مسئلہ فلسطین مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ ہے: اوآئی سی

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی او آئی سی اجلاس میں شرکت سے قبل مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ، ملاقات میں علاقائی، عالمی معاملہ اور مسلم امہ کو درپیش مسائل پر بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے مصری صدر کو دورئہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوںنے قبول کر لی۔ وزیراعظم کی ہمسایہ ملک افغانستان کے سربراہ سے بھی ملاقات ہوئی جہاں پر دونوں سربراہان کے مابین مختلف امور کا تبادلہ خیال ہوا۔وزیراعظم کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم عمرا ن خان نے مکہ مکرمہ میں خاتون اول اور وزراءکے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کی بھی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کیلئے روضہ رسول ﷺ کے دروازے خصوصی طور پر کھولے گئے۔ وزیراعظم نے مسجد نبوی ﷺ میں نمازعصر ادا کی جبکہ ریاض الجنہ میں نوافل ادا کئے۔
وزیراعظم عمران خان نے او آئی سی کے 14ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ناگزیر ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ مسلم دنیا کے خلاف ظلم و بربریت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ مسلمانوں کی سیاسی جدوجہدپر دہشت گردی کا لیبل درست نہیں، تامل ٹائیگرز حملوںکا کسی نے مذہب سے تعلق نہیں جوڑا، کشمیریوں کو ان کی حق خو ارادیت ملنا چاہئے۔ وزیراعظم نے مقبوضہ فلسطین سے متعلق اپنی تقریر میں کہا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کو معصوم فلسطینیوں کیخلاف استعمال کیا، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہوگا،مغرب کو بتانا ہوگا کہ پیغمبر اسلام ﷺکی توہین پر ہمیں کتنا دکھ ہوتا ۔
وزیراعظم عمران نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح نہیں کیا جاسکتا، مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرے،اسلام کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، کوئی مذہب معصوم انسانوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ اپنی تقریر میں ان کاکہنا تھا کہ مغرب کو اسلامو فوبیا سے باہرنکلنا ہوگا۔ نیوزی لینڈ کے واقعہ نے ثابت کیا کہ دہشت گردی کا کوئیم ذہب نہیں، مسلم دنیا قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو ن لیگ کی سرپرستی حاصل رہی: وزیراعظم
اوآئی سی اجلاس کے بعد مندوبین کا گروپ فوٹو

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی دنیا کو سائنس اور ٹیکنالوجی اور معیار تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ، او آئی سی پلیٹ فارم سے سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کو فروغ کیلئے کام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان اسلامی تعاون تنظیم کے 14ویں سربراہ اجلاس کا بارہ نکاتی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں وزریراعظم عمران خان کے خطاب میں دی گئی تجاویز بھی شامل ہیں۔ او آئی سی نے فلسطینی عوام کی اسرائیلی قبضے کیخلاف جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعلامےے میں فلسطین کے مسئلہ کو اسلامی امہ کا اہم مسئلہ قرار دیا گیا اور فلسطینی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا مقبوضہ بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ ہے جبکہ سعوی عرب ، متحدہ عرب امارات پر حملوں کی مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے خطے میں امن و استحکام کے لیے کر دار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
او آئی س سربراہ اجلاس میں دہشت گردی کو شہریت، مذہب یا کسی بھی علاقے سے جوڑنے کو مسترد کیا گیا اور مذہب ، رنگ ، نسل کی بنیاد پر عدم برداشت اور امتیازی سلوک کی مذمت کی۔ اسلامی تعاون تنظیم نے جبر، نا انصافی، تشدد کیخلاف جدوجہد کرنے والے مسلمانوں کی حمایت کی اورکہا اسلامی دنیا کی سلامتی و استحکام کیلئے عالمی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ فلسطین سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے دہشت گردی کو معصوم فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا، بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے علیحد کرنا ہوگا ، مغرب کو بتانا ہوگا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین پر ہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے،گولان کی پہاڑیاں فلسطین کا حصہ رہنی چاہئیں۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مختلف امور پر مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا ہم اپنے عوام کے مستقبل کی تعمیر کیلئے اکٹھے ہوئے ہمیں مختلف خطرات سے مل کر نمٹنا ہوگا، سعودی فرما نروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی فرمانروا کا کہنا تھا اسلامی دنیا میں امن و استحکام چاہتے ہیںخطرات کا مقابلہ کر ہی اپنے ملکوں میں ترقی لا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کوئٹہ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکہ

اپنا تبصرہ بھیجیں