imran khan

دس سالوں میں جو ملک کے ساتھ ہوا برا وقت تو آنا ہی تھا:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان شوکت خانم فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ ہر ادارے ہر انسان کی زندگی میں اونچ نیچ آتی ہے۔ مشکل وقت آ پ کیلئے اللہ بھیجتا ہے آپ کی اصلاح کیلئے ۔ اچھے وقت میں سب آپ کے دوست بن جاتے ہیں۔ برے وقت میں تو آپ کے گھر والے ہی آپ سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انڈین میں ہم سیریز کھیل رہے تھے ، ہم ہار گئے اب شام کو ٹیم میٹنگ ہو رہی تھی اگلے روز ہم نے پاکستان جانا ہے کیسے ہم پاکستان جائیں گے ،فیصلہ ہوا جب لوگ سوئے ہوئے ہوں گے۔ بڑی مشکل سے ہمیں صبح چار بجے کی فلائٹ مل گئی۔ جب ہم لاہور ائیر پورٹ پہنچے تو انہوں نے کسٹم والوں نے ہمیں دو گھنٹے روکا۔ جب دو گھنٹے انہو ں نے ہمیں روکا تو صبح کی روشنی ہو چکی تھی اس کے بعد جو ٹیکسی اور رکشہ والوں نے ہمیں کہامیں وہ کبھی بھولتا ہی نہیں ، لیکن جب سات آٹھ سال بعد ہم انڈیا سے سیریز جیت کر آئے تو کسٹم والے نے ہی ہمیں کندھوں پر اٹھا کر باہر لے گئے۔
اچھا وقت آپ کو ٹریننگ نہیں دیتابرا وقت آپ کو سکھاتا ۔ میری پارٹی تحریک انصاف نے 1997ء کا الیکشن لڑا ،سب پہلی دفعہ الیکشن لڑ رہے تھے۔ میرے منع کرنے کے باوجود سب نے الیکشن لڑا، الیکشن کا جب رزلٹ آیا تو ہمارا زیرو سکور آیا۔ میںتو ہار جیت کا عادی تھا، میں ان چیزوں کو سمجھتا تھا میں کہتا تھا جب کوئی ایسا بات ہو تو آپ اگلے دن کا اخبار نہ پڑھیں ۔ ضرور زخموں پر مرچیں ڈالنی ہیں اوردوسرا کبھی فیملی کی شادیوں پر نہ جائو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رشتہ داروں کو جو مزہ آتا ہے نہ آپ کے برے وقت پر وہ کسی اور کو نہیں آتا۔ میں تو تیار تھا لیکن سب نہیں تھے کچھ تو پولیٹیکل کیرئیر ہی چھوڑ گئے۔ آج برا وقت آیا ہوا ہے بزنس مین کیلئے برا وقت ہے۔ لیکن میں آپ کو کہنا چاہتا ہوں دنیا میں قوموں پر برا وقت آتا ہے۔ لیکن جب قوم اکٹھی ہو جاتی ہے کسی چیز کا بھی مقابلہ کر سکتی ہے۔ یہ انشاء اللہ آپ دیکھیں گے ہمارے دو مہینے اور مشکل ہیں جو دس سال پہلے اس ملک سے ہوا ہے جس طرح اس ملک سے لوٹ مار ہوئی ہے۔ برا وقت آناہی تھا۔ آپ دیکھیں جب ایک گھر پر قرض چڑھ جاتے ہیں تو وہ آمدن بڑھاتا ہے جب تک آمدن نہیں بڑھتی تو مشکل وقت گزارنا پڑتاہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہے ان نو مہینوں میں میں نے اپنے ملک کو اندر سے جس طرح کا دیکھا ہے اللہ نے ہمیں اس ملک میں کوئی کمی نہیں دی۔ میرا یہ ایمان ہے یہ وہ ملک بنے گا ک باہر سے لوگ پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ برے وقت میں قوم اکٹھی ہوتی ہے۔ جب قوم جڑ جاتی ہے تو بڑے بڑے مشکل مراحل سے نکلتی ہے۔میں آپ کو 2010ءکے سیلاب کی مثال دیتا ہوں پوری دنیا سمجھ رہی تھی پاکستان دس سال پیچھے چلا جائے ،انٹرنیشنل ایڈ بھی نہیں آئی۔ پاکستان اس مشکل حالات سے نکلا کیونکہ سب پاکستانیوں نے حصہ ڈالا۔قوم چھ مہینے میں اس مشکل وقت سے نکل گئی۔ پتہ بھی نہیں چلا کتنا بڑا سیلاب ہے۔
منیر صاحب ، عقیل ڈیڈی آپ کو کہیں گے بزنس کم ہوا ہے لیکن اس کے باوجود شوکت خانم کو فنڈز زیادہ ملے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی کامیابی کے راز دو ہیں ۔ ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹے،بڑے بڑے مشکل وقت ہسپتال پر آئے۔ 1997ء میں مخالفین نے ہم پر الزام لگایا کہ عمران خان شوکت خانم کو ملنے والی زکوۃ کے پیسوں سے الیکشن لڑا ہے اور وہ اس قدر شدید مہم تھی کہ شوکت خانم کے عطیات تقریباً ختم ہو گئے۔ میں پوری دنیا میں پھرا شوکت خانم کیلئے پیسے اکٹھے کیے۔ مشکل مرحلے سے ہم نکل گئے۔ آپ یقین کیجئے اس وقت سے لے کر آج تک ہر سال پچھلے سال سے زیادہ عطیات ملتے ہیں۔ آپ دیکھیں پشاور کا ہسپتال بھی بن گیا۔ کراچی ہسپتال شروع ہو چکا ہے اس کیلئے ہم پیسے اکٹھے کر رہے ہیں اور یہ لاہور ،پشاور سے بڑا ہسپتال ہے اور سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالک کی ضمانت منظور

اپنا تبصرہ بھیجیں