سحری و افطاری کے آداب

EjazNews

سحری اور اس کے آداب
طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت سے جو کھانا وغیرہ کھایا جاتا ہے اسے سحری کہتے ہیں۔ یاد رہے سحری کا کھانا سنت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے باعث برکت قرار دیا ہے بلکہ یہ مسلمانوں اور یہود و نصاریٰ کے درمیان حد فاصل ہے سحری کی کم سے کم مقدار پانی کا ایک گھونٹ ہے سحری کا وقت جو از نصف شب سے لے کر طلوع فجر تک ہے اور وقت مستحب طلوع فجر سے کچھ پہلے ہے۔
اگر کسی وجہ سے کوئی شخص سحری نہ کھا سکے تو کوئی حرج نہیں۔
افطاری اور اس کے آداب
افطار سے مراد روزے کا چھوڑنا ہے۔ روزہ افطار کرنے کے درج ذیل آداب ہیں۔
روزہ کی افطاری میں جلدی کرنا افضل ہے تاخیر کرنا یہود و نصاریٰ کا شیوہ ہے۔
طاق اور تر کھجور سے افطار کرنا مستحب ہے اگر یہ میسر نہ آسکے تو پھر خشک کھجور یا پانی کے گھونٹ سے روزہ افطار کرنا چاہئے۔
افطار کرتے وقت یہ دعا پڑھنا سنت ہے
اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اِفْطَرْتُ
اے اللہ! میں نے صرف تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے ہی دئیے ہوئے رزق پر اسے چھوڑتا ہوں
ابو داؤد ابن السنی اور ابن ماجہ میں افطار ی کی اور دعائیں بھی مذکور ہیں۔
رمضان کی و جہ تسمیہ
رمضان یا تو رمضاء سے لیا گیا ہے۔ رَمَضَاء وہ بارش ہے جو موسم خریف سے پہلے ہوتی ہے اور زمین کو غبار سے پاک صاف کر دیتی ہے۔ اسی طرح رمضان کا بابرکت مہینہ بھی روزہ دار کے بدن او روح کو صاف ستھر ا بنا دیتا ہے ۔ یا رمضان اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں سے ہے۔ جس طرح رحمت باری گناہ گاروں کے گنا ہ جلا دیتی ہے۔ اسی طرح یہ رحمتوں والا مہینہ عاصیوں کے گناہوں کو خاکستر بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عفوو درگزر ،تحمل و برداشت کی اہمیت

اپنا تبصرہ بھیجیں