سندھ توجہ کا طالب ہے

EjazNews

محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقہ لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں 14ہزار سے زائد لوگوں کی سکریننگ کی ئی جن میں 534افرادایچ آئی وی کی بیماری میں مبتلا پائے گئے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد میں 270خواتین ،264مرد شامل ہیں۔ جبکہ ان متاثرہ افرا د میں اکثریت بچوں کی ہے جو تقریباً70فید بنتی ہے۔
سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے پروگرام منیجر ڈاکٹر یونس چاچڑ کے بقول سندھ میں ایچ آئی وی کے 56 ہزار مریض موجود ہونے کا تخمینہ ہے۔ یہ تخمینہ سال 2016 کے سروے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک لاکھ 30 ہزار ایچ آئی وی کے مریض ہیں جن میں سے 43 فیصد سندھ کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایچ آئی وی کے 14 ہزار 518 مریض رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ہم نیوز کے مطابق ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کے متاثرہ افراد میں 12 سو خواتین، 141 خواجہ سرا، 178 بچے اور ایک سو بچیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 239 ایڈز کے مریض ہیں۔
ڈاکٹر یونس چاچڑ کے مطابق سندھ کی ہائی رسک آبادی میں پانچ فیصد افراد ایڈز کے مریض ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حیدرآباد کے 20 گاؤں ایچ آئی وی کی زد میں ہیں۔ان کے بقول حیدرآباد کے مختلف دیہات میں 60 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیہاتوں میں اسکریننگ کا عمل جاری ہے اور 40 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر یونس چاچڑ نے واضح کیا کہ حیدرآباد میں لوگ ایڈز کے نہیں بلکہ ایچ آئی وی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا علاج ممکن ہے۔سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے پروگرام منیجر ڈاکٹر یونس چاچڑ نے اعلان کیا کہ سندھ میں ایڈز کے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے 378 اویئرنیس سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریضوں کے علاج کے لیے سندھ میں آٹھ ٹریٹمینٹ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ڈاکٹر یونس چاچڑ نے واضح کیا کہ سندھ میں فی میل سیکس ورکرز، خواجہ سرا اور خود کو انجیکشن لگانے والے موالی ایڈز کا بنیادی سبب ہیں۔
یاد رہے ایڈز پھیلانے کے جرم میں لاڑکانہ سے ایک ڈاکٹر کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر بذات خود ایڈز کے مرض میں مبتلا ہے اور اس نے انتقاماً اس مرض کو پھیلایا ۔ اب حیرت والی بات یہ ہے کہ 534متاثرہ لوگ اس ایک شخص کی وجہ سے متاثر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  15برس کی ریاضت کے بعد میرا پیغام لوگوں کے دلوں میں اترنے لگا: وزیراعظم عمران خان

اپنا تبصرہ بھیجیں