میجر جنر آصف غفور

ترجمان پاک فوج کی میڈیا بریفنگ

EjazNews

ترجمان پاک فوج نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ 26 فروری کو بھارت نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ہم نے جواب بھی دیا، اس واقعے کو 2 ماہ ہوگئے لیکن بھارت کی جانب سے ان گنت جھوٹ بولے گئے، ہم نے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، جھوٹ کو سچ کرنے کیلئے بار بار جھوٹ بولا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا پلوامہ میں واقعہ ہوا اور یہ پولیس کے خلاف پہلا واقعہ نہیں تھا، اس جیسے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے، ہم نے بھارت سے کہا کہ اگر کوئی ثبوت ہیں تو پیش کیے جائیں۔انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بالاکوٹ کا آپ نے ڈرامہ رچایا، ہم نے کاؤنٹر اسٹرائیک کی، آپ نے رات میں حملہ کیا، ہم نے دن میں جواب دیا۔ان کا کہنا تھا 28 فروری کو بھارت میزائل فائر کرنے کی تیار کر رہا تھا، بھارت اپنے میڈیا کو بتائے ہم نے کیا جواب دیا، اس رات ایل او سی پر کیا ہوا، ہماری فائر پلاٹون نے اُن کی گن پوزیشن کو کیسے نشانہ بنایا، کتنی گن پوزیشن شفٹ کرنا پڑیں، کتنے فوجی مارے گئے، یہ باتیں بھارت میڈیا کو بتائے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا بھارت میں الیکشن چل رہے ہیں اس میں بہت باتیں ہوتی ہیں، بھارت کہتا ہے ہم نے دیوالی پر ایٹم چلانے کے لیے نہیں رکھا، جبکہ ملکی دفاع کی بات ہو تو ہم ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرسکتے ہیں، اگر دل ہے تو بھارت اپنی صلاحیت آزما لے لیکن پہلے نوشہرہ کی اسٹرائیک کا تجربہ یاد رکھے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے کہانی بنائی کہ پہلے پاکستان نے دو پائلٹ بتائے پھر ایک کردیا، جب جنگ ہورہی ہے تو سٹوری اپ ڈیٹ ہورہی ہوتی ہے، اسی بنیاد پر پہلے کہا کہ دو پائلٹ تھے لیکن جب صورتحال واضح ہوئی تو اس کی وضاحت کی کہ ایک پائلٹ پکڑا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پروپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان کا ایف سولہ طیارہ گرایا، ایف 16 تو بڑی بات ہے موٹر سائیکل لگ جائے تو اس کی خبر بھی نہیں چھپتی، آپ کے امریکہ سے بہت اچھے تعلقات ہیں، امریکا سے کہیں کہ پاکستان کے ایف 16 طیارے گن لیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ 1971 ہے، نہ وہ فوج اور نہ وہ حالات، اگر 1971 میں ہمارا آج کا میڈیا ہوتا آپ کی سازشوں کو بے نقاب کرسکتا، وہاں کے حالات اور زیادتیوں کی رپورٹنگ کرتا تو آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خطے میں انٹرنیشنل پراکسی چل رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں 79 کے بعد جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ایران میں انقلاب آیا اس کا ہمارے معاشرے پر اثر ہوا، مدارس میں اضافہ ہوا، جہاد کی ترویج زیادہ ہوئی، افغانستان کی جنگ کو جائز قرار دے کر اس وقت کے لحاظ سے فیصلے کیے گئے، نائن الیون کے بعد جب صورتحال تبدیل ہوئی تو ہمارے خطے میں معاشی جنگ شروع ہوئی، چین امریکہ سب کے اپنے مفادات ہیں، بین الاقوامی قوتوں نے اپنے مفادات کے لحاظ سے پاکستان کو پالیسی بنانے پر مجبور کرنا چاہا۔ نائن الیون سے لے کر آج تک پاکستان نے کائنیٹک آپریشن کیے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں، القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی وغیرہ جس کا بھی نام لیں، ہم نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کائنیٹک آپریشن کیا۔ آج ہم ثبوت اور لاجک کے ساتھ کہتے ہیں کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ریاست بہت عرصے پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ اپنے معاشرے کو شدت پسندی سے پاک کرنا ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جن لوگوں کے مسائل کو بنیاد بنا کر کام کر رہی ہے اس کا وقت ختم ہوگیا، آپ فوج سے کس بدلے کی بات کر رہے ہیں، کوئی ریاست سے لڑائی نہیں کرسکتا، جن لوگوں کو آپ ورغلا رہے ہیں، ان کے دکھوں کا احساس ہے ورنہ آپ لوگوں کو ڈیل کرنا مشکل کام نہیں ہے۔ آرمی چیف کی ہدایت ہے کہ ان سے بات چیت کی جائے، ہر کام قانون کے تحت ہوگا، آپ نے جتنی آزادی لینی تھی وہ لے لی، آپ نے مسنگ پرسنز کی لسٹ دے دی ہے، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جو افغانستان میں بیٹھی ہے اس کی لسٹ ہمیں دے دیں، پھر ہم ڈھونڈیں گے کہ مسنگ پرسنز کہاں گئے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی ایم کا بلوچ علیحدگی پسندوں سے کیا تعلق ہے، لر اور بر سے آپ کا کیا تعلق ہے، ٹی ٹی پی آپ کے حق میں کیوں بیان دیتی ہے اور ٹی ٹی پی اور آپ کا بیانیہ ایک ہی کیوں بنتا ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں:  عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں