Fragrance

خوشبو ایسی جو فضا معطر کر دے

EjazNews

آپ کسی سٹور کے کاسمیٹکس والے حصے میں جائیں، اگرآپ خوشبوئوں کے دیوانے ہیں تو آپ کا دل مچلے گا کہ فوراً ڈھیر ساری خرید لیں، اور اس وقت آپ کی کیفیت اس بچے کی مانند ہوگی جسے ارمان ہوتا ہے کہ وہ دکان کے سارے چاکلیٹ اور سار ی پرفیومز کوئی نہیں خریدتا، دوسری طرف خوشبو کا انتخاب بھی کوئی آسان مرحلہ نہیں ہوتا۔ صرف خوصورت منقش اور دیدہ زیب نظر آنے والی شیشی کو نہیں خریدا جاسکتا۔ خوشبو تو ایسی ہو جسے محسوس کرک ے دل جھوم اٹھے جو فضا کو معطر کر دے ، جسے محسوس کر کے آپ کو محفل میں سراہا جائے نہ کہ لوگ اپنی ناک سکیڑتے نر آئیں۔

خوشبو خریدتے وقت ماہرین حسن کی خدمات لی جاسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ہاٹ سیلرز (بہت زیادہ بکنے والی) خوشبو یات آپ کو نہ بھاتی ہوں۔ ہر دور میں پانچ یا چھ برانڈڈ نام ایسے ہوتے ہیں جو اہل ذوق کو بھاتے ہیں باقی آئندہ برسوں کے لئے گویا مقبولیت کا انتظار کرتے ہیں مگر ر پرفیوم تیاری سے انتخاب تک کئی ماہرین کے مشوروں اورآراء کی نظر سے گزرتی ہے۔

کیا کسی پرفیوم میں اس قدر قوت ہوتی ہے کہ وہ آپ کی شخصیت کو نکھاردے۔ آپ کی نفاست اور کشش و جذبیت میں اضافہ کر دے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ انسانی طبع میں داخل ہے کہ وہ بدن کی مسحور کن خوشبو سے مقابل کو نہ صرف متاثر کرنے کی خواہش رکھتا ہے بلکہ دل کو جیت لینے کی سعی کرتا ہے۔

خوشبو کے اس سحر کو یوں سمجھنا چاہئے کہ جیسے پھولوں پر شبنم کی پھواریں پڑیں تو وہ نکھر جاتے ہیں۔ جیسے آپ چاندنی رات میں ننگے پیر سبزے پر دھریں اور ٹھہرے قدموں کی چاپ محسوس کریں۔ اس رومان پروری اور فطرت سے عشق کو بہت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جب آپ کی طبیعت خوش ہوگی اور آپ اپنے اندر نئی توانائی محسوس کر کے کوئی بھی کام کرنا چہیں گے تو لا محالہ اعتماد بڑھے گا۔

خوشبو یادوں میں زندہ ہو
کسی نہ کسی خوشبو کو یاد سے جڑا ہوا دیکھ کر طبیعت میں سر خوشی کا جذبہ ابھر نا یقینی امر ہے۔ مثال کے طورپر کوئی قیمتی خوشبو کسی ساتھی کے تحفے کے طورپ ر محفوظ رکھی گئی ہو یا کوئی خوشبو کسی ایسے لمحے کی یاد دلاتی ہو جب آپ زندگی کے کسی نئے اور انوکھے تجربے سے گزرے ہوں۔ ایسی خوشبو کیوں نہ یادوں کا حصہ بنے جس سے کسی طرح کی جذباتی وابستگی ہو۔

کسی دوسرے کیلئے خوشبو کا تحفہ کیسا رہے گا؟
یہ خیال بہت اچھا ہے لیکن اس کے لئے اسے آپ کا دوست، محبوب یا ساتھی ہونا بھی ضروری ہے۔ کسی اجنبی کے بارے میں آپ کیسے جان سکیں گی کہ اس کا طرز زندگی کیا ہے؟ اس کا ذریعہ روزگار، میلان طبع، دوستوں کا حلقہ اور طرز زندگی یہ تمام باتیں جاننا بہت ضروری ہوتا ہے اگر کسی شخص کو مستقل الرجی رہتی ہو یا اسے خوشبو سرے سے پسند ہی نہ ہو اگر اسے آپ قیمتی پرفیوم دیں تو یہ پیسے ضائع کرنے کے برابر ہے۔ جس شخصیت کو تحفے کی قدر و اہمیت کا اندازہ نہ ہو وہ منافقانہ طور پر اپنے خلوص کا اظہار تو شاید کر دے لیکن دراصل اسے اس تحفے کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ کپ 2019ء میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی

خوشبو کی عمر صرف تین سال ہوتی ہے
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک کھلی ہوئی شیشی میں رکھی ہوئی خوشبو کافی برس تک کارآمد رہے گی وہ غلطی پر ہیں۔ یہ خوشبو تھوڑا عرصہ بعد سٹراند بھی پیدا کر دیتی ہے ، مہنگی یا سستی خوشبو کوئی بھی ہو سٹور اسی صورت میں کی جاسکتی ہے جب تک اسے کھولا اور قطعی استعمال بھی نہ کیا جائے ہوتا دراصل یہ ہے کہ اس میں شامل کوئی ایک جزو اپنی میعاد پوری کر چکتا ہے اورا س سے تازگی مفقود ہو چکی ہوتی ہے اس لئے پرانی پرفیوم ویسی بھرپور تازگی نہیں دیتی نہ ہی خوشبو تیز رہتی ہے۔

اپنے لئے کیسی خوشبو منتخب کی جائے؟
ایک پرفیوم گھر بھر کے لئے کبھی موزوں نہیں رہتی۔ یوں تو کاسمیٹکس ہوں یا خوشبو ئیں اپٓ وہی استعمال کرتے ہیں جو آپ کو سوٹ کرتی ہیں یہ مثال یوں سمجھئے کہ جو رنگ آپ پر جچتا ہے آپ اسی رنگ کے لباس تیار کرتی ہیں اور وہی پہنتی اوڑھتی ہیں۔
عام طور پر یو ڈی ٹوائلٹ دن کے وقت استعمال کیا جاتا ہے اور موزوں رہتا ہے جبکہ یوڈی کو لون شام کی تقریبات کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے مگر اسے بھی تھوڑی سی مقدار میں استعمال کیا جانا چاہئے۔

جسم کو مہکانا چاہئے
ہماری عادت یہ ہے کہ یا تو ہم کپڑے پہن کر پرفیوم چھڑکتے ہیں یا بدن پر باڈی اسپرے کر کے کپڑے پہنتے ہیں جس کے چار حصے اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ جہاں سے تمام بدن کو خوشبو کی ترسیل ہو جاتی ہے مثلاً کلائیاں ، گھٹنوں کے اطراف سینے کے اوپری حصے اور بغلوں میں ایسے نازک اور حساس غدود ہوتے ہیں جو خوشبو کوپورے بدن میں مہکا دیتے ہیں یہاں سے خون کی گردش ہوتی ہے جو جلد سے براہ راست اثرات قبول کرتی ہے۔ کچھ خواتین کانوں کے لوئیں سے اسپرے کرتی ہیں یا عطر لگاتی ہیں یہ عضو خوشبو کے لئے موزوں نہیں۔یہ حصہ جسم کے روغنیات کا احاطہ کرتا ہے اور دن بھر میں ہر تین گھنٹہ بعد یہاں موجود غدود روغن خارج کرتا ہیں۔ خوشبو کے استعمال سے غدودوں کے اخراج کا راستہ بند ہو جائے گا۔

تمام عمر یا بہت دن تک ایک ہی خوشبو کیوں؟
خوشبوئوں میں نئی اختراعات ہوتی رہتی ہیں جدید ترین وئیں ہلکی مہک رکھتی ہیں۔ یقیناً یہ اس دور کے مزا ج کی بات ہے اور رجحان بدلتے رہتے ہیں ۔ پچھلے وقتوں میں تیز اور تاثر انگیز مہک رکھنے والیے پرفیومز تیار کی جاتی تھیں اب زور تازہ دم ہونے پر ہے اور پرفیوم انڈسٹری روایتی اور کلاسیکی خوشبوئوں کی مقبولیت سے فائدہ اٹھا کر کچھ نیا اور بہتر کرنا چاہتی ہے۔ اگر آپ کو بھی کسی پرانی پرفیوم پر داد نہیں مل رہی تو فوراً اپنا انتخاب بدل لیں۔ خوشبو ایسی چیز ہے جو ہم دوسروں کو متاثر کرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔

خوشبو اور آپ کی باڈی کیمسٹری
آپ کے ماحول، شخصیت، جسم، لباس پہننے کی عادتیں اور خود کو بنا سنوار کر رکھنے کا بیشتر تعلق جسم کی باڈی کیمسٹری پر بھی ہوتا ہے ، جس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اگر آپ کے سونگھنے اور محسوس کرنے کی حس تیز ہے تو آپ اچھی اور موزوں خوشبو کا انتخاب بہتر طور پر کر لیں گی اگر آپ کے جسم میں کچھ ہارمونز تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ اپنی پسندیدہ خوشبو سے نفرت محسوس کریں تب اس خوشبو کو یک طرفہ رکھ کر مختلف خوشبو دار صابنوں ، باڈی اسپرے، لوشنز اور یوڈی کولون کا انتخاب کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ(U.N.O) میں

حساس جلد کے مالک خوشبو کیوں نہ استعمال کریں؟
سب سے پہلے آپ تجرباتی طور پر ہلکی خوشبو والے صابنوں اور کولون کا استعمال کریں، کسی بھی کیمیائی رد عمل سے بچائو کے لئے آپ بازار سے انہی خوشبوئوں کا انتخاب کریں جو حساس جلد کے لئے موزوں سمجھی جاتی ہوں۔

یوڈی ٹوائلٹ، یوڈی پرفیوم، یوڈی کولون اور پرفیوم کے درمیان فرق
دراصل ان تمام اشیاء میں روغنی مقدار کا فرق ہے ۔ یوڈی کولون میں 3-5فیصد روغن شامل کیا جاتا ہے۔ یوڈی ٹوائلٹ میں 6-8فیصد، یوڈی پروفیوم میں 7-9فیصد اور پرفیوم میں سب سے زیادہ یعنی 9فیصدی روغن موجود ہوتا ہے اس لئے یہی خوشبو تادیر قائم بھی رہتی ہے اور کئی دن تک کپڑوں میں بستی رہتی ہے۔

گھروں اور کمروں کو بھی خوشبو میں بسائے رکھئے
لوگ گھروں میں نہ صرف کمروں بلکہ باتھ رومز کو بھی ناگوار مہکاروں سے بچانے کے لئے اضافی فریشرز کا اہتمام کرتے ہیں۔ آپ چاہیں تو گھروں میں تازہ پھولوں کی آرائش کر کے قدرتی خوشبوئوں کا میلہ لگا سکتے ہیں۔ روم فریشنرز م یں کیمیائی اجزا کا استعمال آ پکو الرجی کرا سکتا ہے۔
خوشبو دار موم بتیوں کو سر شام یا کینڈل ڈنر کے لئے استعمال کیا جائے تو فضا بھی معطر ہو جاتی ہے اور طبیعت میں بھی سرشاری آجاتی ہے، گلاب گلاب ہی ہے وہ جہاں بھی رہے ، لوگ اب بھی تقریبات کے موقع پر گلابوں کی آرائش کرتے ہیں۔

کچھ خوشبوئیں بہت جلد زائل ہو جاتی ہیں
دراصل خوشبوئیں سینتھیٹک آئلز یعنی کیمیائی سے یا قدرتی روغنیات سے تیار کی جاتی ہیں۔ جنہیں بعد ازاں الکوحل اور پانی کے پروسیس سے گزارا جاتا ہے۔ اس مائع کو رقیق مادے کی شکل دینے کے لئے مختلف پھولوں کے عرقیات اور روغن شامل کئے جاتے ہیں ان کی مقدار میں کمی یا زیادتی کی وجہ سے کچھ خوشبوئیں بہت جلد زائل ہو جاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دن اور رات کے لئے علیحدہ خوشبو ہونا ضروری نہیں تاہم اگر آپ خوشبو کے معاملہ میں نہایت حساس ہیں تو دن کے وقت پھولوں کی مدھم سی خوشبو کے معاملہ میں نہایت حساس ہیں تو دن کے قوت پھولوں کی مدھم سی خوشبو یا سٹریس (ہلکی سی ترش) لگائی جاتی ہے اور رات کے و قت تیز اور اگر کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ خوشبو کو محسوس کرتے ہیں ان کے سر میں دد ہونے لگتا ہے تو شاید وہم غالطہ کر رہے ہیں یہ درد ممکن دھوئیں، گردو غبار یا سر کے کی مہک سے بھی ہو جاتا ہو مگر خوشبو کے اجزا میں ایسا کوئی جزو بہر طور شامل نہیں ہوتا کہ جس سے الرجی ہونے کا خدشہ ہو۔ البتہ طبی نقطہ نظر سے یہ امکان رد نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی شخص خوشبو کی تیزی برداشت نہ کر سکتا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  میرے صلاح الدین یوسف( ایوبی) رحمہ اللہ

باڈی اسپرے خریدنا بہتر ہے یا نہیں؟
آج کل خوشبو کی ہر بوتل پر اسپرے کے لئے خاص جگہ ہوتی ہے اسی سے بدن اطراف خوشبو پھیلائی جاتی ہے۔ پچھلے وقتوں میں عطر کو روئی کے پھاہوں میں بھگو کر استعمال کرتے تھے اور وہ طریقہ اب بھی روایی خوشبوئوں کے ساتھ رائج ہے اس کے استعمال میں بھی مضائقہ نہیں۔

خوشبو ناگزیر ضرورت ہے
خوشبوئوں کے تاجر یہی کہتے ہوئے نظر آئیں گے کہ مسکراہٹ کی طرح خوشبو بھی ناگزیر ہے۔ یہ آپ کے ان دیکھے دسختط ہوتے ہیں ج آپ کسی ملاقاتی کے سامنے پیش ہو کر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ آپ کے موڈ کی سفیر ہوتی ہے۔ کھ لوگ ہر روز ایک ہی خوشبو استعمال کرتے ہیں اور کچھ کسی روز اداس ہوں تو بہت ہلکی خوشبو استعما ل کرتے ہیں۔ کچھ تیز اور چونکا دینے والا باڈی لوشن، شاور جیل یا پرفیوم لگانے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان سب کا انتخاب وقت اور ضرورت کے تحت ہوتا ہے۔

خوشبو خریدنا آسان مرحلہ ہرگز نہیں
لوگ غلطی کرتے ہیں کہ بھری مارکیٹ میں ایک کے بعد دوسری کلائی اور پھر کہنیوں پر تیسری خوشبو لگا کر چیک کرتے ہیں ان کا معیار اور ساکھ پر کھتے ہیں۔ اس طرح تو ہر خوشبو آپس میں گڈ مڈ ہو جاتی ہے۔ خوشبو کے چند قطرے آدھے گھنٹے بعد اپنی پہچان کرتے ہیں اس لئے پرانے، منجھے ہوئے جانکار خریدار آزمائی ہوئی برانڈ خوشبو خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ خوشبو ان کی جانی پہچانی اور پرکھی ہوئی ہوتی ہے۔

آپ کے بدن کی اپنی بھی ایک مہک ہوتی ہے
آپ کے جسم کی اپنی ایک کیمیائی سطح ہوتی ہے اور ہر بدن کی مختلف خوشبو ہوتی ہے ۔ جن افراد کے پسینے کی مہک زیادہ تیز ہوتی ہے اگر وہ غلط خوشبو کا انتخاب کریں گے تو اپنی شخصیت کا تاثر بگاڑ کر رکھ دیں گے اور اگر وہ قطعی طور پر خوشبو کا استعمال ہی نہیں کریں گے تو بھی لوگ ان سے بدکنے لگیں گے۔ قدرت نے ہمارے جسم میں ایک نئی کئی قسم کی قدرتی مہک رکھی ہے اور کچھ ماحولیاتی تاثر اور تبدیلیاں بھی فوری طور پر جسم اور کپڑےوں پر اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً آپ باورچی خانے میں کھانا پکا کر باہر آئیں تو آپ کے کپڑے واشگاف انداز میں اعلان کر دیں گے کہ آپ کہاں سے آرہی ہیں؟اسی طرح اگر کوئی شخص بہت خوشبو لگائے مگر سگریٹ نوشی بھی کرے تو اس کے کپڑے بھی چغلی کھالیں گے اور وہ کسی سے چھپا نہیں رہ سکتا۔
اگر آپ کو بخار ہے تو بدن کی قدرتی مہک تبدیل ہوتی ہے اوراگر آپ سوتے وقت لباس تبدیل کریں اور ہلکا پھلکا لہنیں تو صبح تک آپ کے بدن کی مختلف مہک ہوگی۔ اسی طرح بیڈ کور ، بیڈ ٹیٹ اور تکیے کے غلاف میں بھی آپ کے بدن اور کچھ کپڑوں کی مہک بس جائے گی لہٰذا نہائیے، دھوئیے، خوشبو کا استعمال محتاط انداز سے کیجئے اور پیار بھری میٹھی مسکان سے اپنے اطراف خوشیاں پھیلائیے۔

(درخشاں فاروقی)

اپنا تبصرہ بھیجیں