Barbar-1

مسجد الحرام میں بال کاٹنے والوں کی پکڑ دھکڑ کیوں ہو رہی ہے؟

EjazNews

سعودی عرب کے شہر مکہ میں واقع مسجد الحرام میں عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے بعد اپنے بال ترشوانے یا کٹوانے پڑتے ہیں۔ یہ حج اور عمرے کے شعائر میں سے ہے۔
حجاموں کی اہمیت کے پیش نظر سعودی حکومت نے حرم مکی کے باہر ہر طرف سینکڑوں باربر شاپس کھولنے کا اہتمام کیا ہے جن میں نہ صرف صحت اور صفائی کے اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ بال ترشوانے اور سر منڈوانے کی معقول قیمت بھی متعین کر رکھی ہے۔
اس کے باوجود حرم شریف کے اندر اور خاص طور پر مروہ کی پہاڑی پر متعدد افراد جن میں زیادہ تر بچے قینچیاں لے کر کھڑے رہتے ہیں اور سعی مکمل کرنے والوں کو دو تین ریال کے عوض قینچی فراہم کر دیتے ہیں۔ تساہل پسند معتمرین ایک طرف سر کے مختلف حصوں سے چند بال کاٹ کر خود کوبزعم خود احرام سے آزاد کردیتے ہیں تو دوسری حرم مکی کے اندر گندگی اور آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔
26 ٹیمیں تشکیل:
اخبار 24 کے مطابق حرم مکی انتظامیہ سمیت میونسپلٹی اور دیگر حکومتی اہلکار حرم مکی کے اندر قینچی لے کر کھڑے ہونے والوں کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں۔
ماہ رمضان میں معتمرین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ ہی حرم کے اندر بال کٹوانے کے لیے قینچی فراہم کرنے کا غیر قانونی کاروبار بھی عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس سال حرم مکی شریف انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے اس منفی رجحان کے انسداد کے لیے 26 ٹیمیں تشکیل دے رکھی ہیں۔ اب تک 500 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں سعودی شہری اور غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ گرفتار شدگان میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اس منفی رجحان کے انسداد پر مامور ٹیم کے ایک اہلکارزاید الشہری نے بتایا کہ ٹیمیں قینچی پیش کرنے والوں کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کرتے ہیں۔ گرفتار شدہ شخص اگر شہری ہو تو اس سے تحریری عہد نامہ لکھوا کر چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ غیر ملکی کو ادارہ ترحیل کے حوالے کیا جاتا ہے۔ وہاں قانون کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔
معتمرین کیا کہتے ہیں:
حرم شریف کے باہر جب حکومت نے سینکڑوں دکانیں کھول رکھی ہیں جن میں مناسب قیمت پر صاف ستھری سروس فراہم کی جاتی ہے اور جہاں صحت کے اصولوں کے مطابق کام کیا جاتا ہےتو پھر بعض معتمرین اس طرح کا غیر قانونی کام کیوں کرتے ہیں جن کی وجہ سے ان کی صحت کو بھی نقصان پہنچ جاتاہے۔ جس قینچی سے بال کاٹے جاتے ہیں اس کا متعدی جراثیم سے پاک ہونے کی کیا ضمانت ہے۔
عکاظ اخبار نے یہی سوال ان معتمرین سے کیا جو حرم کے اندر اپنے بال کاٹنے کو ترجیح دیتے ہیں تو اس پر ایک معتمر نے کہا کہ ’میرے پاس وقت نہیں کہ میں باہر جاکر باقاعدہ بال کٹوالوں۔ میں ابھی حرم میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔‘
اس سے ملتی جلتی رائے پاکستانی معتمر محمد سرفراز کی تھی جس نے کہا کہ ’رش سے بچنے کے لیے وہ ایسا کر رہے ہیں۔ حالانکہ احناف کے نزدیک اس طرح بال کاٹنا غلط ہے مگر جب دوسرے لوگ کر رہے تو یقینا اس کی گنجائش ہوگی۔‘
ایک ہندوستانی معتمراکبر الدین کا کہنا تھا کہ ’باربر شاپ میں بال کٹوانے کے 10ریال دینے ہوں گے جبکہ حرم کے اندر یہ کام 3ریال میں ہوجاتا ہے۔‘
مکہ مکرمہ میں حجاموں کی تاریخ:
دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہوگا جہاں کے لوگ مکہ میں بال ترشواتے یا منڈواتے نہ ہوں۔ مکہ مکرمہ واحد مقام ہے جہاں دنیا کے کسی بھی شہر اور بستی کے مقابلے میں سب سے زیادہ بال گرتے اور دفنائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ کا دشمن کرونا وائرس ہے چین نہیں:ترجمان وزارت خارجہ چین
مکہ مکرمہ میں دنیا کے کسی شہر سے بھی زیادہ بال کاٹ کر دفنا دئیے جاتے ہیں

امام ازرقی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ’مکہ میں حجاموں کا مرکز دار عمر بن عبدالعزیز کی لائن میں مروہ کے پاس ہے اور اسکا رخ مروہ کی سڑک کی طرف ہوتا ہے۔‘
اس سے پتہ چلتا ہے کہ حجام ان کے زمانے میں مروہ کے پاس حجامت کا کام کیا کرتے تھے۔
سعودی سکالر ڈاکٹر الہام البابطین کے مطابق ’حجام ظہور اسلام کے وقت حجامت کا کام کیا کرتے تھے۔ بعض قریشی مثال کے طور پر الحکم بن ابی العاص اور حریث المخزومی اجرت لے کر بال مونڈتے یا کاٹتے تھے۔ معمر بن عبداللہ العدوی آغازِ اسلام میں حجامت کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے۔ خلافت امیہ کے عہد میں مکہ کے بعض لوگ حجامت بنوانے کیلئے حجاموں کو اپنے گھربلوایا کرتے تھے۔
1360ہجری کے بعد مکہ مکرمہ میں غیر ملکی کثیرتعداد میں آکر بس گئے۔ مکہ کے لوگوں نے اجنبیوں سے سر کے بال بڑھانے کا طریقۂ کار سیکھا۔ غیر ملکیوں نے مختلف مقامات پر حجامت کی خوبصورت دکانیں کھول لیں۔ ان میں حجامت کے نئے آلات سجاکر رکھے جاتے تھے۔ حجام برقی مشینوں سے سر کے بال مونڈنے لگے اور اس طرح زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اس میدان میں بھی نت نئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
(بشکریہ اردو نیوز)

یہ بھی پڑھیں:  حج درخواستیں5لاکھ سے متجاوز ، مسجد قبا24گھنٹے کھولنے کا فیصلہ

اپنا تبصرہ بھیجیں