wealth

ٹیکس اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں

EjazNews

کسی بھی مُلک کی ترقّی میں انکم ٹیکس کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد دو عشروں تک انکم ٹیکس سے چھوٹ کی حد 4000روپے سالانہ رہی اور اس دوران ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ نتیجتاً وفاقی بجٹ کا حجم کروڑوں میں جاپہنچا۔ 1962ء میں صدر ایوب خان نے دولت ٹیکس ایکٹ نافذ کر دیا، جسے عوام نے صدقِ دل سے قبول کیا۔ اس ایکٹ کے تحت ہر اُس پاکستانی کو ہر سال دولت ٹیکس کا گوشوارہ 30ستمبر تک محکمۂ انکم ٹیکس میں جمع کروانا تھا کہ جس کے اثاثہ جات کی کُل مالیت 5لاکھ سے زائد ہو۔1971ء میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا، تو فی الفور تمام بڑے کرنسی نوٹ اور قومی انعامی بانڈز منسوخ کر دئیے گئے تاکہ موجودہ بنگلہ دیش میں زیرگردش کرنسی پاکستانی معیشت پر اثر انداز نہ ہو۔ یہ منسوخ شدہ کرنسی نوٹ اور بانڈز بینکس میں جمع کروائے گئے اور بعد ازاں جب منسوخ شدہ کرنسی جمع کروانے والوں کو ان کے کلیم ادا کیے گئے، تو ان کی رقوم کا تفصیلی جائزہ لینے کے دوران جہاں کہیں آمدن سے زیادہ اثاثے ثابت ہوئے، وہاں متعلقہ افراد اور اداروں سے انکم ٹیکس مع جرمانہ وصول کیا گیا۔ یہ پاکستان کی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم تھی اور اس کے نتیجے میں ٹیکس چُھپانے والوں سے ٹیکس کی مَد میں اچھی خاصی وصولی ہوئی اور پاکستان کی معیشت کو تقویّت ملی۔1962ء تک انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، تو اس وقت کے وزیر خزانہ، شعیب قریشی نے محکمۂ انکم ٹیکس پر بوجھ کم کرنے کے لیے خود تشخیصی اسکیم کا اجرا ءکیا۔

یہ بھی پڑھیں:  شاہین ون کا کامیاب تجربہ650کلو میٹر تک ہر قسم کے وار ہیڈ لے جاسکتا ہے

اگر موجودہ انکم ٹیکس کے گوشوارے کو دیکھا جائے تو یہ 11صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ انگریزی زبان میں ہے اوراس کے کالمز کی تعداد 250سے زائد ہے۔ یہ اس قدر مشکل ہے کہ ٹیکس ماہرین بھی اسے بہ مشکل ہی پر کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں برطانوی دور کا انکم ٹیکس ایکٹ جون 1979ء تک قابل عمل رہا اور 1979ء کے وسط میں صدرپاکستان نے انکم ٹیکس آرڈیننس 1979ء کا اجرا کیا۔ 1973ء میں عوام کی سہولت کے پیشِ نظر مُلک بھر کے ڈاک خانوں سے انکم ٹیکس گوشواروں کے اجرا کا آغاز کیا گیا اور تب پوسٹ آفس کی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا کہ وہ کسی بھی فرد کو نیشنل ٹیکس نمبر جاری کر کے اُسے انکم ٹیکس دہندہ کی فہرست میں شامل کر سکتی ہے۔ تب ٹیکس گزار بننے کے لیے 600 سے 1200روپے سالانہ انکم ٹیکس جمع کروانا پڑتا تھا۔ یہ ادائیگی پاکستان کے کسی بھی ڈاک خانے کے کائونٹر پر کی جا سکتی تھی، جہاں فوری طور پر نیشنل ٹیکس نمبر جاری کر دیا جاتا تھا۔ تب حکومت کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے، جب کہ اب قانونی موشگافیاں اور مشکلات پیدا کر کے عوام کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو رہی ہےاور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2000ء میں انکم ٹیکس دہندگان کی تعداد33لاکھ تھی۔ جو اب کم ہوکر محتاط اندازے کے مطابق 21لاکھ کے قریب رہ گئی ہے

یہ بھی پڑھیں:  دنیا اور ملک بھر میں کرونا کی صورتحال کیا ہے؟

1997ء میں حکومت نے 5، 10،100 ، 500 اور 1000 روپے مالیت کے تمام انعامی بانڈز منسوخ کر دئیے اور ان کی جگہ 200، 750 ،1500 ، 7500، 15000 ، 25000اور 40000 کے انعامی بانڈز جاری کیے گئے اور انعامی رقم پر 25فیصد انکم ٹیکس کی کٹوتی کی جاتی ہے۔ 2000ء میں ویلتھ ٹیکس ایکٹ کالعدم قرار دے دیا گیا اور یوں چیک اینڈ بیلنس کا نظام ختم کر کے ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ سابق صدر جنرل (ر ) پرویزمشرف نے اپنے دورِ حکومت میں پاکستان بھر میں انکم ٹیکس کا سروے کروایا اور اس دوران ٹیکس چوری کے اہم ثبوت اکٹھے کیے گئے، لیکن سرمایہ داروں کا سیاسی تعاون حاصل کرنے کے لیے اس اہم سروے کے نتائج ردی کی ٹوکری کے نذر ہو گئے اور محض ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 2002 ءپر اکتفا کیا گیا۔ سیلز ٹیکس آرڈیننس 1990ء کے تحت صرف مخصوص اشیا پر سیلز ٹیکس عائد کیا گیا تھا، جس کی شرح 10فیصد تھی جبکہ 2001ء میں جنرل سیلز ٹیکس آرڈیننس نافذ کیا گیا اور سیلز ٹیکس کی شرح 14سے 19فی صد تک مقرّر کی گئی۔ یہ ٹیکس یوٹیلیٹی بلز پر بھی لاگو کیا گیا اور بعدازاں ود ہولڈنگ ٹیکس بھی نافذ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ہوش رُبا گرانی نے جنم لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کی غرض سے لندن جارہے ہیں

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات اور اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ آئی ایم ایف کا وفد دس روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہے، ایف بی آر حکام سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف مشن سے مذاکرات میں پیش کش کی ہے کہ پاکستان ٹیکس ہدف میں 6سو ارب روپے اضافہ کے لیے تیار ہے۔ ٹیکس ہدف میں اضافہ ضرور کیا جائے لیکن اگر اس بات کو دیکھ لیا جائے تو کیا بہتر ہوگا کہ پسنے والے پہلے ہی بہت زیادہ پس چکے ہیں۔ ان کی برداشت کی حد ختم نہ ہو جائے کیونکہ ایمنسٹی سکیمیں ان کو دی جاتی ہیںجن کے پاس پہلے سے ہی بہت پیسے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے ملک میں جتنا امیر آدمی ہے اتنا ہی ٹیکس کم دیتا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو جتنے لوگوں نے الیکشن لڑیں ان کے گوشوارے دیکھ لیجئے زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں