بولتی تصاویر

EjazNews

علیم خان نے یوں تو رہائی کے بعد میڈیا سے صرف گفتگو ہی کی ہے لیکن ان کی گفتگو پر اگر غور کیا جائے تو بہت سے سوالات اور طلبی جوابات ہیں۔ کیونکہ جب آپ کسی بھی شخص کو گرفتار کرتے ہیں اور آپ کے پاس ثبوت نہیں ہوتا تو معاشرے میں اس کے بارے میں کیسے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور پہلے دن سے ہی اس کی ذات پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں چاہے وہ کیسا ہی شخص ہو اس کے بیوی بچے اپنے خاندان ، دوستوں ، رشتہ داروں کی نظروں کا سامنا کیسے کرتے ہوں گے اس کا جواب ضرور نیب کے پاس ہوگا۔ کیونکہ جب آپ نے کسی کو گرفتار کر لیا اور طویل دنوں کی قیدکے باوجود آپ کوئی ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکے تو یہ ادارے کے اوپر بہت بڑے سوالیہ نشانات ہیں۔ آپ نے ایک صوبائی وزیر کو گرفتار کیا اور گرفتار کرنے کے بعد آپ کچھ بھی ثابت نہ کر سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ بات کہی تھی جب بھی کسی کو گرفتار کیا جائے تو اس سے پہلے پختہ ثبوت ضرور حاصل کیے جائیں۔ لیکن یہ بات یا تو نیب کو سمجھ میں نہیں آتی یا پھر نیب سمجھنا نہیں چاہتی کیونکہ جن لوگوں پر نیب ہاتھ ڈالتی ہے وہ کوئی معمولی سطح کے لوگ تو ہوتے نہیں ۔ جو معمولی سطح کے لوگ ہوتے ہیں ان کی تو لاشوں کو بھی ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں ۔ کیونکہ وہ کروڑوں روپے کے وکیل نہیں کر سکتے۔
معاشرے کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے میں استاد کا ایک اہم کر دار ہوتا ہے اور یہ ادارہ اساتذہ کو ہتھکڑیاں پہنانے میں بھی گریزنہیں کرتا ۔ اور دوسری طرف آج علیم خان چند باتوں میں بہت کچھ کہہ گئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  شاہی جوڑا چترال کے سحر میں کھو گیا
عبدالعلیم خان رہائی کے بعد

مولانا خادم حسین رضوی رہائی کے بعد اپنی مسجد میں پہنچ گئے

مولانا خادم حسین رضوی کو گزشتہ دنوں ضمانت مل گئی تھی۔ رہائی کے بعد وہ اپنے مسجد میں آئے جہاں پر ان کے چاہنے والوں نے ان کا فقید المثال استقبال کیا۔ مولانا خادم حسین رضوی کو معاشرے میں انتشار پھیلانے اور گھیرائو جلائو ، توڑ پھوڑ کے الزام میں گزشتہ برس نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ان کو ضمانت ملی تھی۔ ضمانت کے بعد ان کی رہائی ہوئی ۔

تحریک لبیک پاکستان کے قائد مولانا فضل الرحمن کو کندھوں پر اٹھا کر مسجد میں لے جایا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں