Sudan

سوڈان میں جمہوریت پسندوں پر فوجی حملے

EjazNews

سوڈان کے صدر عمر البشیر کو اقتدار سے الگ کرنے کے بعد سے ملٹری کونسل اور جمہوریت پسندوں کے درمیان تصادم چلا آرہا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ فوج اقتدار کو سویلین کے حوالے کر کے خود بیرکوں میں جائے جبکہ ملٹری کونسل اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ ملٹری کونسل کے جنرل عبدالفتح البرحان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں انتقال اقتدار دو سال سے پہلے نہیں کیا جاسکتا۔سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مظاہرے کرنے والوں پر آرمی کے افسروں نے حملے کیے جس سے 9لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے ان کا ا حتجاج ہر قسم کے تشدد سے پاک تھا۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ملٹری کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کا ملٹر اٹیک نہیں کیا ہے۔
ملٹری کونسل نے احتجاج کیمپوں کو خالی کر الیا ہے۔ یہاں پر بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا ۔ احتجاجی گروپ کے ساتھ منسلک ڈاکٹروں کے ایک گروپ کا بھی یہ کہنا ہے کہ لوگوں کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کو نیا شہزادہ مل گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں