لگتا ہے برف پگھل رہی ہے

EjazNews

ٹوکیو میں جاپانی وزیراعظم شنزو ابے کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جاپان اور امریکہ کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹر مپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے،جوہری ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا میں بہت مسائل ہیں اس لیے امریکا ایران سے جوہری ہتھیاروں کاخاتمہ چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اب سنگین معاشی مشکلات کی وجہ سے پیچھے ہٹ گیا ہے اس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں چاہتے ، ایرانی اچھے لوگ ہیں ہم ایران میں حکومت تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اوبامہ انتظامیہ نے جو معاہدہ ایران سے کیا تھا وہ تباہ کن تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس موجودہ قیادت کے ساتھ ہی عظیم ملک بننے کا موقع موجود ہے۔دوسری طرف چین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چین سے ڈیل کے منتظر ہیں ، چین سے ٹیرف کی وجہ سے بزنس دوسرے ملکوں میں جارہا ہے۔
جبکہ جاپانی وزیراعظم کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام جاپان اور دنیا کے لیے اہم ہے، مشرق وسطی میں کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنے کو تیا ر ہیں۔ ایران امریکہ تنازع کو مسلح کشیدگی میں تبدیل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔
یہ پریس کانفرنس اپنی جگہ بہت سے سوالات کا جواب دے چکی ہے کہ جس میں اس بات کا اندیشہ کسی حد تک ٹلتا ہوا نظر آرہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی جنگ ہو نے جارہی ہے۔ لیکن قبل از قیاس کچھ بھی کہنا ممکن نہیں جب تک ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا ۔
ایرانی بھی جنگ کے حمایتی نہیں اور امریکہ بھی جنگ نہیں کرنا چاہتا اس کے باوجود دنیا کے حالات کسی طرح بدلتے ہیں اس کا اندازہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے کل کیا ہونا والا ہے یہ سوچنا آج ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ کچھ دن پہلے تک امریکہ صدر ایران کو کہہ رہے تھے کہ اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو اس کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا جبکہ ایرانی کہہ رہے تھے کہ جنگ کی صورت میں وہ اپنا دفاع بخوبی کرنا جانتے ہیں۔
لیکن جاپان کے دورے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے بعد اندازہ لگایا جارہا ہے کہ برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے اور یہ خطہ مزید کسی تباہی سے دو چار نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے امام خامنہ ای کے آنسو بہہ نکلے

اپنا تبصرہ بھیجیں