Masijed near Buildings

آئیے احکامِ زکوٰۃ کو جانتے ہیں

EjazNews

ویسے تو خیرات کرنے کے مسئلے میں مسلمان کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن زکوٰۃ کے مسئلے میں اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے لوگ سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بہت سے شریعت کے مطابق زکوٰۃ بھی ادا نہیں کرتے ۔ بعض ایسے لوگ بھی دیکھیں گئے ہیں جن کے پاس شریعت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے کی معلومات بھی کم ہی ہیں۔زیر نظر مضمون میں ہم مختصر طور پر زکوٰۃ کے بارے میں قارئین کو بتائیں گے۔
نبی آخر الزماں رسول اکرم ﷺنے فرمایا :
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺکی گواہی دینا۔ نماز ادا کرنا۔ زکوٰۃ دینا۔ رمضان کے روزے رکھنا اور حج بیت اللہ کرنا۔
زکوٰۃ کے فرض کئے جانے کی وجہ سے مسلمانوں کے بے شمار مسائل حل ہو جاتے ہیں، اسلام معاشرے کے ان لوگوں کا جو پیچھے رہ جاتے ہیں بھی خیال رکھتا ہے تاکہ معاشرے میں اعتدال کی کیفیت ہمیشہ برقرار رہے۔ فقراء مساکین کی ضروریات و حاجات کا مداوا زکوٰۃ سے ہوتا ہے۔ نفس کی پاکیزگی، کنجوسی، بخل سے دوری و نفرت کا ذریعہ بھی زکوٰۃ ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ
ترجمہ ان کے مالوںمیں سے زکوٰۃ لے لو، اور ان کو پاک کر دو، ان کا تزکیہ نفس کر دو۔(سورئہ توبہ)
مسلمانوںکی صفحات میں سے ایک صفت سخاوت بھی ہے۔ محتاجوں پر شفقت و مہربانی کرنا، شیوئہ مسلمانی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال میں کمی آجاتی ہے۔ نہیں، خرچ کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں :
’’اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہ (اللہ) اس کا بدلہ دے دیتا ہے۔ اور وہ بہترین رزق والا ہے‘‘۔
اسی طرح ایک حدیث میں یہی مضمون ہے کہ: ’’اے بنی آدم تم خرچ کرو، تمہارے اوپر خرچ کیا جائے گا‘‘۔
جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے حق میں شدید ترین وعید بیان کی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے کہ:
وہ لوگ جو سونا چاندی کو خزانوں میں جمع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں عذاب شدید کی خوشخبری دے دو اس دن (ان کے مال کو) گرم کیا جائے گا جہنم کی آگ میں، اور ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور کمروں کو داغا جائے گا اور (کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارا مال، جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو آج اس عذاب کا مزا چکھو، جو تم اپنے لئے جمع کرتے تھے۔ (سورئہ توبہ)
ہر وہ مال جس کا حق ادا نہیں کیا جاتا تو وہ ’’کنز‘‘ بن جاتا ہے۔ جس کے ذریعے صاحب مال کو بروزِ قیامت عذاب دیا جائے گا۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’ہر وہ سونے چاندی والا جو اپنے مال کا حق ادا نہ کرتا ہو گا تو یہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کا ٹکڑا بنے گا۔ جہنم کی آگ سے گرم کرنے کے بعد اس کی پیشانی کو، پہلو اور کمر کو داغا جائے گا۔ جب یہ مال ٹھنڈا ہو گا تو دوبارہ اس کو گرم کیا جائے گا۔ وہ دن پچاس ہزار سال جتنا بڑا ہو گا۔ اس وقت تک تمام مخلوق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر اس مالدار کو دیکھا جائے گا کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے یا جنت۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اونٹ، بکری، گائے والوں کا ذکر ہونے پر فرمایا: ’’جو شخص ایسا مال دلائے گا جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہو گی تو یہ مال ایک گنجے سانپ کی مانند بن جائے گا۔ اس کے دو منہ ہوں گے۔ یہ سانپ مالدار کے گلے میں بطورِ طوق ڈالا جائے گا پھر یہ اس کے جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔
پھر رسول اﷲ ﷺنے یہ آیت پڑھی۔ ترجمہ :اﷲ تعالیٰ کے دئیے ہوئے مال میں سے بخیلی کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ یہ عمل انکے لئے بہتر ہے ۔بلکہ یہ انکے لئے برا کام ہے ۔قیامت کے دن انکی بخیلی انکے گلوں کا طوق بن جائے گی۔ (بخاری ومسلم)۔ زکوٰۃچار قسم کے اموال پر فرض ہے : (۱) زمین سے حاصل شدہ اناج وپھل پر (۲) مویشی پر (۳)سونے چاندی پر (۴)اور سامانِ تجارت پر۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان چاروں اقسام کا ایک مقرر شدہ نصاب ہے ۔نصاب سے کم پر زکوٰۃ فر ض نہیں ہوتی۔ لہٰذا پھلوں اور اناج کا نصاب 5وسق ہے جو (20من ) بنتا ہے ۔گائے ،اونٹ اور بکریاں کی تفصیل بھی احادیث نبوی ﷺمیں موجود ہے ۔ سونے کی زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے جو عربی ریال میں تقریباً 56ریال بنتاہے ،چاندی کی زکوٰۃ52تولہ پر فرض ہوتی ہے ۔اس مال کو اگر ایک سال تک اپنی ملکیت میں رکھا جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے ۔مال کا حاصل شدہ منافع بھی ملکیت میں شامل ہوتا ہے ۔ سونے چاندی کے نصاب کے حکم میں موجودہ دور کی کرنسی بھی شامل ہے ۔یعنی اگر روپے ریال یا ڈالر کی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے جتنی موجود ہے ۔تو اس پر بھی زکوٰۃ ہے ۔عورتوں کے زیورات پرزکوٰۃ ہوتی ہے ۔اگرچہ یہ زیورات ذاتی استعمال کی چیزیں ہوں پھر بھی زکوٰۃ لازمی ہے۔ کیونکہ حدیث ِنبوی ﷺموجود ہے کہ آپ ﷺنے ایک عورت کے ہاتھوں میںکنگن دیکھے تو فرمایا کیا تم اسکی زکوٰۃ ادا کرتی ہو ؟اس عورت نے انکار کیا تو آپ ﷺنے فرمایاکیا تم پسند کرتی ہو کہ کل قیامت کے دن اﷲتعالیٰ اسکو جہنم کی آگ بنا دے ۔یہ سن کر اس عو رت نے کنگن اتار دیئے او رکہا یہ مال اﷲ او ر اسکے رسول ﷺ کے لئے ہے۔ (ابو داود) سیدہ اُمّ سلمہ ؓ نے سونے کا ایک زیور بنایا ہوا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا ’’جس مال کی زکوٰۃ ادا کی جائے وہ کنزنہیں ہوتا ‘یعنی اسکی پکڑ نہیں ہوتی ۔ سامان ِتجارت جو کاروبار کے لئے رکھا جائے اسکی سال کے آخر میں قیمت لگائی جائے گی اور اس قیمت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں ادا کیا جائے گا۔ سال کے آخر میں قیمت لگاتے وقت اس سامان کی موجودہ قیمت لگائی جائے گی ۔اگرچہ یہ قیمت سامان کے اصل ریٹ سے کم ہو یا زیادہ۔ سیدنا سمرۃ ؓکہتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے ہمیں کاروبار کے لئے تیار کردہ سامان کی قیمت لگا کرزکوٰۃ نکالنے کا حکم دیا ہے ۔(ابو دائود)
اس سامانِ تجارت میں اراضی گھر اور مشینیں وغیرہ شامل ہیں جو تجارت کے لئے ہوں ۔وہ گھر جو بیچنے کے لئے نہ ہوں بلکہ کرائے پر دئیے جائیں تو ان گھروں یا دکانوں کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں ہوگی بلکہ اسکے کرائے پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ہو گی۔ اسی طرح ذاتی استعمال کی گاڑیوں اور ٹیکسیوں پر بھی زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ لیکن ان گاڑیوں کے مالک کے پاس اگر نصاب کے مطابق رقم جمع ہوجائے اور اس پرسال بھی گزر جائے تو پھر زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے۔ اگرچہ یہ رقم خرچ، شادی یا زمین خریدنے کے لئے رکھی ہوتی ہو۔ اسی طرح یتیم یا مجنوں افراد کے پاس اتنا مال موجود ہو جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہو تو اسکے ولیوں کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ نکالیں۔
زکوٰۃ مستحقین کا حق ہے لہٰذااسکو غیر مستحقین کو نہیں دینی چاہیے۔ اس زکوٰۃ کے ذریعے انسان کو فائدہ حاصل کرنا یا ذاتی نقصان سے بچنے کے لئے استعمال کرنابھی درست نہیںہے ۔ بلکہ صرف خلوصِ نیت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی رضا او رخوشنودی کے لئے مستحقین کو زکوٰۃ ادا کی جائے (آ ج کل مختلف گلو کاروں نے کچھ رفاہی ادارے قائم کیے ہیں او روہ لوگوں کی زکوٰۃ اکٹھا کرتے ہیں ایسے اداکاروں اور گلو کاروں کو زکوٰۃ ادا نہیں کرنی چاہیے )مترجم۔
اﷲتعالیٰ مصارفِ زکوٰۃ بیان فرماتے ہیں ۔فرمان الٰہی ہے (بے شک زکوٰۃ فقراء، مساکین، عاملین (زکوٰۃ اکٹھا کرنے والے )تالیفِ قلبی کے لئے ۔گردنوں کو آزاد کرنے کے لئے،تاوان زدہ کے لئے۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے۔ یہ اﷲکا فریضہ ہے اور اﷲتعالیٰ علیم وحکیم ہے)۔
اس آیت کے آخر میں اﷲتعالیٰ نے یہ دو نام ذکر فرمائے ہیں ۔بندوں کے لئے اس میں اﷲتعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے زکوٰۃ دینے اور نہ دینے کو جانتا ہے اور اﷲحکیم بھی ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ زکوٰۃ کا کون مستحق ہے ۔اﷲتعالیٰ اشیاء کی مقدار اور تعداد پر حکیم ہے۔ وہ کسی چیز یا شخص کوضائع نہیں کرتا ۔اگرچہ بعض لوگوںپر یہ حکمتیں مخفی ہوتی ہیں۔ اﷲتعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم بہتر سے بہتر عمل کریں۔ اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ’’تیمم ‘‘

صدقہ وزکوٰۃ کے فوائد

اﷲ تعالیٰ نے مالداروں پر زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے تاکہ محتاج ،ضرورت منداور مسلمانوں کے عام منافع میں مدد کی جاسکے ۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اﷲ تعالیٰ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔اسی طرح خرچ کرنے والوں کی تعریف اور ان کے اجر وثواب کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رسول اﷲﷺکی متواتر احادیث میں زکوٰ ۃ ادا کرنے اور مال ومویشی، سونے چاندی ،نقدی وسامانِ تجارت میں زکوٰۃ کا نصاب بیان کیا گیا ہے ۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں پر سخت وعید بھی سنائی گئی ہے ۔تمام مسلمانوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تارکِ زکوٰۃ کا دین وایمان نا مکمل ہوتا ہے ۔لیکن تارکِ زکوٰۃ کے کافر ہونے میں اختلاف ہے ۔ زکوٰۃ دین اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ایک ہے اور زکوٰۃ میں دین ودنیا کا کمال واقع ہوتاہے ۔
رسول اﷲ ﷺکا ارشاد ہے کہ ’’زکوٰۃ ایک برھان ہے ‘‘یعنی زکوٰۃ دینے والے کے ایمان کی دلیل وبرھان ہے ۔
فوائد زکوٰۃ میں یہ شامل ہے کہ زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے ۔زکوٰۃ دینے والے کے اجر و ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے او راس مال میں بھی برکت ہوتی رہتی ہے جس میں سے زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔زکوٰۃ ادا کرنے سے اخلاق وکردار میں پختگی ہوتی ہے ۔بخیلی اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہو جاتا ہے ۔زکوٰۃ دینا اﷲتعالیٰ کے شکر گزار بندوں کی نشانی ہے اور شکر کرنے سے برکت ہونا ایک فطری عمل ہے ۔بہت سی دینی ودنیاوی برکتیں حاصل ہوتی ہیں او ربے شمار بلائیں و مصیبتیں ٹل جاتی ہے ۔دعائوں کو قبولیت عامہ حاصل ہوتی ہے ۔
پیارے نبی ﷺکا فرمان ہے ’’صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا رھتا ہے ۔‘‘
اسی طرح بخاری مسلم کی ایک حدیث ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا ’’ہر صبح اﷲتعالیٰ کے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں او ردعا کرتے ہیں ۔اے اﷲخرچ کرنے والے کو مزید عطا فرما ۔دوسرا دعا کرتاہے کہ اے اﷲ مال خرچ نہ کرنے والے کو تباہ کردے ۔‘‘
زکوٰۃ دینے والے کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ لینے والوں کو بھی فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ محتاجوں ،ضرورت مندوں اور مسافروں کو زکوٰۃ دی جاتی ہے ۔جن سے ان کی ضرورتیں اور حاجات پوری ہوتی ہیں ۔اگر تمام مالدار اپنی زکوٰۃ نکالتے رہیں او رصحیح مقامات پر خرچ کرتے رہیں تو یقینا تمام غرباء کی ضروریات پوری ہوجائیں گی ۔اس سے معاشرے میں بگاڑ اور فساد بہت حد تک ختم ہوجائے گا ۔اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اسلام کے محاسن میں سے بہت ہی حسین چیز زکوٰۃ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی پنا ہ ، اعوذ باللہ(۲)

اپنا تبصرہ بھیجیں