رمضان کریم اور ذیابیطس

EjazNews

ذیابیطس کا مرض پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے بلکہ اس کی صورت حال ایک وبا جیسی ہو چکی ہے۔اگر اس مرض پر بروقت قابو نہ پایا گیاتو 2045 تک ذیابیطس میںمبتلا افراد کے ممالک کی لسٹ میں پاکستان کا نمبرچھٹا ہو گا ۔دنیا میں سب سے ذیادہگردے فیل ہونے،آنکھوں کی بینائی جانے،ہائی بلڈ پریشر،ہارٹ اٹیک،فالج،انگلیاں یا پاوں اور ٹانگ کٹ جانے کی وجہ یہ شوگر کا مرض ہی ہےاگر کسی کے والدین کو شوگر ہے تو ان کی اولاد میں اس مرض کے منتقل ہونے کا امکان دو گنا ہے۔عمومی طور پر پندرہ فی صد لوگوں کو شوگر کی بیماری ہے۔پاکستان میں دو سے تین کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ہم اپنا لائف سٹائل تبدیل کرکے پینسٹھ فی صد تک اس مرض سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اگر ہم بھوک رکھ کر کھانا کھائیں تو اس مرض سے بڑی حد تک بچے رہیں گے

اس مرض پر پرہیز سیر،ورزش،یوگا،نماز،اور دوائیوں سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ذیابیطس کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ ان مریضوں کو چاہیے کہ اپنے معالج سے ادویات کی ایڈجسٹمنٹ کروالیں۔

اگر چہ آپ کو غذا کے معاملے میں تمام سال سمجھداری سے کام لینا چاہیئے، اور رمضان میں بھی اگر آپ بہت زیادہ کھائیں یا غیر صحت بخش غذائیں زیادہ کھائیں تو نہ صرف آپ کا وزن بڑھ جایگا بلکہ اس کی وجہ سے خون میں شوگر بھی غیر متوازن ہو جائیگی۔ گرمی کے اس موسم میں عام لوگوں کے لیے روزہ رکھنا اتنا مشکل نہیں ہو گا لیکن جو لوگ کسی کرانک مرض مثلا ذیابیطیس وغیرہ میں مبتلا ہیں ان کے لیے روزہ رکھنا ذرا مشکل ہوتا ہے،لیکن ہر شخص کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس ماہ مبارک کے روزے رکھے۔اگر آپ روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے معالج سے مشورہ کریں اور کسی عالم سے بھی مشورہ کر لیں کیونکہ گرمیوں میں روزہ سولہ تا سترہ گھنٹے کا ہوتا ہے اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔عام طور پر سحری میں کم اور افطاری میں زیادہ کھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے دواوں کی اقسام اور مقدار میں تبدیلی ضروری ہو جاتی ہے۔کیونکہ اگر شوگر کم ہو جائے تو مریض بے ہوش ہو سکتا ہے جبکہ شوگر ذیادہ ہو تو کومے میں جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں سب سے اہم بات یاد رکھنے کی ہےکہ ادویات وقت پر لیں اور علاج اور پرہیز میں یکسوئی پیدا کریں ایسا نہ ہو کہ چند دن احتیاط کے بعد دونوں چیزیں ترک کر دیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو جایں۔اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ مریض کو شوگر کی کوئی ایسی پیچیدگی تو نہیں ہے جس کی وجہ سے آپ کا معالج آپ کو روزہ رکھنے سے منع کر دے مثلا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ شوگر کے مریض کے گردوں پر برا اثر ہو گیا ہو اور اتنی گرمی میں روزہ رکھنے کا اسکے گردوں پر اثر پڑے گا جس سے اس کی تکالیف اور مسائل میں اضافہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  وٹامنز کی کمی سے پیدا ہونے والے امراض

شوگر کے مریضوں کو عام طور پر تین گروپوں میں رکھا جاتا ہے۔پہلے گروپ میں بہت ذیادہ ہائی رسک والے ،دوسرے گروپ میں ہائی رسک والے اور تیسرے گروپ میں لو رسک والے مریض آتےہیں۔بہت ذیادہ رسک والے گروپ میں وہ مریض ہوتے ہیں جن کی پچلے تین مہینوں میں شوگر کافی کم ہوئی ہو یا ان کے گردے فیل ہوئے ہوں اور وہ ڈائلیسز پر ہوں یا ان کا ہارٹ فیل ہونے کا مسئلہ ہوا ہو،ایسے مریضوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے ۔ اگر بہت لازمی روزہ رکھنا ہو تو ضروری ہے کہ دل اور گردہ کے ماہر معالج سے مشورہ کرنے کے بعد ہی روزہ رکھا جائے۔ہائی رسک گروپ والے مریضوں کی شوگر تو کنٹرول میں رہتی ہے اگر ان کا HbA1cلیول خراب ہو یا ان کو کسی قسم کی ذہنی بیماری ہو تو ایسے مریضوں کو بھی روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے۔جبکہ لو رسک والے مریضوںشوگر نارمل ہوتی ہے اور پچھلے تین ماہ میںان کی شوگر کم نہیں ہوئی ہوتی اور ان میں شوگر کی کوئی پیچیدگی بھی نہیں پائی جاتی۔ایسے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بلند فشار اور کووڈ19،سخت احتیاط لازم

زیابیطس کے مریض رمضان کے مہینے میں اپنی دواؤں کے وقت اور مقدار میں عمومایہ غلطی کرتے ہیں کہ ناشتے سے قبل والی دوا کی مقدار سحری میں اور رات والی دوا کی مقدار افطاری میں لے لیتے ہیں اور یوں لو شوگر لیول کا شکار ہو جاتے ہیں۔انسولین یا گولیوں کی وہ مقدار جو عام دنوں میں ناشتے سے قبل لی جاتی ہو وہ افطار کے وقت لی جائے اور جو مقدار عام دنوں میں رات کے کھانے سے قبل لی جاتی ہے وہ سحری کے اوقات میں لے لی جائے تو شوگر لیول کم ہونے کے خدشات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔عام طور سے وہ مریض جو انسولین پر ہوتے ہیں وہ انسولین کی کل مقدار کا دو تہائی صبح کی خوراک میں اور ایک تہائی شام کی خوراک میں لیتے ہیں ان کو چاہیے کہ رمضان میں اس کے الٹ کر لیں یعنی سحری میں ایک تہائی اور افطاری میں دو تہائی انسولین لگائیں ۔تاہم انسولین کے یونٹس اور گولیوں کی مقدار میں رددوبدل صرف اپنے معالج کے مشورے سے کرئیں۔اسی طرح ذیابیطس سے متاثرہ حاملہ خواتین بھی روزہ رکھنے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے مشورہ جرور کرئیں اور ذیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ بعد میں روزے رکھ لیں۔

ذیابیطس کے مریض روزے کے دوران اپنی شوگر چیک کر سکتے ہیں اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔اگر روزے کے دوران شوگر لیول ۳۰۰ سے اوپر ہو جائے یا 70سے کم ہو جائے تو ایسی صورت حال میں روزہ توڑ دینا چاہئےکیونکہ اگر شوگر لیول ذیادہ کم ہو جائے تو مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔یا اس کی زندگی کو شدید خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔آپ کی جان سب سے قیمتی ہوتی ہے اس لیے اسلام میں ایسے وقت میں روزہ کھولنے کی اجازت ہے۔آپ بعد میں اس کا کفارہ ادا کر سکتے ہیں یا روزہ بھی رکھ سکتے ہیں۔رمضان کے دوران آپ خون میں شوگر کو زیاد ہ سے زیادہ متوازن رکھنے کیلئے متوازن غذائیں کھائیں۔دیر سے ہضم ہونے والے کاربوہائیڈریٹس جن میں فائبر زیادہ ہو۔مثلا بغیر چھنے آٹے کی روٹی ، جئی کا دلیہ، مکمل غذائیت رکھنے والا چاول ، پھلیاں، دالیں، پھل اور سبزیاں۔پروٹین والی غذائیں جیسے مرغی، مچھلی اورانڈا۔ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں اور زیادہ پانی پینے کا خیال رکھیں۔روزہ کھولتے ہوے زیادہ چینی اور چکنائی والی چیزوں مثلا پراٹھے، پوریاں، سموسے، پکوڑے، لڈو، جلیبی اور برفی سے پرہیز کریں ۔

یہ بھی پڑھیں:  ذیابیطس سے کیسے نبٹیں؟ (نئی ماﺅں اور ذیابیطس کے مریضوں کے لئے رہنما تحریر)

کھلے تیل میں تلی ہوئی چیزوں کی بجاے اوون میں بیک کی ہوئی چیزیں استعمال کریں۔یاد رکھیں کہ کھجور میں بھی مٹھاس زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے صرف دو سے ذیادہ نہ کھائیں اگر آپ کو گھبراہٹ ہو یا طبیعت خراب لگے تو خون میں شوگر چیک کریں۔

کئی گھنٹوں کے روزے کے بعد جسم میں پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہےاس لیےافطار اور سحری کے وقت کافی پانی پینا ضروری ہے لیکن یاد رکھیں چینی والے مشروبات نہ پیئیں۔اس کے علاوہ رات کے دوران بھی پانی پیتے رہیں۔روزے کے دوران مشقت والا کام نہ کریں جس سے پسینہ آتا ہو اور تھکاوٹ کا احساس ہو،کام کے دوران آرام کا وقفہ ضرور لیتے رہیں،سحری اور افطاری متوازن کریں۔

حیران کن طور پر رمضان میں مریضوں کی شوگر عام مہینوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر کنٹرول میں رہتی ہے اورمریض زیادہ ہشاش بشاش اور متحرک نظر آتے ہیں۔اِن بیان کی گئی باتوں کومدنظر رکھتے ہوئے ذیابیطس کے مریض رمضان کی برکتوں سے فیضیاب ہو سکتے ہیں،اور اللہ کریم کی نعمت کے خزانوں سے اپنی جھولیاں بھر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں