تاریخ علم الادویہ و ادویہ سازی

EjazNews

علم الادویہ و ادویہ سازی کا ارتقاءابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ہزاروں صدیوں میں ہوا۔ لیکن مختصراً اسے چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(۱)مذہبی دور(۲) فلسفیانہ دور(۳) تجربانی دور(۴)سائنسی دور

پہلا انسان جو زخمی ہوا یا بیمار پڑا یا جسے بچے کی پیدائش کا سامنا کرنا بیک وقت خود ہی سرجن، ڈاکٹر اور فارمسٹ تھا۔ خاندانی ہمدردی اور صلہ رحمی کے جذبہ نے ہر فرد کو اکسایا کہ بوقت ضرورت اپنے رشتہ دار اور ہمسائے کو اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات سے فائد ہ پہنچائے۔ شروع شروع میں ادویہ کا فن خاندانوں اور قبیلوں تک محدود رہا۔ قبائلی سردارکو تمام مشاہدات سے باخبر رکھا جاتا تھا۔جس جس طرح تجربہ وسیع ہوتا گیا اور دنیا میں انسانوں کی آبادی بڑھتی گئی تو فن ادویہ اور علاج معالجہ کے طریقے خاندانوں اور قبیلوں کی حدود سے بڑھ کر سماجی حدود میں داخل ہو ئے ۔

انسانی تہذیب کے ساتھ ساتھ مذہبی ارتقا بھی ہوتا رہا اور قبائلی سرداروں سے ہٹ کر فن ادویہ سازی مختلف مذہبوںاور عقائد کے راہبوںاور کاہنوں میں منتقل ہوگیا اور آہستہ آہستہ ان مذہبی پیشواﺅں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گیا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اپنے رعب و دبدبہ جو کہ مذہبی پیشوا ہونے کی حیثیت سے انہیں پہلے ہی حاصل تھا کو مزید تقویت دی اور فن ادویہ کو ایک موثر آلہ کار بنایا اور لووگں کو یہ کہہ کر علاج معالجہ کی یہ تمام قدرتیں انہیں خداﺅں کی طرف سے ملی ہیں، اپنی ھیئت اور برتری کو قائم کیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ کئی صدیوں تک یہ فن بالکل محدود ہو کر کاہنوں کے ہاتھوں میں پوشیدہ جادو کی حیثیت اختیار کرگیا۔ مذہبی رسوم قربانیاں، چڑھاوے اور دعائیں ہرعلاج سے پہلے ضروری قرار پائیں اور دواﺅں کی حیثیت بالکل ضمنی ہوگئی اور علاج معالجہ میں اساطیری رسوم یعنی مانتھو لاجیکل فکشن (Mythologicl Fiction) کا دور دورہ شروع ہوا اور علاج معالجہ کی طاقت کو پروتھیس (Prothius) اور چیرون جیسے خداﺅں کی رضا سے منسوب کر دیا گیا ۔

تاہم چینی، ہندوستانی اور مصری تہذیبوں میں یہ علم کچھ کتابوں میں محفوظ کر لیا گیا تھا ۔ جن میں سب سے مشہور چین کی فارمیسی اور علم الادویہ کی کتاب پنٹ ساﺅ (Pent-Sao) جو شہنشاہ چن نونگ (Chin Nong) 2900سال قبل مسیح کے زمانہ میں لکھی گئی۔دوسری مشہور کتاب ( Papyrus Ebers) ہے جو مصر کے نامی فرعون (Ramses I) 1352قبل مسیح کے زمانہ میں لکھی گئی۔ تیسری مشہور کتاب ہندوستان میں شوشتر کی آیورویدا تھی جس میں بیان کیے ہوئے طریق علاج یونانی اور مصری طریق ہائے علاج سے تقریباً ملاتے جلتے تھے۔ لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، طریق ہائے علاج سے خداﺅں اور دیوتاﺅں کے نام پر قربانیاں اور دعائیں زیادہ ضروری سمجھتی جاتی تھیں۔ اس طرح یہ صدیوں پرانا فن اور طریق علاج شاید تقریباً مفقود ہو جاتا لیکن Medico-Philosophic Sect کے ظہور سے یہ فن زندہ رہ کر ترقی پذیر ہوا۔ اس فرقہ نے پرانے طریق ہائے علاج Gerco-Latinفلسفہ اور علاج میں ہم آہنگی پیدا کر کے اس کو حقیقت پر مبنی تجرباتی راہوں پر ڈالا۔ اس فرقہ کا رہنما نستوریس (Nestorius)435عیسوی جو قسطنطنیہ کا رہنے والا تھا اور ایک مذہبی فرقہ کا بانی تھا کو اپنے آزاد خیالا ت کی بنا پر ملک بدر کر دیا گیا تو اس نے اپنی جلا وطنی کا زمانہ شام کے صحراﺅں اور نخلستانوں میں گزارا۔ لیکن اس کے پیرو ایران میں مقیم ہو گئے اور زوندز بور ( Dzoudizabour) کے مقا م پر ایک پھلتی پھولتی معالج گاہ قائم کی۔ یہاں پر ہندوستان سے آئے ہوئے وید اور مغربی ایشیا کے طبیب اور دوا ساز اپنے اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ایٹمی پاکستان بننے کا دن28مئی 1998

اس دوران میں یونان نے بڑے بڑے فلسفی و حکیم مثلاً جالینوس(Gelen) ، بقراط، سقراط وغیرہ پیدا کیے۔ ان سب میں جالینوس سب سے زیادہ مشہور ہوا اور اس کے قدرتی اشیا سے دوائیاں بنانے کے طریق کو اب بھی اس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے اور انھیں (Gelenical Pharmacy) کا نام دیا جاتا ہے۔
نستوریس (Nestorius) کے پیروکاروںنے ہند اور یونان کے تمام بڑے بڑے ویدوں اور حکما کے کاموں کے ترجمے کیے اور جب عرب و ایران پہنچنے تو انھیں بہت بڑی تعداد میں یہ تصنیفات حاصل ہوئیں جن کا انہوں اپنی باری میں اس وقت کے مشہور نستورین دوا ساز (Nestorian Pharmiacist) باکشوہ (Bakischwah) سے اپنے بغداد کے دارالعلوم کے واسطے ترجمہ کرایا۔ وہاں سے یہ تراجم مسلمانوں کے اپنے بے شمار طبی سرمایہ کے ساتھ جس میں قرابا دین (850ئ) جسے شاید سب سے پہلا سرکاری فارما کوپیا تصور کیا جاسکتا ہے اور جس میں فارمیسی کو طب سے علیحدہحیثیت دیتے ہوئے دوایوں کے بنانے اور ملانے کے طریق بیان کیے ہوئے ہیں بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کی قائم شدہ قاہرہ، قیروان، اشبیلیہ ، قرطبہ، غرناطہ کی درسگاہوں اور تجربہ گاہوں سے اور بعد یمں ناربوں(Narbonne) آرلز (Arles)اور مانٹ پیلیر (Montpellier) کی یورپی درسگاہوں کےذریعہ یورپ کی طرف منتقل ہوتے رہے۔
Gerco-Latin دور (600-650ئ) میں ادویہ سازی قد طبعی سائنس (Natural Science)جوکہ واحد سائنس تھی جو اس دور میں ترقی پذیر ہوئی، کا پیچھا کرتی رہی اور فن ادویہ سازی مذہبی اور کراماتی دور سے نکل کر فلسفیانہ دور میں داخل ہوئی۔

عربوں کی آمد سے ایک شاندار اور تابناک تجرباتی دور کا آغاز ہوا، جس نے صدیوں تک تمام دنیا کو ضیا پاش کیا ۔عربوں کی تقریباً تمام مشرق میں اور بحریہ روم کے ایک بڑے حصے پر برتری سے دنیا کے تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں ایک زور دار انقلاب پیدا ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں محمد بخش ؒ

مصراور ایشیائے کوفتح کرنے کے بعد خلیفہ المنصور نے بغداد اکیڈمی کی بنیاد ڈالی جو دن بدن پھلتی رہی اور اپنے وقت کی نہ صرف سب سے بڑی یونیورسٹی بلکہ علوم و فنون کا منبع بنی۔

انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان کے اندر ذاتی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مالک اورب ڑے نامور سائنسدان پیدا کیے۔ جابر ابن حیان (Geber۔750ئ) باقاعدہ علم کیمیا کا باپ سمجھا جاتا ہے۔ رازی (Rhazes)جو بغداد کے ہسپتال کا ڈاکٹر تھا، نے اور بے شمار کارناموں کے علاوہ تانبہ اور لوہے کے سلفائڈر بنا کر علم کیمیا اور علم الادویہ سازی میں نمکاتی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔

)جاری ہے(
پروفیسر ڈاکٹر محمد امین

اپنا تبصرہ بھیجیں