new women +with child

ہونے والی ماﺅں کیلئے چند مشورے

EjazNews

دوران حمل ماہرانہ مشورے اور توجہ سے حمل محفوظ رہتا ہے پہلے تو میں آپ کو یہ بتا دوں کہ قبالت داں اور ماہر امراض نسواں میں کیافرق ہوتا ہے۔
اکثر خواتین اس فرق سے لا علم ہوتی ہیں۔ قبالت داں یا دایہ گری کی ماہر، حمل قرار پانے سے لے کر بچے کے پیدا ہونے تک کے مراحل اور اس دوران حاملہ کے مسائل صحت کی ماہر ہوتی ہے اس کے علاوہ بچے کی زندگی کے ابتدائی چھ ہفتوں کی صحت وغیرہ کا خیال بھی وہ رکھتی ہے ۔ ماہر امراض نسواں تو ظاہر ہے کہ وہ عورت کے تولیدی اعضاءو کاکردگی وغیرہ کی ماہر ہوتی ہے۔ انہیں صاف لفظوں میں نسوانی امراض کہنا چاہئے۔ مثلاً ایام کا ٹھیک نہ آنا، ان میں درد و بے قاعدگی، بانجھ پن سن یا س یعنی ایام کی بندش اور عورت کے بتدریج بوڑھے ہونے کے مراحل اور ان کی تکالیف، کم عمری میں استقرار حمل کی پیچدگیاں مثلاً جنین کا رحم کی بجائے بیض نالی (فلیو پین ٹیوب ) میں بڑھنا اور بعض قسم کے اسقاط حمل قبالت دانوں کی اکثریت ماہر امراض نسواں بھی ہوتی ہیں۔ضروری ہے کہ وہ کم از کم ایک بار اپنا الٹر ساﺅنڈ ٹیسٹ ضرور کرو الیں، کیونکہ اس سے یہ کھوج بھی لگایا جاتا کہ پیٹ میں بڑھنے والا بچہ جسمانی اور دماغی اعتبار سے درست اور نارمل ہے یا نہیں اس کے بڑھنے کی رفتار کا کھوج بھی لگتا ہے قبالت داں حاملہ سے بھی مختلف سوالات کر سکتی ہے۔ اس طرح اگر کوئی پیچیدگی ہو تو اسے اس کا اندازہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے ویسے ایکسرے اور الٹرا ساﺅنڈ کی کثرت مناسب نہیں۔
بڑی عمر کی خواتین کے حمل کس حد تک محفوظ ہوتے ہیں اس حوالہ سے عرض یہ ہے کہ اگر حاملہ کی صحت اچھی ہو اور دوران حمل اسے صحیح ماہرانہ مشورہ اور توجہ بھی حاصل ہ وتو اس کا حمل بھی اوروں کی طرح محفوظ رہتا ہے ۔ با ت دراصل یہ ہے کہ عمر زیادہ ہو یعنی 35سال سے زیادہ ہو تو دوران حمل زیادہ عمر کے مسائل صحت مثلاً ہائی بلڈ پریشر، اسقاط کے امکان اور جنیاتی خرابیوں کے علاوہ جڑواں بچوں کی ولادت کے امکانات بھی نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں لیکن احتیاط سے کام لیا جائے تو فکر و تشویش کی بات نہیں ہوتی۔
ہمیں یہ بات بھی معملوم ہونی چاہئے کہ عام حمل کی مدت کتنی ہوتی ہے حمل کی مدت اوسطاً 37سے 40ہفتوں تک ہوتی ہے جبکہ بعض حمل 41سے 42ہفتوں تک بھی ہوتے ہیں۔ جڑواں بچوں کی صورت میں یہ مدت گھٹ کر 35سے 36ہفتے رہ جاتی ہے ۔
اکثر خواتین اپنے حمل کے استقرار کی تاریخ کا غلط اندازہ لگاتی ہیں معائنے پر جنین یعنی بچے کے سائز سے اس کا صحیح اندازہ لگا لیا جاتا ہے اس کے علاوہ اگر حاملہ حمل کا اندازہ ہونے کے بعد اپنی معالجہ سے رجوع ہو تو وہ اس سے مختلف سوالات کر کے بھی اندازہ لگا لیتی ہے چونکہ بعض خواتین کا حافظہ کمزور ہو تا ہے وہ صحیح تاریخ کا تعین نہیں کر پاتیں جبکہ بعض کو بالکل ٹھیک یاد رہتاہ ے کہ ان کے ایام کی آمد کا سلسلہ کب سے بند ہوا ہے۔ بعض کے ہاں ایام باقاعدگی سے آتے ہیں تو بعض کے ہاں ان میں گڑ بڑ ہوتی ہے۔ معالجہ ان سب باتوں پر غور کر کے حمل کی مدت یا عمر کا اندازہ لگاتی ہے۔ ان سوالا ت کے بعد حاملہ کا معائنہ کیا جاتا ہے۔12ہفتے کے بعد رحم کا اندرونی معائنہ بھی کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کا بیرونی معائنہ ہوتا ہے معالجہ اسے محسوس کر لیتی ہے۔
آج کل الٹرا ساﺅنڈ کے ذریعے سے بھی رحم کی اندرونی کیفیت یعنی جنین کا بخوبی معائنہ کیا جاتا ہے۔ اب چونکہ جنین کے مختلف مراحل کے خاکے بھی دستیاب ہیں الٹراساﺅنڈ کی تصویر سے ان خاکوں کا مقابلہ کر کے جنین کے بڑھنے اور اس کی عمر کا صحیح اندازہ کر لیا جاتا ہے۔
80فیصدحمل میں سے ایک میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے امکانات ہوتے ہیں ایسے 50فیصد حمل آخر تک پہچا نے نہیں جاتے ۔ اب الٹر اساﺅنڈ سے اس کا ابتدا ہی میں کھوج لگ جاتا ہے۔
عموماً خواتین یہ پوچھتی ہیں کہ جڑواں بچے کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ جب ماں کے دو انڈے ایک ہی وقت میں بارور ہوتے ہیں تو دو الگ الگ جنین اس کی کوکھ میں پلنے بڑھنے لگتے ہیں یا پھر دوسری صورت میں جب بارور انڈوں کے خلیات تقسیم ہو کر دو الگ الگ جنین بن جاتے ہیں تو جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں مگر یہ بات یاد رہے کہ جڑواں حمل اکثر صورت میں بہت جلد ساقط ہو جاتے ہیں۔
عام طور پر پہلے بچے ذرا دیر سے پیدا ہوتے ہیں بعد کے بچے جلد دنیا میں آجاتے ہیں پہلے حمل میں درد کا سلسلہ 18گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس درد کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟ ابتداءمیں یہ درد جھوٹے ہوتے ہیں۔ اور ان کا کوئی علاج بھی نہیں ہوتا اصل درد تقریباً 12گھنٹوں تک ہوتے ہیں اور یہ رحم کے پٹھوں میں بھنچاﺅ اور کھنچاﺅ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ان میں یہ عمل تیز ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے اس عرصے میں رحم کے منہ کے پٹھے یا عضلات ڈھیلے پڑ کر پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح بچے کا سر آسانی سے باہر آجاتا ہے۔ رحم کا منہ ایک سینٹی میٹر فی گھنٹے کے حساب سے پھیلتا ہے۔
بچہ ماں کے پیٹ میں ایک پانی بھری تھیلی میں تیرتا رہتا ہے۔ درد زہ یعنی زچگی کے درد سے پہلے یہ تھیلی پھٹ سکتی ہے۔ عموماً یہ عین وقت پر یعنی ولادت کے وقت پر پھٹتی ہے ۔ اس پانی یا رطوبت کے خارج ہونے کے بعد چھوت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لئے اس کے بعد دیریا انتظار مناسب نہیں ہوتا ہے۔
آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ درد زہ کیوں ہوتا ہے اس کا علم کسی کو نہیں ہے کہ عام حالتوں میں یہ درد کیوں شروع ہوتا ہے۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ درد بچے کی ولادت کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ رحم کے منہ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے دماغ درد پیدا کرنے والے بعض کیمیائی اجرا تیار کرتا ہے۔
زچگی کہاں مناسب ہے گھر میں یا ہسپتال میں تو اس حوالہ سے عہرض ہے کہ بچے اپنے وقت پر جہاں چاہیں آسکتے ہیں، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ سہولت فراہم ہو تو ہسپتال میں زچگی کرائی جائے تاکہ کسی پیچیدگی کی صورت میں وہاں ضروری طبی سہولتوں سے استفادہ کیا جاسکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ سہولتیں وہاں موجود ہوں اس کا ضرور یقین کر لینا چاہئے کیوں کہ اکثر ہسپتال بس نام ہی کے ہسپتال ہوتے ہیں۔
کیا زچگی کے عمل میں جلدی مناسب ہے جی ہاں! یہ ایک فطری عمل ہے۔دایہ یا زچگی کی ماہر کا فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو زچگی کو اپنے وقت پر خود ہونے دیں۔ لیکن اگر ماں کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو پیشاب میں البیومن زیادہ خارج ہو رہی ہو، ورم کی کیفیت ہو اور دیگر مسائل بھی لا حق ہوں اور زچگی کا وقت گزرے دو ہفتے ہو چکے ہوں تو ایسی صورت میں انتظار نہیں کرنا چاہئے اور حاملہ کو جلد از جلد فارغ کرنے کے جتن کرنے چاہئیں۔
عمل سرجری اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ جب بچے کیلئے خطرہ ہو یا فم رحم میں کشادگی کے آثار نہ ہوں اور رکاوٹ کا خطرہ ہو تو پیٹ چاک کر کے بچہ حاصل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ بچے کا سر بڑا اور پیدائش کی مالی کا راستہ تنگ ہو، انول کا منہ ہو تو چونکہ اس سے خون زیادہ بہہ سکتا ہے ، یہ عمل جراحی ضروری ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بسا اوقات جڑواں یا دو سے زیادہ بچوں کی صورت میں بھی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے یہ عمل اختیار کیاجاتا ہے۔
زچگیوں کے بھی موسم ہوتے ہیں اگست اور دسمبر میں زچگیاں زیادہ ہوتی ہیں اسی طرح اپریل اور مئی بھی زچگیوں کے مہینے قرار دئیے جاتے ہیں۔
صحت مند حمل اور زچگی کیلئے کیا کریں سوچ سمجھ کر حمل کی منصوبہ بندی کیجئے۔ حمل کی توثیق ہو جائے تو اچھی طرح کھائیے خاص طور پر پتے والی سبزیاں، پالک وغیرہ پر زیادہ توجہ دیجئے تاکہ آپ کو فولیٹ پوری مقدار میں ملتا رہے اس کی کمی آپ کے بچے کی ذہنی اور اعصابی صحت اور سلامتی کیلئے سخت خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر آپ مرگی، ہائی بلڈ پریشر، ذیباطیس اور موٹاپے کے مریض ہوں تو معالج کے مشورے سے ماں بننے کی کوشش کیجئے۔ دوران حمل اپنی معاجل سے رابطہ رکھئے اور اس کے مشوروں پر عمل کیجئے۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ عورتوں کے چند طبی مسائل

اپنا تبصرہ بھیجیں