The-Thirsty-Crow-Story

پانی کی نعمت

EjazNews

سورج خوب چمک رہا تھا۔ جس وجہ سے گرمی سے نڈھا چرند اور پرند سائے کی تلاش میں تھے اور سب گرمی سے نڈھال تھے۔ ایسی گرمی میں ایک کوا خوراک کی تلاش میں اڑ رہا تھا۔ شدید گرمی اور مسلسل پرواز کی وجہ سے اسے پیاس لگی۔ کوے نے بہت صبر کیا جہاں کہیں کوئی دریا یا ندی نظر آئے گی وہاں جا کر خوب جی بھر کر پانی پی لوں گا مگر شدید گرمی نے اس کی پیاس کو خوب بھڑکا دیا۔ اس سے پہلے کوا شدید گرمی سے نیچے گرتا اسے جھاڑیوں میں ایک مٹکا نظرآیا جو منہ کے پا س سے ٹوٹا ہوا تھا۔ کوا فوراً زمین پر اترا اور اس میں جھانک کر دیکھا کہ مٹکے میں پانی ہے کہ نہیں جب کوے نے مٹکے میں اپن یچونچ ڈالی کہ پانی پی لے مگر پانی اس کی پہنچ سے بہت دور تھا۔ کوے کو شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔ جب پانی تک پہنچ نہ ہوئی تو کوا مٹکے کے ٹوٹے پیندے پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ اب کیا کرے؟

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کو ریاضی سے مت ڈرائیے

اچانک اس کو ایک ترکیب سوجھی۔ کوا مٹکے سے اڑا اور قریب پڑے کنکروں کے ڈھیر کے پاس چلا گیا۔ ڈھیر سے ایک کنکر اپنی چونچ دبا کر لایا اور مٹکے میں ڈال دیا ۔ پانی ذرا سا اوپر ہوا۔

اب تو کوا اڑ کر جاتا اور ڈھیر سے کنکر لاتا اور مٹکے میں گرادیتا۔ کوا جیسے جیسے کنکر مٹکے میں ڈالتا رہا تھا۔ پانی اوپر اٹھنے لگتا۔

کافی دیر تک محنت کرنے کے بعد اب پانی مٹکے سے اتنا اوپر آچکا تھا کہ کوا آسانی سے پانی پی سکتا تھا۔ پھر کوے نے خوب جی بھر پانی پیا اور اللہ کریم کا شکر ادا کیا ۔ جس نے پانی جیسی نعمت بنائی ہے۔

کوے نے اپنی عقل مندی سے ناممکن کو ممکن بنا لیا تھا۔ کوے کو پانی پیتے دیکھ کر پیاسے پرندے بھی مٹکے کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے اور بار ی باری مٹکے سے پانی پینے لگے۔ کوا تمام پردوں کو پانی پیتا دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ اس نے اپنی پیاس بھی بجھائی اور پرندوں کو بھی پانی مہیا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آدھی رات کا سفر

اچھے بچو!
برے وقت میں عقل م دی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں