Smoking

نو ٹوبیکو ڈئے پر خصوصی تحریر

EjazNews

دنیا بھر میں ہر سال31مئی کو نو ٹوبیکو ڈے منایا جاتا ہے۔ 1987میں پہلی مرتبہ ورلڈ ہیلتھ آرگنازیشن نے اس دن کو منانے کا اہتمام کیا ے تھا جس کا مقصد دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کروانا تھا کہ تمباکو کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں اور موت سے بچاو ممکن ہے۔اس کے علاوہ لوگوں میں اس بات کی آگہی پیدا کرنا کہ دھویں والے ماحول میں رہنا بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا سگریٹ نوشی کرنا ہے اور یہ کہ تمباکو کسی بھی شکل میں استعمال کیا جاے نقصان دہ ہے۔ہر سال اس دن کا کوئی نہ کوئی موٹو ہوتا ہے۔اس سال کا فوکس ہے،تمباکو اور پھیپھڑوں کی صحت،اس سال خاص طور پر مندرجہ ذیل نکات پر توجہ دی جاے گی
1۔تمباکو کا پھیپھڑوں کی صحت پر منفی اثر،کرانک بیماریوں سے لیکر کینسر تک
2۔پھیپھڑوں کا انسانی صحت میں بنیادی کردار
اس سال جن اہم نکات پر لوگوں کی توجہ مرکوز کروائی جائے گی وہ مندرجہ ذیل ہیں
پہلا ۔۔۔۔ سگریٹ نوشی اور دھوئیں سے ہونے والے عمومی خطرات
دوسرا۔۔۔۔ سگریٹ نوشی کا پھیپھڑوں کی صحت پر اثر
تیسرا۔۔۔۔ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی بیماریوں اور اموات کا حجم
چوتھا۔۔۔۔ ٹی بی اور سگریٹ نوشی کے درمیان پایا جانے والا تعلق
پانچواں۔۔۔۔۔ دھویں والے ماحول سے ایسے افراد کی حفاظت جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے
ساتواں۔۔۔۔۔ پھیپھڑوں کی صحت کی اہمیت جس سے انسانی صحت جڑی ہوئی ہے
آٹھواں۔۔۔۔ سرکاری اور عوامی طور پر ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے تمباکو کے دھوئیں کے بد اثرات سے بچا جا سکے
تمباکو انسانیت کو لاحق موجودہ دور کا سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ تمباکو میں شامل کیمیائی مادہ نیکوٹین زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہے ، جو انسانی بدن میں سرایت کرکے وقتی طور پر اسے تسکین اور لذت فراہم کرتا ہےلیکن خون میں شامل ہو نے کے بعد یہ اسے گاڑھا کرکے ’’دوران خون‘‘ کےبہت سارے عوارض کا باعث بنتا ہے۔ گردوں کے لئے گاڑھے خون کو صاف کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور سگریٹ نوش ہائی بلڈپریشر، بلڈ شوگر، یورک ایسڈ، ہارٹ اٹیک اور گردوں کا فیل ہوجانا جیسے جان لیوا اور خطرناک امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس سے نہ صرف پھیپھڑوں کا کینسر بلکہ اندھا پن، ذیابیطس، جگر اور بڑی آنت کے کینسر جیسی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ جو افراد سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ پینے والوں میں نظر کی کمزوری اور اندھے پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں سگریٹ نوشی کے اثرات سے نوزائیدہ بچوں میں پیدائشی کٹے ہونٹ،حمل کے دوران پیچیدگیوں کا پیدا ہونا، جوڑوں کا درد اور جسم کے دفاعی صلاحیت میں کمی ہوجاتی ہے۔ اگر تمباکو نوشی کی شرح کم نہیں ہوئی تو13بچوں میں سے ہر ایک بچہ آگے چل کر اس سے جڑی کسی بیماری کی وجہ سے جان گنوا دے گا۔کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیئے جانے والے سگریٹ کے چند ا ولین کش ہی لمحوں میں ایسی جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے انسانی جسم پر اثرات اتنے ہی تیز ہوتے ہیں کہ جیسے انہیں دوران خون میں انجکشن کے ذریعے داخل کئے گئے کسی بھی مضر صحت مادے کی منتقلی کے ساتھ تشبیہ دی جاسکتی ہے۔سگریٹ نوش افراد کے جسموں میں تمباکو نوشی کے محض پندرہ سے لے کر تیس منٹ بعد فینائھترین نامی مادہ ملا جو ان کے دوران خون کا حصہ بن چکا تھا۔ یہ مادہ اپنے زہریلے پن کی وجہ سے خاص طور پر ڈی این اے کے لئے تباہی اور اس میں تبدیلیوں کے علاوہ سرطان بھی پیدا کرتا ہے ۔ دنیا بھر میں ہر روز قریب تین ہزار انسان پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں اور ان میں90فیصد اموات کی براہ راست وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔نوجوان تمباکو کے استعمال کے مختلف طریقے اپنا رہے ہیں ان میں نیکوٹین والے ای سگریٹ مختلف ذائقوں والے سگار اور شیشہ بھی شامل ہے۔ شیشہ جو کہ حقہ نما ہوتاہے اور پوش علاقوں میں او ر کالج،یونیورسٹیوں کے نزدیک شیشہ کیفے کے نام سے موجود ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ شیشہ کا ایک سیشن ایک سو سگریٹوں کے برابر ہوتا ہے ۔ اس سے منہ کا کینسر عام ہوگیا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسانی جسم میں کمزوری کی وجہ بن رہا ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے قوانین اور قواعد کے مطابق عوامی مقامات پر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی کی ممانعت ہے۔ اس طرح تمباکو کی فروخت بڑھانے اور اس کے استعمال کی حوصلہ افزائی کے لئے خریدار کو کسی قسم کی رعایت دینا اور تشہیر کرنا بھی منع ہے۔ تمام شیشہ کیفے چھاپہ مارنے کے بعد سیل کئے جارہے ہیں اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ یا دیگر ٹوبیکو مصنوعات فروخت کرنے پر پابندی ہے۔ وفاقی حکومت اس سال بجٹ میں سگریٹ پر دس روپے فی ڈبی ٹیکس لگا رہی ہے ،جبکہ ٹوبیکو مصنوعات کی تشہیر پر بھی پابندی ہے لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے تمباکونشی سے چھٹکارا پانے کے لئے ہمیں اپنی عادات اور رویوں میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ صرف قانون سازی اور خلاف ورزی پر معمولی سزائیں اس سے نجات نہیں دلا سکتی۔ تمباکو نوش کو اس بری عادت کو ترک کرنے پر آمادہ کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ ساتھ ہزار اموات سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔
سگریٹ نوشی اوک ایسا عمل ہے جس میں تمباکو کو جلا کر اس کا دھواں سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں لے جایا جاتا ہے جہاں وہ خون میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر خون اس کو مختلف اعضاء تک لے جاتا ہے ۔اس دھویں میں مختلف کیمیکلز ہوتے ہیں۔تمباکو کی کئی اقسام ہوتی ہیں ان سے کئی قسم کے مکسچر اور برانڈز بنائے جاتےہیں تمباکو کو سگریٹ اور حقے وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔دوسرا سب سے عام استعمال ہونے والا مادہ بھنگ ہے جس کو جلا کر استعمال کیا جاتا ہے بھنگ کا استعمال کافی ممالک میں غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجد بھی ان ممالک میں لوگ بھنگ کا استعمال کرتے ہیں بھنگ کا استعمال حقے کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جدید ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے بڑھتے مسائل

سموکنگ کی تاریخ

سموکنگ کی تاریخ تقریبا پانچ ہزار سال قبل از مسیح پرانی ہے اور اس کا ریکارڈ دنیا کے مختلف ممالک مثلا بائبل،چین انڈیا وغیرہ کی تاریخ میں ملتا ہے۔شروع شروع میں اس کا استعمال مذہبی تقریبات میں ملتا ہے ان تقریبات میں تمباکو اور دوسری نشہ آور اشیا کا استعمال روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا تھا پھر جب یورپ اور امریکہ نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا تو سگرٹ نوشی نے بھی مقبولیت حاصل کر لی۔ بر صغیر اور افریقہ وغیرہ میں اسے بھنگ کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا شروع کر دیا گیا۔جبکہ یورپ میں اس کو ایک نئی تفریح کے طور پر اپنا یا گیا مڈل ایسٹ میں سموکنگ سے قبل بھنگ کا استعمال عام تھا۔انیسویں صدی میں افیون کو بھی سموکنگ میں استعمال کیا جانے لگا جبکہ اس سے قبل افیون کو صرف کھنے کے لیے ہی استعمال کیا جاتا تھا اور وہ بھی صرف طبی بنیادوں پر استعمال ہوتی تھی افیون کا ذیادہ استعمال چین میں ہوتا تھا اور چین سے یہ نشہ بیرونی دنیا میں پھیل گیا اور انیسویں صدی کے درمیانے عرصے میں یہ یورپ میں پھیل گیا اور پیرس میں اس کی بھت ذیادہ مانگ ہو گئی یورپ میں اس کی لت کا خاتمہ پہلی جنگ عظیم میں اور چین میں انیس سو ستر کی دہای میں ہو گیا بیسویں صدی میں سموکنگ کو بہت برا سمجھا جانے لگا خاص طور پر یورپی ممالک میں ۔اس کی وجہ یہ بنی کہ سموکنگ سے بہت سارے خطرناک امراض ،لنگ کینسر،ہارٹ اٹیک،سانس کے دائنی امراض مثلا دمہ۔جنسی بیماریاں،اور بچوں میں پیدائشی نقائص پیدا ہونے لگے اس کے علاوہ دانتوں اور مسوڑہوں کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔
سموکنگ کی وجہ سے ہونے والی اموات سے بچاو بہت حد تک ممکن ہے ایک اندازے کے مطابق چین کی مردوں کی ایک تہائی آبادی کی زندگی کا دورانیہ سموکنگ کی وجہ سے کم ہو جاے گا ایک تحقیق کے مطابق مردوں میں ۱۳ سال اورعورتوں میں ۱۵ سال تک عمر میں کمی واقع ہو جاتی ہے جو لوگ سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ شراب نوشی بھی کرتے ہیں ان میں منہ کے کینست کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔سگریٹ نوشوں میںالزائمرکا مرض بھی ہو جاتا ہے ۔سگریٹ کے دھویں میں پانچ ہزار کے قریب کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن میں سے ۹۸ کیمیکلز کو زہریلا مانا گیا ہے ان میں سے کافی کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تپ دق سے بچاؤاور احتیاطی تدابیر

سموکنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑی بڑی بیماریاں مندرجہ ذیل ہیں

لنگ کینسر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ےمباکو نوشی لنگ کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے ہر سال لنگ کینسر سے ہونے والی اموات میں دو تپای صرف سموکنگ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ایک بات بتانا بہت ضروری ہے کہ اگر آپ کے گھر میں اور کام کرنے والی جگہ پر دوسرے لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو اس جگہ پر دھواں لنگز میں جانے کی وجہ سے ایسے لوگوں کو بھی لنگ کینسر ہو جاتا ہے جو سموکنگ نہیں کرتے لیکن دھواں ان کے اندر جاتا ہے ۔ اگر ایک سگریٹ نوش اپنی عادت ترک کر دے تو دس سال کے بعد اس کے لنگ کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات آدھے رہ جاتے ہیں۔
سانس کے دائمی امراض۔۔۔۔ سگریٹ نوش سانس کے ایسے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن میں ان کے لنگز میں چھوٹی چھوٹی پس سے بھری ہوی تھیلیاں بن جاتے ہیں جس سے وہ تکلیف دہ کھانسی اور سانس شدید تکلیف سے لینے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں یہ بیماری خاص طور پر ان لوگوں میں ذیادہ ہوتی ہے جو چھوتی عمر سے ہی سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔اس سے دمے کے مرض میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ان تمام مصیبتوں سے چھٹکارہ پانے کا بہترین حل یہ ہے کہ جلد از جلد تمباکو نوشی سے چھٹکارہ حاصل کر لیا جاے اس سے طدمہ کی علامات میں بھی کافی افاقہ ہوتا ہے۔
نومولود بچے ۔۔۔۔ اگر ماں سموکنگ کرتی ہے یا وہ ایسی فضا میں رہتی ہے جہاں سگریٹ کا دھواں رہتا ہے تو ایسی ماں کے ہونے والے بچوں کے لنگز پوری طرح نشونما نہیں پاتے اور پوری طرح کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے جس کی وجہ سے ان میں دمہ ،نمونیہ، برونکائٹس اور سانس کی دوسری انفکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ان امراض کی وجہ سے ہر سال تقریبا سترہ لاکھ بچوں کی اموات پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی ہو جاتی ہیں
ٹی بی۔۔۔۔اگر کسی کو ٹی بی کا مرض ہو جاے تو یس کے لنگز خراب ہو جاتے ہیں،جبکہ اگر ایسا مریض سموکنگ کرے تو اس کے لنگس مزید تباہ ہو جاتے ہیں۔اور اگر کسی کو ٹی بی کی بیناری خوابیدہ صورت میں موجود ہے تو سموکنگ سے اس کی بیماری ایکٹو ہو جاتی ہے۔اس طرح سموکنگ سے ٹی بی کے مریض کی نہ صرف تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مرنے کی شرح میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت کیلئے سردیوں کی دھوپ کتنی فائدہ مند ہے؟

اس سال یعنی سال 2019ء کے ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے کے اہداف

یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم لنگز کی صحت کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیںبراہ راست سگریٹ نوشی اور اس کے دھویں سے بچنا ہو گا لیکن نہایت افسوس کی بات ہے کہ کافی ممالک ،خصوصا پسماندہ ممالک میں اس بات کی آگہی ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے سگریٹ نوشی ہر کنٹرول حاصل کرنا کافی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تمام حکومتوں اور معاشروں کو اس لعنت کے خلاف مل جل کر کام کرنا ہو گا لیکن لگتا ہے کہ ابھی تک ہم اپنے ٹارگٹ سے بہت پیچھے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دنیا کا ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوے اس سگریٹ نوشی کے خلاف پوری طرح جہاد کرے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کردار والدین کا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوے خد بھی سگریٹ نوشی سے گریز کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس لعنت سے بچنے کی ترغیب دیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں