Umer_sharif_1

ایک تھا عمر شریف

EjazNews

66برس کے عمر شریف کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ 19اپریل 1955ء میں عمر شریف کراچی کے شہر لیاقت آباد میں پیدا ہوئے ۔صرف 14برس کی عمر میں 1974ء میں انہوں نے فن کی دنیا میں قدم رکھا اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

حسن اتفاق دیکھئے کہ عمر شریف نے اپنے نام کے ساتھ تخلص دو مرتبہ بدلا پہلے وہ محمد عمر کے نام سے پھر عمر ظریف اور آخر میں ہم سب کے عمر شریف کے نام سے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتے رہے۔

1980ء کی دہائی تک اردو کامیڈی میں دور دور تک ان کا کوئی مد مقابل نہیں تھا اور 2021ء تک بھی ایسی ہی صورتحال رہی ہے۔
1989ء میں پیش کیے گئے شہرہ آفاق سٹیج ڈرامے ’’بکرا قسطوں پر ‘‘ نے عمر شریف کو ایک الگ اورنئی پہچان دی اور راتوں رات وہ کامیڈی کی دنیا کے کنگ بن گئے۔اس ڈرامے کی مقبولیت اس قدر بڑھی کہ اس سٹیج شو کے پارٹ ون ، ٹو ، تھری اور فور بھی بنائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  اعزازی ڈگری گھر والوں کے نام کرتا ہوں:راحت فتح علی خان

عمرشریف نے 1992 میں فلم ’’مسٹر 420 ‘‘کیلئے بہترین ڈائریکٹر اور بہترین اداکار کا قومی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں دس نگار ایوارڈ ملے۔

عمرشریف واحد اداکار ہیں جنہوں نے ایک سال میں چار نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ انہیں تین گریجویٹ ایوارڈ بھی ملے۔عمر شریف فن و ثقافت کیلئے گراں قدر خدمات پر تمغہ امتیاز سے بھی نوازہ گیا ہے۔

بھارتی کامیڈی شو ’’دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج‘‘ میں نوجوت سنگھ سدھو اور شیکھر سمن کے ساتھ انہوں نے بطور مہمان جج کے طور پر بھی شرکت کی۔

بڈھا گھر پر ہے، ہم سب ایک ہیں، بکرا قسطوں پر، چاند برائے فروخت، مجھے بیویوں سے بچا، اکبر اعظم اور اس جیسے بہت سے کامیڈی شو سے وہ شہرت کی دنیا میں بلندیوں کو چھو گئے۔

صدر عارف علوی ، وزیراعظم سمیت اہم شخصیات نے عمر شریف کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ منفرد حس مزاح کے مالک تھے، وزیراعظم نے کہا کہ عمر شریف کا فنون لطیفہ میں منفرد مقام تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  پوری ٹیم جب مل کر کام کرتی ہے تو پھر ایسے ڈرامے بنتے ہیں”میرے پاس تم ہو “

پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کی سیاسی، شوبز اور سپورٹس سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے عمر شریف کے انتقال پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ دنوں ائیر ایمبولنس کے ذریعہ علاج کیلئے انہیں امریکا کیلئے روانہ کیا گیا تاہم جرمنی میں انکی طبیعت بگڑنے کے باعث فوری طور پر جرمنی کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر وہ 2 اکتوبر 2021 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

اپنے نرالے منفرد انداز سے دنیا بھرمیں اپنا لوہا منوا کر زندگی بھر داد سمیٹتے رہے۔عمر شریف اپنی طرز کے واحد اداکار تھے جنہیں آڈیو کیسٹ کے ذریعے ملک گیر مقبولیت ملی اور ان کی مقبولیت پاکستان سے نکل کر سات سمندر پار تک پھیل گئی۔

انہوں نے تقریبا 5 دہائیوں تک شوبز میں کام کیا ہے اور درجنوں، ڈراموں، اسٹیج تھیٹرز اور لائیو پروگرامز میں پرفارم کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں