women talking

خواتین کا طرز گفتگو شخصیت کا حصہ ہوتا ہے

EjazNews

دل فریبی اور جاذبیت انسانی صفات میں سے انتہائی قیمتی اورلازوال ہے کہ یہ دوسروں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ گودل فریبی اور جاذبیت فطری عطیہ ہے اور اکثر اوقات اسے فطرت ثانی بھی کہا جاتا ہے مگر یہ حاصل بھی کی جاسکت ہے اور کون نہیں جانتا کہ جاذبیت انسان کی بڑی قیمتی صفت ہے اور اسے حاصل کرنا اتنا دشوار ہے نہ اتنا سہل۔
اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ پر کشش نظر آنے کیلئے خوبصورت چہرہ ضروری ہے حالانکہ اسے ذرا بھی اہمیت حاصل نہیں کہ اکثر جاذب ہستیوں کا جب جائزہ لیا گیا تو اس کی جاذبیت کا راز تیکھے نین نقش میں نہیں بلکہ ان کے اجلے لباس میں تھا۔ لہٰذا اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ جاذب نظر آئیں تو سب سے پہلے اپنے لباس پرتوجہ دیجئے۔ اور اپنے آپ کو بے جا پڑرمردگی کے خول سے نکال کر اپنے چہرے پر خوشگوار تاثر کا غازہ ملئے۔ ہنستا ہوا چہرہہ بذات خود ایک حسن ہے پھر ایک نظر اپنے سراپا پر ڈالئے۔ اپنے ہاتھوں کو اناڑیوں کی طرح ادھر ادھر مت پھلا ئیے۔ نہ زیادہ حرکت دیجئے اور اپنی چال کے بے ڈھنگے پن کو دور کیجئے۔ آپ کی چال میں کچھ خرابی ہو یا آپ چلتے ہوئے ہاتھوں کو حرکت دینے کے عادی ہیں تو باقاعدہ ورزش کی عادت اپنا کر ان خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش شروع کر دیں کہ جاذبیت ایسی چیز ہے جو پہلی نگاہ ہی میں موہ لیتی ہے۔ آپ کا روکھا اور بے ڈھنگا پن آپ کی شخصیت کو بالکل ختم کر دے گا اور آپ دوسروں پر برتری ثابت کرنے کا موقع ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں گی۔
اس کے بعد نمبرآتا ہے آپ کی آواز اور لب و لہجہ کا۔ آپ کی آواز اور لہجہ پر کشش ہو مگر اس میں تضع نہ ہو۔ کھر درے لہجے میں بات کرنا یا گفتگو کے دوران آخری فقرے یا لفظ کو حذف کر دینا اور مذکر مونث کا امتیاز کئے بغیر غائبانہ بات جاری رکھنا اور دوران گفتگو بڑ ی بڑی گالیاں دینا اپنا تکیہ کلام بار بار دوہرانا یہ سب کچھ ہمارے شستہ مذاق کی نشان دہی نہیں کرتے بلکہ ان سب سے ہمارا پھوہڑ پن عیاں ہوتا ہے اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں آداب گفتگو پر توجہ ہین ہیں دی۔ لب و لہجہ کے متعلق یہ بھی ضروری نہیں کہ اردو بولتے وقت لکھنوی طرز یا حیدر آبادی لہجے اور دہلوی ہونے کی سند پیش کی جائے اور پنجابی سندھی کے لئے قدیم و جدید کے چکروں میں پڑا جائے ۔ یہاں بولی کی بات نہیں ”ادائیگی“ کی ہے کہ ہم خواہ کہیں کی بولی بولیں۔ ادائیگی کے لئے لہجہ نرم شستہ اور گفتگو پر مذاق رکھیں تاکہ وہ سننے والوں کے کانوں میں رس گھولے۔ اکثر دیکھاگ یا ہے کہ بہت سے حسین چہرے اسی لئے بد صورت دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ان کی آواز خوبصورت نہ تھی۔ پرانے زمانوں میں تو عورت کی آواز ہی اس کی گھر گرہستی ہونے کی ستد پیش کی جاتی تھی اور مردانہ آواز لہجے والی عورت کے متعلق قیاس کیا جاتا تھا کہ وہ اچھی گر ہستی یا وفادار ثابت نہ ہوگی۔ اسی طرح اکثر کا خیال تھا کہ ”عورت کی آواز بھی عورت ہے“۔
اسی لئے کسی سے بات کرتے وقت آپ کتنے بھی رنج اور غصے میں ہوں۔ اپنا لب و لہجہ نہ بگاڑئیے۔ بڑی اونچی آواز میں بولئے۔ اور کسی طور پر بھی گفتگو کے دوران شرط باندھنے کی طرح اپنی انگلی یا ہاتھ ہوا میں بار بار نہ لہرائیے تاکہ آپ کے سخت مزاج، اکھڑ اور بدمزاج ہونے کی دلیل نہ ثابت ہو۔ ہمارے ہاں کی پرانی کہاوت ہے۔ زبان شیریں ملک گیری۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی محاورہ عام ہے کہ زبان کا زخم نہیں بھر پاتا تلوار کا بھر جاتا ہے۔ اس لئے بات کرتے ہوئے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے بلکہ اس کے لئے بچپن کے قاعدے کاپ ڑھا ہوا فقرہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پہلے بات کو تو لو پھر منہ سے بولو۔ ہمارے ہاں اکثر بہنیں اس فن پر بڑی نازاں ہیں کہ وہ بڑے دھڑلے سے بات کہہ گزرتی ہیں اور کسی کوط عنہ دینے میں کمال رکھتی ہیں طعنہ دینا یا طعنے کا ادھار نہ رکھنا تو ہر عورت کی فطرت ہے۔ مگر آپ اتنی احتیاط کیجئے کہ کتنی ہی سخت بات کہتے ہوئے آپ کے چہرے کے تاثرات برے نہ ہوں ۔ بلکہ اپنے ہونٹوں کی مسکراہٹ اور آواز کی خوبصورتی کو کبھی نہ بھول پائیے۔ اپنی ہی بات پر مت اڑ رہیے۔ اس سلسلہ میں دوسروں کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھئے۔
با اصول اور دیانت دار ہونا بری بات نہیں مگر کھری بات جھٹ سے کسی کے منہ پر نہ دے مارئیے اور بات کرتے انتہا تک نہ پہنچ جائیے۔ کہ اس طرح پوری محفل آپ سے اکتا جائے گی۔
طعنہ زنی کر کے وقتی مسرت تو حاصل کی جاسکتی ہے مگر یا درکھئے طعنہ سننے والی بھی وقت طور پر اپنی بے عزتی برداشت کرےگ ی اور پھر وہ ٹوہ میں رہے گی کہ بھری محفل میں آپ کی بھی ہنسی اڑائی جائے۔ آپ پر پھبتی کسی جائے اس سلسلہ میں بات یاد رکھئے اگر آپ مذاق میں کسی کی برائی کی نشاندہی کرتی ہیں اور جس یک کرتی ہیں وہ بھی آپ کے ساتھ شامل ہو کر اپنا مذاق خود اڑائے مگر یہ بات اس کے دل میں بیٹھ جائے گی۔ اور وہ آپ کا مذاق اڑائے بغیر چین نہ کر پائے گی۔
اکثر لڑکیوں میں یہ فین بھی عام ہے کہ اپنی سہیلیوں میں بات کرتے وقت اپنے لہجے میں انتہا تصنع سمیٹ لیں گی۔ ایسی لڑکیوں کو کبھی کسی سہیلی سے فون پر گفتگو کرتے دیکھئے۔ ساری شائستگی سارا حسن ذوق ان کے لہجے میں سمٹ آتا ہے۔ مگر عام بول چال میں وہی کرختگی وہی کھر درا پن ، یہ دوغلا پن تو کسی طور پر پسندید ہ نہیں۔ بلکہ تصنع کی عادت کو اور بھی خراب کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چہرے کی جھریوں سے نجات ممکن ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں