درد شقیقہ

ہیلتھ گائیڈ

EjazNews

بچوں میں د رد شقیقہ؟

امریکن اکیڈمی آف نیو رو لوجی کی ایک تحقیق کے مطابق چھوٹی اور درمیانی عمر کے بچوں کو بھی درد شقیقہ یعنی آدھے سر کا درد لا حق ہو سکتا ہے، س کی بڑی وجہ ذہنی دبائو سمجھی جاتی ہے۔ شدید نوعیت کے سر درد کی صورت میں بچوں ک ے اندر جسمانی معذوری بھی پیدا ہو سکتی ہے اور ان کی نشوونما بھی رک سکتی ہے۔ پرائمری سکول تک پہنچنے والے15فیصد بچوں میں آدھے سر کے درد کا مرض پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے بچوں کے والدین اور سکول اساتذہ کو بچوں پر خصوصی توجہ دینی چاہئے یعنی اگر دوران تعلیم وہ سر درد کی شکایت کریں تو انہیں ڈاکٹر کو دکھانے کے علاوہ والدین کو اعتماد میں لے کر کسی نیورو لوجسٹ سے رابطہ کرنے پر زر دینا چاہئے۔ اس تحقیق میں 12سے 14سال تک کی عمر کے بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو اس مرض میں مبتلا تھے۔ تحقیق میں سردرد کی نوعیت، شدت اور دورانیے ، شدت اور دورانیے پر نظر رکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سردرد کی بہت سی دیگر وجوہات بھی و سکتی ہیں تاہم بچوں کو تیز بارش ، تیز روشنی، جھلسا دینے والی تپش اور غیر معیاری خوراک سے پرہیز کرنا چاہئے اور سردرد کی صورت میں مکمل آرام کا موقع دیا جانا چاہئے اس طرح اس مرض کو بتدریج کم کیا جاسکتا ہے۔

کرین بری اور ورم مثانہ

سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ کرین بری جوس کا ایک گلاس روزانہ پیا جائے تو اس سے مثانے کے ورم کو دور کیا جاسکتا ہے جو عموماً آنتوں میں رہتا ہے لیکن بعض اوقات یہ پیشاب کی نالی میں پہنچ کر مثانے کے خلیوں سے چپک جاتا اور انفیکشن پھیلاتا ہے۔ اگر پیشاب کے وقت درد ہو، بار بار حاجیت ہو، پیٹ میں درد رہنے لگے یا بخار ہو جاتا ہو تو پچھلے وقتوں کی عورتیں گھریلو ٹوٹکے کے طور پر کرین بری جوس استعمال کرتی رہی ہیں۔ عام خیال یہ تھا کہ کرین بری میں وٹامن سی کا شامل ہونا پیشاب کی تیزابیت کا باعث بننے والے بیکٹریاکو ہلاک کرتا ہے۔ 1991ء میں سائنسدوں نے کرین بری جوس میں دو ایسے مرکبات کا پتہ چلایا جو E-Coli بیکٹیریا کے مثانے کے خلیوں مں چپکنے کے عمل کو ناکارہ بنا دیتے ہیں اب چونکہ یہ بیکٹیریا جوس کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے لہٰذا انفیکشن بھی نہیں ہونے دیتا۔ گردو ں کے پیچیدہ مسائل سے بچنے کے لئے پانی کا استعمال یونہی تو نہیں بڑھا نے کی ہدایت کی جاتیں اب اگر آپ کرین بری جوس بھی پیتے ہوں تو مثانے کے ورم کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  عمر کے ہر حصے میں صحت مند رہنے کیلئے عمر کے مطابق معمولات اپنائیں

تنہا تنہا نہ رہیے

جدید طبی تحقیق کے مطابق تنہائی پسندی کی عادت بیماریوں ک خلاف قوت مدافعت میں کمی کر سکتی ہے۔ ملبورن یونیورسٹی کے طبی ماہرین نے اپنی ایک تحقیق کو طلبا و طالبات پر مکمل کیا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ تنہا تنہا رہنے والے طالب علم اکثر و بیشتر نزلے زکام کا شکار رہتے ہیں جبکہ مختلف نوعیت کی الرجی بھی ان سے اکثر طلباء کو لا حق ہو جاتی تھی۔ دراصل سماجی سرگرمیاں بھی فرد کو بیماریوں سے بچانے میں اہم کر دار ادا کرتی ہیں۔ افراد کے آپس کے روئیے سماجی سرگرمیاں، تعلقات میں گرمجوشی ، نصابی و غیر نصابی دفتری یا گھریلو تقریبات وغیرہ میں شرکت کا مزاج اور صحت پر خوشگوار اور ناخوشگوار اثر پڑتا ہے، جو لوگ تنہا رہنے کے عادی ہو گئے تھے مطالعہ کے مطابق وہ حالات کی سختی اور تلخی برداشت کرنے کے اہل نہیں رہے تھ ے۔ وہ بات بات پر خوف میں مبتلا ہو جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  یادداشت کی طاقت

نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ معاشرتی میل جول میں ہی انسان کی بقاءہے جو لوگ خوشیاں اپنے وجود تک محدود کرتے ہیں وہ قوت نہیں بنتے اور نہ ہی قوت مدافعت قائم ر کھ پاتے ہیں ۔ لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے والے افراد بہت سی مہلک بیماریوں سے بچے رہتے ہیں انہوں نے الزائمر کو بھی تنہا پسندی کی وجہ سے ہونے والی ایک بیماری قرار دیا۔ اپنی ذات میں کھوئے رہنے والے افراد گردو پیش میں ہونے والے واقعات اورباتیں بھول جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ یہ عادت بیماری بن جاتی ہے۔

بچے کیسے بولنا سیکھیں؟

نفسیاتی اور طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سکول جانے کی عمر سے پہلے بچوں سے روزانہ گفتگو کرنے کی عادت ان کے اعتماد کو بڑھاتی ہے اور بچے پورا جملہ بولنے اور اپنا ماضی الضمیر سمجھانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی کتابوں سے جملے پڑھ کر انہیں سنانے یا کہانیاں سنانے کا تجربہ نہایت کامیاب رہتا ہے۔

اس تحقیق کی تیاری کے لئے ماہرین نے 275خاندانوں کے گھروں میں بچوں سے ہونے والے گفتگو کو ڈیجیٹل آلات سے ریکارڈ کیا اور بعد ازاں ان بچوں اور دیگر بچوں کےدرمیان فرق کو نوٹ کیا۔ 2سے4 سال کے بچوں کی گفتگو 6 ماہ تک ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض گھروں میں یہ گفتگو 8ماہ تک نوٹ کی گئی۔ ماہری نے دیکھا کہ والدین کی رہنمائی، گفتگو اور اپنائیت بچوں میں نہ صرف اعتماد بڑھاتی ہے بلکہ ان کو بولنے اور اپنی بات سمجھانے میں مدد بھی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سردیوں میں صحت مند رہنے کیلئے خوراک کا انتخاب کریں

غذائی احتیاط، مہلک بیماریوں سے نجات

لندن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اتفاق رائے سے یہب ات سامنے آئی ہے کہ معیاری صحت کے لئے روز مرہ کی طرز زندگی میں وقت کی پابندی ، مثبت سوچ اور کھانے پینے میں احتیاط یہ چند بنیادی شکایتیں ہیں جن کو اختیار کرنے سے عارضہ قلب، ذہنی دبائو، گردوں کے امراض، ذیابیطس، سرطان اور دیگر مہلک بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ طب کے مختلف شعبوں میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں مرتب کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت مندانہ طرز زندگی نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ ہارٹ اٹیک ہوتے ہیں اور اس کے بعد گردوں پر اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جگر اور معدے کی بیماریوں کا عارضہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ کینسر تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ پرہیز کو اسی لئے علاج سے بہتر گردانا جاتا ہے لیکن اب ماہری نے اس بات پر زیادہ عمل کرنے کے لئے لوگوں کو خبر دار کرنا شروع کیا ہے کیونکہ بد احتیاطی سے چھوٹی موٹی بیماریوں کے بجائے بڑے امراض کی بنیاد رکھی جانے لگتی ہے اور چھوٹی بیماریاں بڑے امراض کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں