eagle_attack

نقل مت کرو

EjazNews

پہاڑ کی چوٹی پر ایک عقاب رہتا تھا۔ جو بہت بہادر اور طاقتور تھا۔ اس کی نظر اتنی تیز تھی کہ کئی میل دور پڑا شکار بھی آسانی سے دیکھ لیتا۔ طاقتور اتنا تھا کہ بھیڑ اور بکری کا بچہ اپنے پنجوں سے اٹھا کر اڑ جاتا اور بہادر ایسا تھا کہ کسی بھی خونخوار جانور کو اپنی نوکیلی چونچ اور تیز پنجوں سے زخمی کر کے اڑ جاتا تھا۔ عقاب اس چوٹی کا بادشا ہ تھا کسی پرندے میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ وہ عقاب کے مقابلے میں آسکے۔

ایک دن عقاب پہاڑ کی چوٹی کے اوپر پرواز کر رہا تھا کہ ایک کوے نے اس کو دیکھا۔کوے نے عقاب کو دیکھ کر سوچا کہ اس جیسے تو میرے بھی پر ہیں، پنجے ہیں اور چونچ بھی ہے میں بھی کافی بلندیوں پر اڑ سکتا ہوں۔ میرا اپنا الگ گروہ ہے۔کیوں نا میں بھی طاقت کا ایسا مظاہرہ کروں جس کو دیکھ کر میں اپنے گروہ کا بادشاہ بن جائوں۔

کوا ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ اس نے دیکھا عقاب یکدم پہاڑ کی چوٹی سے نچیے آیا اور وہ پہاڑ پر گھاس چرتے بکری کے بچے پر جھپٹا اور اسے اپنے مضبوط پنجوں میں دبا کر اڑ گیا ۔ بکری کا بچہ آنے والی اچانک آفت سے گھبرا کر ’’میں ، میں ‘‘ کرکے اپنی ماں کو مدد کے لئے بلانے لگا مگر اس سے پہلے کہ بکری یا چرواہا اس کو بچانے کے لئے آتے۔ عقاب اسے لے کر دور پہاڑی پر اڑ کر چلا گیا

یہ بھی پڑھیں:  لنگور غائب ہوگیا

بکری اپنے بچے کی جدائی سے خوب شور مچانے لگی۔ چرواہا بھی بکری کے بچے کو عقاب کا شکار ہوتا دیکھ کر سر پیٹ کے رہ گیا۔
کوے نے عقابک و پھرتی سے شکار کرتے دیکھ کر دل میں سوچا میں بھی پرندہ ہو اس لئے میں بھی عقاب کی طرح شکار کر سکتا ہوں۔تازہ شکار کھانے کا اپنا مزہ ہے۔ کوے نے یہ سوچا اور خوب جوش سے بہت اونچا اڑا اور فضا میں ایک غوطہ لگا کر پہاڑی کے نیچے واید میں گھاس چرتے ہوئے بھیڑ کے بچے کو دیکھا اور گردن کو اکڑا کر بولا ، ہوں ، بڑا آیاپرندوں کا بادشاہ! بکری کے بچے کا شکار تو ہر کوئی کر سکتا ہے۔ اب مجھے سب دیکھیں گے کہ میں کس طرح اس بھیڑ کے بچے کو شکار کرتا ہوں۔

یہ سوچ کر وہ بھیڑ کے بچے پر جھپٹا اور اپن ے پنجے کو اس کی اون میں جما دئیے۔ پھر اس نے سوچا : اب مجھے عقاب کی طرح اس بھیڑ کے بچے کو آسمان کی طرف ا ٹھا لینا چاہئے۔ میرے پنجے بھی اچھی طرح اس کی اون میں جم چکے ہیں۔ اس لئے میں اس چھوٹے بچے کا بوجھ آسانی سے اٹھا لوں گا۔ پھر کوہ نے پانے پر پھڑ پھڑائے اور اوپر اڑنےور لگایا مگر بھیڑ کے بچے کو لے کر اڑ نہ سکا۔ کوے نے ایک بار پھر پورے زور سے اوپر کی طرف اڑنے کی کوشش کی مگر وہ نہ اڑ سکا۔

یہ بھی پڑھیں:  ماں کا دل آخر ماں کادل ہے

اب کوا بڑی مصیبت میں پھنس چکا تھا اس نے دور سے چرواہے کو بھا گکر آتے دیکھا تو اس کے ہات میں پکڑے ڈنڈے کو دیکھ کر ڈرگیا اور پانی جان بچانے کے لئے اڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس کے پنجے بھیڑ کے بچے کی اون میں بری طرح پھنس چکے تھے۔ وہ بہت گھبرایا پر پھڑ پھڑائے مگر کامیاب نہ ہو سکا۔اتنی دیر میں چرواہا اس کے سر پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر کوے کو پکڑ لیا اور اپنے گھر لے آیا۔ چرواہے کے بچوں نے کوے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے ۔ انہوں نے کوے کو پکڑا پنجر ے میں بندکر کے اس کے ساتھ کھیلنے لگے۔

چرواہے نے اپنے بچوں کو کہا یہ کوا خود کو عقاب سمجھ رہا تھا ، اس کا خیال تھا کہ وہ عقاب سے زیادہ طاقتور اور بہادر ہے مگر اس نالائق کو یہ معلوم نہیں کہ یہ کوا ہی رہے گا۔ بچے یہ بات سن کر خوب ہنسے اور کوے ک ساتھ کچھ دیر کھیل کر اس کو آزاد کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملاقات چیونٹیوں کے بادشاہ کے ساتھ

اچھے بچو!
اپنی اصلیت کو نہ پہچاننا اور دوسروں کی نقل کرنا خود کو مصیبت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں