Parents

والدین بڑی نعمت

EjazNews

انور اپنے علاقے کا مشہور تاجر تھا ۔ عزت اور دولت اتنی تھی کہ جس کی ہر انسان خواہش کرتا ہے۔ انور کی بیوی ایک خطرناک بیماری کی وجہ سے فوت ہو گئی تو انور بھی تھوڑے عرصے بعد بیمار رہنے لگا جس وجہ سے وہ کہیں آنے جانے سے معذور ہو گیا تھا کیونکہ زیادہ چلنے کی وجہ سے اس کی سانس پھول جاتی تھی اور دل کی دھڑکن بھی اکھڑنے لگتی تھی۔

وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ اس کی حالت مزید بگڑتی جارہی تھی۔ آخر انور نے سوچا کہ اگر بیماری اسی طرح بڑھتی رہی تو وہ بہت جلد موت کے منہ میں چلا جائے گا۔ اس لیے اس نے پانی تمام جائیداد اپنے بیٹے منور کے نام کر دی ۔ منور اس کی بیوی اور اس کا بیٹا لاکھوں کی جائیداد پا کر بہت خوش ہوئے اور انور کا پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگے لیکن خدمت کا یہ جذبہ صرف چند ماہ خوب اچھا رہا۔ اب صورتحال یہ ہوئی کہ انور سارا دن بستر پر پڑا کھانستا رہتا تھا اور اس کا بیٹا دور سے سلام کر کے مارکیٹ چلا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انور کا بیٹا اس سے مکمل انجان ہو گیا اور انور کا علاج بند کر دیا گیا۔ گھر میں جو کھانا بچتا وہ انور کو کھانے کے لیے دے دیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  جادو کی کھیر

انور اپنے اچھے وقت کو یاد کر کے خوب روتا تھا، آخر ایک دن منور نے اپنے باپ سے کہا ’’ابا جان!آپ کی کانسی سے میری اور بچوں کی نیند خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے آج سے آپ گیراج میں چارپائی بچھا لیں۔ اس طرح آپ کے کھانسنے کا شور ہمیں پریشان نہیں کرے گا اور بچے بھی بیماری سے محفوظ رہیں گے۔ انور کو اپنے بیٹے کی یہ بات سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس نے کہا ’’بیٹا ! مجھے گیراج میں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن بیٹا مجھے ایک گرم کمبل لادو تاکہ شدید سردی سے بچ سکوں۔ منور نے اپنے بیٹے کو آواز دی جب وہ آگیا تو اس کو کہا کہ گیلری سے کوئی پرانا کمبل لے آئو اور اپنے دادا کو دے دو۔

منور کا بیٹا دوڑتا ہوا گیلری میں گیا اور ایک بہت پرانا کمبل اٹھا کر لے آیا پھر اس نے دادا کو کمبل پکڑاتے ہوئے کہا ’’دادا جان ! کمبل کو پھاڑ کر ایک حصہ کو خود رکھ لیں اور ایک حصہ مجھے واپس کر دیں ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  علی تاجر کی شامت

انور نے پوتے کی بات سنی تو بولا ’’بیٹا! آدھا کمبل مجھے سردی سے کیسے بچائے گا؟‘‘

منور نے بھی اپنے بیٹے کو ڈانٹتے ہوئے کہا ’’یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ دادا کو سارا کمبل ہی دے دو۔ منور کا بیٹا نہایت معصومیت سے بولا ’’بابا جان گیلری میں ایسا پرانا کمبل صرف ایک ہی تھا۔ اگر میں نے سارا کمبل دادا کو دے دیا تو جب آپ بوڑھے اور بیمار ہو کر گیراج میں رہو گے تو میں آپ کو کیا دوں گا؟‘‘ انور اور منور بچے کی بات سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ منور کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ شرمندہ سا ہو کر اپنے بیٹے کی طرف بڑھا اور اس کو پیار کرتے ہوئے بولا ’’بیٹا ! یہ کمبل گیلری میں چھوڑ آئو اور دادا کو نیا کمبل لا کر دے دو ۔‘‘

پھر وہ اپنے والد کے پاس گیا اور ان کے کندھوں سے پکڑ کر گھر کے اندر لاتے ہوئے بولا ’’بابا جان ! مجھے معاف کر دیں میں نے آپ سے بہت گستاخی کی ہے۔ ‘‘ انور نے اپنے بیٹے کو معاف کر دیا اور منور پوری لگن سے اپنے باپ کی خدمت کرنے لگا جس سے اس کا باپ بھی راضی ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو بے پناہ عزت اور دولت سے نوازا دیا۔
اچھے بچو!

یہ بھی پڑھیں:  حضرت یوسف علیہ السلام کا سبق آموز واقعہ

بوڑھے والدین بوجھ کی بجائے نعمت ہوتے ہیں اوران کی خدمت کرنی چاہیے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں