ملیریا سے احتیاطی تدابیر اپنا کر حفاظت ممکن ہے

EjazNews

خلاف معمول اور موسلا دھار بارشوں کے بعد ہمارے ملک کے اکثر شہروں کی تباہ حالی میں صرف اضافہ ہی نہیں ہوتا بلکہ جگہ جگہ غلیظ گندے، سڑے ہوئے کالے جوہڑ بھی بن جاتے ہیں، جو غریب علاقوں میں بھی ہیں اور امیر علاقوں میں بھی۔ یہ تمام جوہڑ ملیریا ساز مچھروں کی آماجگاہ ہیں جو شام ہونے کے ساتھ ہی غریب انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں ان کا خون چوستے ہیں اور ملیریا کے کرم ان کے جسم کے اندر داخل ہوتے ہیں۔
مچھر کی مادہ،انسان کے جسم میں ایک یا دوقسم کے ملیریا پھیلانے والے ”طفیلی کرم “ کاٹننے کے دوران داخل کرتی ہے۔ ”وائی ویکس“ طفیلی، خون میں پہنچنے کے بعد جگر میں داخل ہوتے ہیں جہاں یہ ہزاروں کی تعداد میں خون کے سرخ خلیات کے اندر داخل ہو جاتے ہیں جو پھول کر ٹوٹ جاتے ہیں اور طفیلی کرم باہر آجاتے ہیں، اس وقت مچھر سے کاٹا ہوا بیمارا جاڑا بخار یا تپ لرزہ میں مبتلا ہوتا ہے اور بخار بلند ہو جاتا ہے۔ یہ ملیریا ہے۔ اگر اس وقت خون کو ملاحظہ کیا جائے تو طفیلی کرم پائے جاتے ہیں، اس طرح ملیریا کی تشخیص ہو جاتی ہے اور دستیاب دافع ملیریا ادویہ سے علاج ہو سکتا ہے۔ اگر موثر باقاعدہ علاج نہ ہو تو ملیریا بخار دائمی طور پر چلتا رہتا ہے بعض دفعہ سالہا سال تک یہ کیفیت چلتی رہتی ہے۔ ان افراد میں توانائی ختم ہو جاتی ہے، تلی بڑھ جاتی ہے اور قلت خون ہو جاتی ہے۔
دوسرا طفیلی کرم ”فالسی پیرم “ خرابی کرنے میں مندرجہ بالا سے بھی بدتر ہے۔ یہ زیادہ تعداد میں سرخ خلیات خون پرحملہ آور ہوتے ہیں، یہ تعداد میں بہت زیادہ ہوتے ہیں اور بہت تیزی سے ان میں اضافہ ہو تا ہے نتیجتاً سرخ خلیات خون زیادہ تعداد میں برباد ہو جاتے ہیں۔ یہ تباہ شدہ خلیات یا ان کا ملبہ بیمار کی تنگ سرخ رگوں کو بند کر دیتا ہے، جس طرح ہماری گند آب کی نالیاں کوڑے سے اٹ جاتی ہیں نتیجتاً اعضائے رئیسہ ضروری آکسیجن اور غذا سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اگر دماغ کی رگیں متاثر ہوں تو بہت زیادہ غنودگی، جھٹکوں کے دورے اور بے ہوشی(کوما) واقع ہوتی ہیں، اسی کا نام دماغی ملیریا ہے۔ گردوں کی رگیں بھی بند ہو سکتی ہیں نتیجتاً گردوں کو ضرر پہنچتا ہے۔ اسی طرح دیگر اعضا مثلاً جگر ، آنتیں ، پھیپھڑے اور خون کا نظام متاثر اور ماﺅف ہو جاتے ہیں بخار ہمیشہ ہوتا ہے بیمار سخت خراب اور بد حالی کی کیفیت میں ہوتا ہے اگر اس کی فوری تشخیص و علاج نہ ہو تو انجام تباہ کن ہو سکتا ہے۔
ملیریا کی تشخیص میں مشکل اس لیے ہوتی ہے کہ یہ متعدد امراض سے مشابہت رکھ سکتا ہے۔ مثلاً میعادی بخاری (ٹائیفائیڈ) ، سوزش، جگر، سوزش دماغ، سوزش معدہ وآنت، وائرسی عفونتیں اور دیگر عفونتوں سے ۔ چنانچہ مرض ملیریا کی تشخیص صحیح اور یقینی ہونی چاہیے۔ صرف قیاس آرائی سے نہیں۔ تیز بخار کے وقت بیمار کا خون لیا جائے جس میں ملیریا کرنے والے طفیلی کرم کو شناخت کیا جائے اور ا س سے قبل ملیریا کش دوا نہیں دی جائے ملیریا کو دفع کرنے والی دوا دینے کے بعد خون کا معائنہ غلط ہے۔ طفیلی کرم کی شناخت کیلئے معائنہ خون فوری ہو سکتا ہے، جس کا نتیجہ ایک گھنٹے میں معالج کو مل سکتا ہے جس کی روشنی میں علاج ہوسکتا ہے اور صحیح دوا کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ غیر پیچیدہ مریضوں کے لیے کلوروکوئن اب بھی نہایت ارزاں ، غیر مضر اور نہایت موثر دوا ہے۔ ”فالسی پیرم “ ملیریا کا علاج بہ نسبت ”وائی ویکس “ کے نہایت مشکل ہے۔ بعض اوقات کلرو کوئین جزوی طور پر موثر ہوتی ہے اور بعض دفعہ بے اثر۔ اس مریض کا علاج شفاخانہ میں ہو، دوائیں بھی دستیاب ہیں جو موثر بھی ہیں یہ دوا رگ کے انجکش کے طور پر دی جاتی ہے۔ اس زمانہ میں جدید دوائیں بھی دستیاب ہیں جو موثر بھی ہیں اور بہتر بھی مثلاً ”آرٹی میھر“ جوصرف طبیب کے مشورہ سے لی جائے بعض دفع ملیریا ادویہ جن کا جزو سلفا بھی ہے غیر موثر بھی ہیں اور خطرناک بھی ہو سکتی ہیں۔
یہ قدرت کا انعام ہے کہ ملیریائی علاقوں میں رہنے والوں کی اکثریت کو مکمل یا جزوی مامونیت حاصل ہو جاتی ہے ورنہ ہم سب ملیریا میں مبتلا ہو جاتے۔ جن میں مامونیت نہیں ہوتی وہ ملیریا کی مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ ان علاقوں کے باشندوں میں سے کس کو ملیرا ہوگا کس کونہیں یہ پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ جو لوگ بیرون ملک سے ملیریائی علاقوں میں وارد ہوتے ہیں انھیں مہلک ملیریا ہو سکتا ہے اور انھیں ان علاقوں میں آنے سے قبل ملیریا روکنے والی ادویہ کا استعمال شروع کر دینا چاہیے۔ جو لوگ ان ملیریائی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں ان کے لیے مرض روکنے والی ادویہ کچھ زیادہ موثر نہیں۔ نہ فضائی دافع عفونیت دوا پاشی، جو صرف پانی کو اور خراب کرے گی۔ دراصل کرنے کا کام یہ ہے کہ ان جوہڑوں کو بھر دیا جائے اور گند آب کی نکاسی کو درست کیا جائے، سڑکوں کی مرمت کی جائے۔ اس دوران وہ تمام طریقے اختیار کیے جائیں جن سے رات کو ہم مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہیں ، مثلاً مچھر دانی، دروازوں پر جالیوں کے پردے، مچھر تیل جو جسم کے کھلے ہوئے ہاتھوں، پاﺅں پر لگایا جائے اور جہاں تک ہو سکے اپنے گھر میں اور گردو پیش اہل محلہ مل کر جوہڑوں کو مٹی چونے سے بھر دیں۔ علاوہ ازیں کنڈلی (کوائل)، برقی ٹکیہ (میٹ) اس ضمن میں مچھروں کو دور کرنے کے لیے مستعمل ہیں اور مفید ہیں۔
ملیریا کو روکا جائے
اس زمانہ میں لاکھوں افراد ملیریا میں مبتلا ہو تے ہیں۔ کثیر تعداد، موت کی آغوش میں سو جاتی ہے اور جو لوگ بچتے ہیں وہ ناتوانی کی تصویر ہوتے ہیں وہ نہ تو عرصہ تک کام کے قابل رہتے ہیں اور بے کاری ، علاج معالجہ میں زیر باری کے سبب سے مالی لحاظ سے بھی قلاش ہو جاتے ہیں اس مرض کی وبا زیادہ غریب و غلیظ علاقوں پر پڑتی ہے ، جہاں کے باشندے معالجین اور ملیریا دونوں کی چوٹوں کو سہتے ہیں۔
ملیریا ”کوئی “ آج کا مرض نہیں بلکہ برسوں سے ہے اور تقریباً ہر شخص کو زندگی میں ایک نہ ایک دفعہ اس کا تجربہ ہوا ہوگا، خصوصاً دیہاتی علاقوں میں اس مرض کا زور زیادہ ہے۔ ملیریا بخار میں جب کوئی شخص مبتلا ہوتا ہے جتو اسے زور سے سردی لگ کر بخار چڑھنا ہے جسم میں درد ہوتا ہے، بخار روزانہ دوپہر کے وقت چڑھتا ہے جو کچھ ساعت کے بعد ، پسینہ آکر اتر جاتا ہے۔ بہر حال یہ کسی وقت بھی ہو سکتا ہے، ایک دن چھوڑ کر باری کا بخاربھی ہو سکتا ہے۔
ملیریا کی عالمگیری کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کی 41فیصد آبادی کسی نہ کسی طور پر اس سے متاثر ہوتی ہے ، جس میں ہر ہفتہ 20لاکھ ملیریا کے نئے مریض شامل ہو جاتے ہیں۔ ابھی تک اس مرض کو قابو کرنے کے لے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
اس مرض کے سدباب کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر کارگزاری ضروری ہے۔ گھروں کے آس پاس جوہڑ، یا گندے پانی سے بھرے ہوئے گڑھے صاف کیے جائیں یا ان میں جراثیم کش ادویہ ڈالی جائیں، ان جوہڑوں میں مچھر پیداہوتے ہیں، جو بعد میں ملیریا طفیلیوں کو افراد کے جسم میں داخل کر کے انھیں مریض بنا دیتے ہیں۔ گھروں میں ایسی جالیاں لگائی جاسکتی ہیں جس میں مچھر داخل نہ ہو سکیں مچھر دانیوں کا استعمال نسبتاً ارزاں ہے اس کے علاوہ اندرون خانہ مچھر کش ادویہ چھڑکی جائیں اور رات کوسوتے وقت مچھروں کو دور رکھنے والا تیل جسم کے کھلے ہوئے حصوں مثلاً ہاتھوں اور پیروں پر لگایا جائے ، آخرمیں دافع ملیریا کے مستقل استعمال کرنے سے بھی ملیریا بخاری سے تحفظ مل سکتا ہے۔
اس بات کی انتہائی ضرورت ہے کہ غریب آبادیوں میں ملیریا اور دیگر امراض سے تحفظ کے طریقے سکھائے جائیں، اس غرض سے مدرسوں اور مسجدوں میں مختصر تقریروں کا انتظام کیا جاسکتا ہے یا مقامی طور پر امراض سے متعلق مختصر فلم دکھائی جاسکتی ہے، ٹی وی اور ریڈیو پر اقوال صحت کی تشہیر کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہیلتھ گائیڈ
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں