ای این واٹ مور

انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ای ین واٹ مور نے اچانک مستعفی کیوں ہوئے؟

EjazNews

ای این واٹ مور پانچ سال کیلئے چیئرمین بنے تھے لیکن 13 ماہ ہی میں گھر چلے گئے۔

ماہرین استعفیٰ کو پی سی بی کی اخلاقی فتح قرار دے رہے ہیں۔ ای سی بی کے اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی چیئرمین بیری او برائن کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

واٹمور نے بورڈ کے ساتھ باہمی معاہدے کےتحت ڈومیسٹک سیزن کے اختتام اور گزشتہ ایک برس میں کووڈ کے چیلنج کے دوران کھیل کو آگے بڑھانے میں مدد کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان انگلینڈ سیریز منسوخی کی وجہ سے وہ دباؤ کا شکار تھے ، بورڈ آف ڈائریکٹرز سے مشاورت کے بعد باہمی رضا مندی سے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔

ای ین واٹمور نے کہا کہ بطور چیئرمین توقعات کافی بدل چکی تھیں، موجودہ حالات مجھ پر کافی اثر انداز ہوئے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ای سی بی میں نیا چیئرمین ذمہ داریاں سنبھالے۔ عہدے سے مستعفی ہو گیا ہوں ، یہ فیصلہ میں نے اپنے طور پر اور جس کھیل سے میں پیار کرتا ہوں، اس کے لیے کیا ہے۔ بورڈ اور میں نے محسوس کیا کہ ای سی بی کیلئے نیا چیئرمین بہتر ہوگا جو وبا کے بعد بورڈ کو لے کر چلے۔ گزشتہ ماہ سول سروس کمیشن سے ریٹائر ہوا تھا اور حال ہی میں دادا بن چکا ہوں ، اب چاہوں گا کہ مکمل طور پر ریٹائر ہوجاؤں اور عظیم کھیل سے مداح کے طور پر لطف اندوز ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  ٖPSL2020، شائقین کو 6سے29اگست تک ری فنڈنگ جاری رہے گی

نگلینڈ کرکٹ ٹیم نے رواں ماہ دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے کی غرض سے چار دن کے لئے پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ ملتوی کیے جانے کے بعد انگلینڈ نے بھی یکطرفہ طور پر دورہ ملتوی کردیا تھا جس کے بعد سابق انگلش کرکٹرز سمیت حکومت کی جانب سے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق انگلش کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے بعد واٹمور پر شدید دباؤ تھا، برطانوی وزیراعظم بھی ناراض تھے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ انہیں پانچ ملکی سکیورٹی ایجنسی اتحاد فائیو آئیز نے تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا کہ ٹیم پر حملہ ہوسکتا ہے۔ سکیورٹی اتحاد میں امریکا، انگلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ شامل ہیں۔

گذشتہ دنوں برطانوی صحافی لارنس بوتھ نے بھی انگلینڈ کرکٹ بورڈکے فیصلے کو غلط قرار دیا اور کہا تھا انگلینڈ کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا فیصلہ اچھا نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  تین ماہ بعد عالمی کرکٹ بحالی کی جانب بڑھی

دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم منسوخ سیریز ری شیڈول کرنے پر تیار ہو گئی ،پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کرلیا، آئندہ ہفتے اعلان متوقع ہے ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک نیوزی لینڈ کی طرف سے اچھی خبر ملنے والی ہے، نیوزی لینڈ دورہ منسوخی کو دوبارہ شیڈول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کو بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو کوئی ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال سکتا، جب تک آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک کوئی کام نہیں بنے گا۔

کمیٹی ارکان نے تجویز دی کسی طرح چین کو کرکٹ میں لے آئیں جس پر رمیز راجہ نے جواب دیا کہ چین کو جلد کرکٹ میں لارہے ہیں۔
رمیز راجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ نیوزی لینڈ نے پاکستان کا دورہ منسوخ کیا، اب پھرسے رابطہ کرلیا،آئندہ ہفتے نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوم سیریز دوبارہ شیڈول کرنے کا اعلان کردیا جائے گا ۔ نیوزی لینڈ کو نومبر 2022 میں دورے کی تجویز دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق اولمپیئن جہانگیر بٹ انتقال کر گئے

رمیز راجہ نے بتایا کہ بھارت کا کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کیلئے 90 فیصد آمدنی فراہم کرتا ہے جبکہ آئی سی سی اس آمدنی میں سے 50 فیصد فنڈ پی سی بی کو دیتا ہے، خطرہ ہے کہ اگر بھارت آئی سی سی کو آمدن دینا چھوڑ دے تو پاکستان کرکٹ کہیں بیٹھ نہ جائے۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی اہمیت بڑھانےکیلئے پی سی بی کی معیشت کو بہتر بنانا ہوگا، اس سلسلے میں مختلف سرمایہ کاروں کےساتھ بات چیت جاری ہے۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ایک ملین ڈالر کی مالیت کی ڈراپ ان پچز دینے کے لیے دو کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، ایک سرمایہ کار نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کو ہرانے پر بلینک چیک کی بھی آفر کی ہے۔ مختلف بورڈ سے ٹرائی سیریز شیڈول کرنے کا پلان کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں