں کو ملوث کرنے والے گہرے زخموں کو صحیح دیکھ بھال کرنی چاہیے خصوصاً اگر یہ بازار یا اصطبل کی گرد سے آلود ہو گئے ہوں۔ خصوصاً ایسے ز خم جن میں ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جلد کو پھاڑ کر باہر نکل جاتی ہیں، اس پھٹے ہوئے راستے سے تشنج کے جراثیم جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تشنج کے خلاف جسم کے دفاعی صلاحیت دیرپا نہیں ہوتی۔ تشنج میں مبتلا ہونےکے بعد اگر مریض بچ بھی جائے تو تب بھی اسے مستقل مامونیت حاصل نہیں ہوتی۔ آج کے دور میں تشنج کے خلاف مامون کرنے والے موثر طریقوں کے باوجود جسم میں اس سے مزاحمت پانچ سال سے زیادہ نہی رہتی چونکہ تشنج کے خلاف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مامونیت کم ہوتی جاتی ہے اس لیے اطبا یہ مشورہ دیتے ہیں کہ جب بھی سوراخ کرنے والے زخموں سے سابقہ پڑے تو ان مریضوں میں تشنج کے خلاف اضافی حفاظت کا بندوبست کیا جائے، باوجود اس کے انھیں پہلے سے تشنج سے ٹیکوں کے ذریعہ مامون کیا جا چکا ہے۔ چونکہ بچوں میں سوراخ کرنے والی چوٹوں اور زخموں کا امکان زیادہ ہوتا ہے چنانچہ ان میں یہ ضروری ہے کہ تشنج کے خلاف فعال مامونیت بچپن کے سارے زمانہ میں قائم رکھی جائے اس کے بعد جب بھی کوئی زخم آجائے تو حمایتی ٹیکہ گوشوارہ کے لحاظ سے دیا جائے۔
تشنج کے خلاف ٹیکوں کے موثر ہونے کی تصدیق امریکی فوج میں جنگ عظیم دوم میں ہوچکی ہے جب تمام مسلح افواج کے لیے ٹیکہ لگوانا ضروری قرار دیا گیا تھا، ٹیکوں کا فائدہ یہ ہوا کہ سات لاکھ زخمی لوگوں میں صرف 15کو تشنج ہوا یہ زمانہ ماضی کی نسبت نمایاں اورناقابل یقین بہتری تھی، اس زمانہ کے مقابلہ میں جب کہ تشنج کے خلاف ٹیکوں کا رواج نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  موسمی کی تبدیلی کے ساتھ چڑھنے والا ہر بخار ملیریا نہیں ہوتا

ڈاکٹر سید اسلم

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں