Dr Jameel Jalib

ڈاکٹر جمیل جالبی ہم سے بچھڑ گئے

EjazNews

معروف ادیب، ماہرتعلیم اور محقق، ڈاکٹر جمیل جالبی کا شمار اردو ادب کی مایہ ناز ہستیوں میں ہوتا ہے، ایسی ہستیوں میں، جن کی وجہ سے علم و ادب کی آبرو سلامت ہے، ڈاکٹر جالبی ایک اعلیٰ پائے کے دانش وَر، صاحبِ علم و فضل، محقّق، متّرجم، نقّاد اور ماہرِ لسانیات و لغات تھے۔ انہوں نے زبان و ادب و تحقیق میں جو کارنامے سر انجام دیئے، وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ اُن کی تحریروں میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ تجسّس، خیال آفرینی، خوش بیانی، فہم و ادراک کی فراوانی، تازگی، نیاپن اور وقار و اعتبار بھی خوب ملتا ہے۔ ان ہی اوصاف کی وجہ سے اہلِ علم اُن کی نگارشات کو اردو ادب میں احترام اور قدر و منزلت سے دیکھتے اور فیض یاب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جالبی ادب کو زندگی کی سب سے بامعنی سرگرمی سمجھتے تھے اور تخلیقی قوت کے استعمال اور آزاد تخلیقی سرگرمی کو انسان کا صحیح ترین منصب شمار کرتے۔ ان کا ایقان تھا کہ تخلیق ہی سے انسان حقیقی خوشی حاصل کرتا ہے، تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنا ادبی سفر، تخلیق نگاری سے نہیں بلکہ تنقید نگاری سے شروع کیا۔ تنقید نگاری سے ہی ان کا اوّلین تشخص قائم ہوا۔ اور صنفِ تنقید کے داخلی تقاضوں کی تکمیل کے لیے انہوں نے مشرق و مغرب کے بے شمار مصنّفیں اور ادباء کا گہرا مطالعہ کیا، ان کے خیالات، افکار اور تصوّرات کو ذاتی تجربے کی کسوٹی پر پرکھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹیلیگرام کے صارفین میں حیران کن حد تک اضافہ

ڈاکٹر جمیل جالبی 12جون 1929 ءکو علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔ان کا اصل نام محمد جمیل خان ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے والد محمدابراہیم خاں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہندوستان پاکستان کے مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کی۔ 1943ءمیں گورنمنٹ ہائی سکول سہارنپور سے میٹرک کیا۔ میرٹھ کالج سے 1945ءمیں انٹر اور 1947ءمیں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1947ءمیں تقسیم ہند کے بعد ڈاکٹر جمیل جالبی پاکستان آگئے اور کراچی میںسکونت اختیار کرلی پر ان کے ساتھ ایک بڑی ٹریجڈی یہ رہی کہ ان کے والد ہندوستان میں ہی تھے اور وہیں سے وہ ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب کو پڑھنے کیلئے اخراجات بھیجا کرتے تھے ۔تقسیم ہند کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو ان کے ہمراہ ان کے بھائی عقیل بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ لیا تھا۔ ان دنوں آئیڈیل سید جالب تھے اسی نسبت سے انہوںنے اپنے نام کے ساتھ جالی کااضافہ کر لیا۔
ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم نے بطور استاد بھی خدمات سرانجام دیں۔ ابتدائی طور پر وہ بہادر یار جنگ کے سکول میں ہیڈ ماسٹر بھی رہے،دوران ملازمت ہی ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحان پاس کر لیے۔انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے 1972ءمیں پی ایچ ڈی کی۔اس کے بعد سی ایس ایس کے امتحان میں شریک ہو ئے اور کامیاب ہوئے۔اپنی نوکری کے بعد انہوں نے والدین سے گزارش کی کہ وہ بھی پاکستان آجائیں جس کے بعد ان کے والدین بھی پاکستان آگئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  جہاں جہاں دست رحمت پھیرتا ہوں عورتیں بیچاری مفلوج ہی رہتی ہیں: مفتی عبدالقوی

کراچی یونیوَرسٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد ’’مقتدرہ قومی زبان‘‘ کے صدر نشین مقرر کیے گئے۔ اُن کے زیرِ نگرانی مختلف موضوعات پر کتابیں اور لغات شایع ہوئیں، خاص طور پر مقتدرہ قومی زبان کی ایک اہم اور کثیر الاشاعت ’’انگریزی، اردو لغت‘‘ انتہائی جاں فشانی سے مرتّب کی۔ علاوہ ازیں 1990ء سے 1997ء تک اردو لغت بورڈ، کراچی کے سربراہ بھی رہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 1964ء،1973ء ،1974ء اور 1975ء میں داؤد ادبی انعام، 1987ء میں یونی وَرسٹی گولڈ میڈل، 1989ء میں محمّد طفیل ادبی ایوارڈ اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1990ء میں ستارۂ امتیاز اور 1994ء میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے 2015ء میں پاکستان کے سب سے بڑے ادبی انعام، کمالِ فن ادب انعام سے نوازا گیا۔ غرض یہ کہ ڈاکٹر جمیل جالبی زندگی بھر حصولِ علم کی کوششوں میں سرگرداں اور تحقیق، تصنیف و تالیف میں مصروفِ عمل رہے۔ بلاشبہ، انہوں نے اپنی اَن تھک محنت، لگن اور کاوشوں سے دنیائے ادب میں جو مقام حاصل کیا، وہ قابلِ ستائش اور ان کی فکری بلندی کا آئینہ دار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اداکارہ انجمن رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

ڈاکٹر صاحب 1983ءمیں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور 1987ءمیں مقتدرہ قومی زبان (موجودہ نام ا دارہ فروغ قومی زبان) کے چیئرمین تعینات ہوئے۔1990سے 1997ء تک اردو لغت بورڈ کراچی میں بطور سربراہ خدمات انجام دیں۔

جالبی صاحب نے جارج آرول کے ناول کا ترجمہ بھی کیا تھا۔ ماہنامہ ساقی میں معاون مدیر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ 18اپریل 2019ءکو تقریباً90سال کی عمر میں وہ اس دنیا فانی کو الوداع کہہ گئے ۔ ادب کے لیے ان کی خدمات بیش بہا ہیں۔

(تحریر: راشدہ عبدالجبار)

اپنا تبصرہ بھیجیں