citizan portal

سٹیزن پورٹل

EjazNews

سٹیزن پورٹل کے صارفین کی تعداد9لاکھ 60ہزار ہو چکی ہے۔جبکہ 7لاکھ 64ہزار657 شکایات سیٹزن پورٹل میں درج کروائی گئی ہیں۔حیرت انگیز طور پر 6لاکھ 64ہزار657شکایات حل کر لی گئی ہیں۔جعلی اور جھوٹی شکایات درج کروانے والے 50ہزار صارفین کو نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔

بظاہرا دیکھا جائے تو یہ بڑی شاندار کارکردگی ہے۔ لیکن تصویر کے ہمیشہ دو رخ ہوتے ہیں۔ اگر دوسرے رخ کی جانب دیکھا جائے31 اسسٹنٹ کمشنرز کو شوکاز نوٹس اور20 کو وارننگ جاری کی گئی ہے۔ شکایات کے ازالے کیلئے غلط رپورٹز وزیراعلی تک کو بھیجی جاتی ہے۔ شاید ذہن میں یہ ہو گا کس نے پڑھنی ہے۔ دوسرا جز کیخلاف شکایات کی جاتی ہے عموما وہ کسی نہ کسی طرح کسی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان 20سال کی محنت کے بعد وزیراعظم بنے ہیں۔ وہ بیوروکریسی۔افسر شاہی۔اور سرکاری وغیر سرکاری حربوں کو بڑی حد تک سمجھ چکے ہیں۔ اسی لئےانہوں نے 33ہزار شکایات کو دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔اور 14 دن کے اندر اندرشکایات حل کرنے کے بھی آرڈر جاری کر دیئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ جن شہریوں نے شکایات واپس لی ہیں ان سے رابطہ کیا جائے کہ انہوں نے شکایات کسی دباؤ کے تحت تو واپس نہیں لیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی کی عمروں میں بڑھتا ہوا فاصلہ

ماضی میں بھی وزیراعظم فون سروسز اور ایسے بہت سے دوسرے اقدامات کیے گئے لیکن سب ناکام رہے ۔ اگر سیٹزن پورٹل پر مسلسل محنت کی جائے تو عوام اور وزیراعظم کے درمیان ڈائریکٹ رابطے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں جس سے تحریک انصاف کی حکومت سے لگائی گئی عوامی امیدوں کو پورا کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ کیونکہ بہت سی ایسی شکایات بھی موصول ہوئی ہوں گی اور ہوں گی جو بالکل آسانی کے ساتھ حل ہو سکتی ہیں لیکن افسر شاہی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسائل بن جاتے ہیں۔ اب اگر ان 33ہزار شکایات کو دوبارہ کھول کر مکمل طورپر عملدرآمد ک یا جائے تو امید کی جاتی ہے کہ بہت سے لوگوں میں امید کی کرن جاگ جائے گی کہ نہیں کوئی ہماری فکر کرنے والا بھی ہے۔ باقی ڈھکی چھپی بات تو کسی سے ہے نہیں کہ یہاں پر ہمیشہ سے طاقتور لوگوں کے پاس کیسے حربے ہوتے ہیں اور غریب کے پاس سوائے بددعاؤں اور سسکنے کے کچھ نہیں ہوتا۔ کیونکہ عدالتوں سے لے کر تھانوں، اور ہسپتالوں میں ایک ایسا سفارش اور رشوت کلچرل جنم لے چکا ہے کہ آپ نے اپنا معمولی سے معمولی علاج کروانا ہو اور آپ ایمرجنسی میں ہے تو کوئی سفارش ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ ہسپتال والے پانچ پانچ ماہ کا ٹائم دیتے ہیں چاہے اس دوران مرض اس قدر بگڑ جائے کہ بے قابو ہو جائے۔ تھانوں میں ایف آئی آر کٹوانے کیلئے شریف شہری ڈرتے ہیں۔ اور عدالتوں میں تو ایسے ہے جیسے سائل نہیں کوئی ذبح ہو نے کیلئے بکرا آیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں اس موبائل ایپ کے ذریعے داد رسی ملتی ہے تو سکھ کا سانس مل سکتا ہے اور عوام کا اعتماد حکومت پر بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ساتھ کشمیر کے رشتے

اپنا تبصرہ بھیجیں