بچیوں کو گھریلو امور ضرور سکھائیں

EjazNews

ایک دور تھا کہ تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کو گھرداری، سلیقہ طریقہ، کوئی ہنر، فن سکھانا لازمی سمجھا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جہاں اور اتنا کچھ بدل گیا، بچیوں کو گھرداری سکھانے کی روایت بھی قریباً دَم توڑتی جا رہی ہے۔ بچّیاں تو بچّیاں ،اُن کی مائیں تک یہی کہتی سنائی دیتی ہیں کہ’’سر پہ پڑے گی ،تو خود ہی سیکھ لیں گی۔اتنی تعلیم حاصل کررہی ہیں،تو چولھا ہانڈی کرنے کے لیے تھوڑی کررہی ہیں۔‘‘یہی وجہ ہے کہ لڑکیوں میں بھی گھر گر ہستی کا شوق تقریباً ناپید ہی ہوگیا۔حالانکہ اگر بچیوں کو بچپن ہی سے چھوٹے چھوٹے کام کرنے سکھائے جائیں، تو وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اندر گھریلو امور انجام دینے کی دلچسپی اور سلیقے سے کام کا شعور خودبخود پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔ماؤں کو چاہیے کہ لاڈ پیار میں بچیوں کا ہر کام خود نہ کیا کریں، انھیں اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں۔اس طرح ان میں اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی لگن پیدا ہوگی۔علاوہ ازیں، اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ جب آپ باورچی خانے میں کام کررہی ہوں، تو چاہے کم وقت ہی کے لیے سہی، اپنی بیٹی کو بھی اپنے ساتھ ضرور رکھیں اور اُس کے ذمّے چھوٹے چھوٹے کام لگادیں۔ مثلاً دسترخوان یا میز صاف کرنا، برتن لگانا، سلاد، رائتہ، چٹنی وغیرہ بنانا۔نیز، ساتھ ساتھ یہ بھی سکھائیں کہ مہمانوں کو کس طرح کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں باآسانی اور جلد تیار ہونے والے پکوان مثلاً سوجی کا حلوا، آلو کی بھجیا وغیرہ پکانا سکھائیں اور جب کھانا پکانے کا شوق پیدا ہونے لگے، تو پھر مزید چیزیں سکھائیں۔ ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ کسی بھی کام میں مہارت حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔کچھ وقت تو لگتا ہی ہے، تو جب بچّیاں کچھ پکانا شروع کریں، تو ابتدا ہی میں اُن پر تنقید نہ کریں اور نہ ہی ایسے سخت جملے بولیں کہ وہ دل برداشتہ ہوجائیں۔شروع میں پیار سے سمجھائیں،پھرحوصلہ افزائی کے لیے اُن کی بنائی ہوئی ڈش، جب دسترخوان پر رکھی جائے، تو اس کی تعریف ضرور کریں اور ہو سکے تو اُنھیں کوئی انعام وغیرہ بھی دیں کہ اس طرح حوصلہ افزائی سے بچّوں کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ان چھوٹے چھوٹے کاموں کی ترغیب صرف لڑکیوں ہی کے لیے ضروری نہیں، لڑکوں کو بھی سکھائے جانے چاہئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت بہت بدلنے کے باوجود، آج بھی ہمارے یہاں گھریلو امور کی انجام دہی خواتین ہی کے ذمّے ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ لڑکیاں کس قدر بھی پڑھ لکھ جائیں، زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں گھر گر ہستی تو دیکھنی ہی پڑتی ہے۔ لہٰذا ماؤں کو چاہیے کہ اُنھیں اچھی تعلیم ضرور دیں، لیکن تربیت کی شکل میں گھر کے ایسے لازم امور میں دلچسپی لینے کی عادت ڈالیں کہ جن کے بغیر بہرحال گزارہ ممکن نہیں۔آج کل کی کئی بچیوں کو تو بہت سی دالوں، سبزیوں کے نام تک نہیں معلوم ہوتے۔ کئی بچیوں کو یہ تک نہیں پتا ہوتا کہ واشنگ مشین کس طرح لگائی جاتی ہے، کپڑے دھوئے، پھیلائے کیسے جاتے ہیں۔ انھیں تہہ کرکے کیسے رکھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔تووالدین اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دے رہے ہیں، بہت اچھی بات ہے، لیکن انھیں گھر گر ہستی سے بالکل دُور نہ کریں کہ یہ اُن کے آنے والے وقت کے لیے غلط ہوگا۔ یوں بھی کل کس نے دیکھی ہے، نہ جانے مستقبل میں کیسے حالات فیس کرنے پڑ جائیں۔ یوں بھی لڑکیاں پیشہ وارانہ زندگی میں چاہے کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائیں، لیکن اگر وہ امور خانہ داری سے ناواقف ہیں، تو سمجھیں ان کی تربیت میں بہت بڑی کمی رہ گئی۔جس کا اندازہ خود انھیں اور اُن کی مائوں کو بہت بعد میں ہوتا ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ اپنے بچّوں کو ہر قسم کے حالات کے لیے تیار کریں، نہ کہ اُنھیں شہزادے، شہزادیوں کی طرح ٹریٹ کرکے اُن کا اور اپنا بھی نقصان کر بیٹھیں۔
عطیہ کنول

یہ بھی پڑھیں:  شوہروں کے مزاج

اپنا تبصرہ بھیجیں