father mother with doughter

ماں کا دودھ بچے کیلئے کتنا مفید ہے

EjazNews

ماں کا بچے کو اپنا دودھ پلانا ماں اور بچے دونوں کیلئے بہتر ہے۔بچے کیلئے اس سے بہتر کوئی اور غذا نہیں ہوسکتی کیونکہ قدرت نے اس میں وہ تمام چیزیں رکھی ہیں جن کی بچے کو بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ سب چیزیں اتنی ہی مقدار میں ہوتی ہیں جو بچے کی نشوونما کے ئے ضروریہ ے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ماں کے جسم میں بننے والی اینٹی بوڈیز دودھ کے رستے بچے کو ملتی ہیں اور اسے بہت ساری بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت مہیا کرتی ہیں۔ یہ خوبی کسی بھی اور دودھ میں نہیں پائی جاتی۔ علاوہ ازیں گائے یا بھینس کا دودھ پلانے سے بعض بچوں کو الرجی ہو جات یہے لیکن ماں کا دودھ پینے سے ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں فارمولے کے مطابق دودھ بنانے، بوتل کو جراثیم سے پاک کرنے اور یہ یقین کرن ے کی بھی ضرورت نہیں کہ کیا دودھ صاف ہے اور اس کا درجہ حرارت ٹھیک ہے ماں کا دودھ ہمیشہ صاف، ٹھیک درجہ حرارت اور آسانی سے ہضم ہو جانے والا ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ ماں کا دودھ پینے سے ماں اور بچے کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور بچے کو حفاظت اور حرارت کا احساس ہوتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماں کے لیے دودھ پلانا کیسے مفید ہے تو اس کی وجہ ہے کہ جس زمانے میں ماں بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہوتی ہے ماں کے جسم میں ایک ہارمون آکسی ٹوکسن خارج ہوتا ہے یہ ہارمون جو پستانوں میں پائے جانے والی دود ھ کی چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کو سکیڑ کر دودھ سرپستان میں بھیجتا ہے، بچہ دانی کے عضلات کو بھی سکیڑتا ہے جس سے بچہ دانی جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجاتی ہے اس طرح بچے کو دودھ پلانے والی ماں حمل اور زچگی کے اثرات سے جلد باہرآجاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ماہواری آنے میں دیر ہوتی ہے اور یوں اگر ماں بچے کو صرف اپنا دودھ پلا رہی ہے تو اس میں حمل کے امکانات اس عرصے میں گو ختم تو نہیں ہوتے، بہت کم ضرورت ہو جاتے ہیں، علاوہ ازیں یہ کم خرچ بالا نشین والی بات بھی ہے کہ دودھ یا پائوڈر ملک خریدنے کے لئے پیسے نہیں خرچ کرنا پڑتے ۔ تحقیق سے یہ بیھ پتہ چلا ہے کہ اپنا دودھ پلانے والی خواتین میں پستان کے سرطان کے امکانات کم ہو جاتے ہیں آخر میں سب سے اہم بات کہ اپنا دودھ پلانے سے ماں اور بچے کا رشتہ بہت مضبوط ہو جاتا ہے اور اس رشتے میں دودھ پلانے سے پیدا ہوتا ہے بڑا جذباتی تشکر پایا جاتا ہے اور ماں کی جبلت کو سکون حاصل ہوتا ہے۔
کچھ خواتین دودھ کم آنے کی بھی شکایت کرتی ہیں یا پھر چھاتی کے چھوٹے ہونے پر دودھ پلانے کے بارے میں سوال کرتی ہیں۔
تو کیا نسل انسانی کئی ہزار سال پائوڈر اور دودھ کے بغیر نہیں پھلی پھولی! ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ آج کی عورت پچھلے زمانے کی عورت کی نسبت کم دودھ پیدا کرتی ہے۔ ہاں صرف اتنا خیال رکھنا ضروری ہے کہ آپ مناسب اور متوازن غذا کھا رہی ہیں اور کافی پانی پی رہی ہیں۔ پیدائش کے فوراً بعد بچے کو اپنی چھاتی دیں تاکہ دودھ بننا شروع ہو اور اگر ابتداء میں بہت کم دودھ اترتا ہو تو بددل نہ ہوں عام طور پرآغاز میں بہت کم دودھ آتا ہے۔ تیسرے دن یا اس کے پاس پستان دودھ سے بھر تے ہیں اور بہت زیادہ مقدار میں دودھ بننا شروع ہوتا ہے ابتدا ء میں بچے کو کلوسٹرم یا پہلے دو تین دن دودھ کی جگہ پستانوں سے خارج ہونے والے مادے سے غذائیت مہیا ہو گی لیکن اگر آپ صبر کریں گی اور سکون سے رہیں گی تو جلد ہی دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔ اگر کوئی اضافی خوراک آپ بچے کو دینا چاہیں تو اپنا دودھ پلانے کے بعد دیجئے پہلے نہیں۔ یوں بچہ پوری قوت سے سر پستان کو چوسے گا اور یوں دودھ بہنا شروع ہوگا۔ جب بچے کو چھاتیوں سے مناسب مقدار میں دودھ ملنا شروع ہو جائے تو اسے کوئی اضافی خوراک دینے کی ضرورت نہیں۔
باقی رہی بات چھوٹی یا بڑی چھاتیوں کی تو یقین رکھیں اس کا دودھ کی مقدار سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اگر آپ کی چھاتیاں چھوٹی بھی ہیں تب بھی آپ بچے کو اس کی ضرورت کا دودھ دے سکتی ہیں۔۔
بعض لوگ یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ آپریشن کے بعد بچے کو دودھ پلانا چاہیے کہ نہیں ۔ تو دودھ پیدا ہونے کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ بچہ کیسے پیدا ہوا ہے۔ آپریشن کے بعد جیسے ہی آپ خود کو بہتر محسوس کریں اپنے بچے کو اپنا دودھ شروع کروا سکتی ہیں۔
بعض خواتین کو میں نے دیکھا ہے وہ اس وجہ سے بچے کو دودھ نہیں پلاتیں کہ ان کو خدشہ ہوتا ہے کہ ان کا ظاہری حسن دودھ پلانے سے متاثر ہوگا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا دودھ پلانے سے جسم کی خوبصورتی تباہ نہیں ہوتی بلکہ جسم کو حمل سے پہلے والی صورت میں لانے میں اپنا دودھ پلانا ایک اہم کر دار ادا کرتا ہے ۔
اگر آپ پہلی دفعہ ماں بن رہی ہیں تو بچے کی حرکات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض اوقات بچے کے کاٹنے سے پستان پر زخم ہو جاتے ہیں ، پستان کا بہت زیادہ بھر جانا اور دودھ رسنا ہیں۔ پستان کے زخموں کا بہترین علاج تو یہ ہے کہ انہیں ہونے ہی نہ دیا جائے۔جب بچہ دودھ پی چکا ہو تو اس کے منہ میں ایک طرف انگلی ڈالیں اور پستان کو نیچے کی طرف دبائیں اس طرح تھوڑی سی ہوا اندر آئے گی اور یوں بچہ سر پستان کو آسانی سے چھوڑ دے گا۔ اس کے منہ سے یہ عمل کئے بغیر اچانک پستان باہر مت کھینچیں اس طرح زخم ہونے کا خطرہ ہے۔ اگرزخم ہو چکے ہیں توان کے مندمل ہونے تک بچے کو اس چھاتی سے دودھ نہ پلائیں۔
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی ایسی وجوہات بھی ہیں جن کے ہوتے ہوئے بچے کو قطعاً دودھ نہیں پلانا چاہے؟۔ویسے تو ایسی بہت کم وجوہات ہیں جن کے ہوتے ہوئے بچے کو دودھ پلانا ممنوع ہے۔ ایسی خواتین جنہیں پھیپھڑو ں کی ٹی بی ہو یا کوئی گردوں کی پرانی بیماری ہو یا پستانوں کی کوئی بیماری ہو تو انہیں بچے کو اپنا دودھ نہ پلانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر ماں نفسیاتی مریض ہو اور اس سے اپنے بچے کو ن قصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو اسے بچے کو اپنا دودھ نہیں پلانا چاہئے۔ اور اگر ماں دوائیں کھا رہی ہو تو پھر بھی ڈاکٹر سے مشورہ کر کے دودھ کو پلانا چاہئے۔
کچھ لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ بچے کو کتنی دیر تک دودھ پلانا چاہئے۔ تو آپ کا یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے دین کے مطابق 2سال تک ماں اپنے بچے کو دودھ پلائے ۔ یہ بچے کا حق ہے لیکن اگر کسی وجہ سے ماں اور بات آپسی رضا مندی سے بچے کا دودھ جلدی بھی چھڑانا چاہیے تو وہ ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے ۔ لیکن یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ آپ کے بچے کی بہترین غذا ماں کا دودھ ہی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  زچگی کی اموات وجوہات اور اسباب

اپنا تبصرہ بھیجیں