Imran_khan_Media

پاکستان کے میڈیا کو اتنی آزادی کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے :وزیراعظم

EjazNews

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو آج مواقع میسر ہیں، نیا آئیڈیا بکتا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وجہ سے نوجوانوں کو کبھی بھی اس طرح کے مواقع میسر نہ تھے جو آج ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایک ایسا آزاد ذہن رکھیں جو ہر وقت آگے سے آگے بڑھنے کا سوچ رہا ہو، مجھ سے کہیں زیادہ باصلاحیت کھلاڑی موجود تھے لیکن میں ان سے آگے اس لیے پہنچا کیونکہ میں اپنے اہداف مقرر کرتا تھا کہ میں پاکستان کا سب سے بہتر آل راونڈر بننا چاہتا تھا اور پھر دنیا کا سب سے بہترین آل راؤنڈر بننے کا ہدف مقرر کیا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ اللہ نے آپ کو کتنی صلاحیتیں دی ہیں اور یاد رکھیں کہ آپ جتنا بڑا سوچیں گے، آپ اتنا ہی آگے بڑھیں گے اور آپ کو اتنا ہی ملے گا جتنی آپ محنت اور جدوجہد کریں گے۔ نوجوان پاکستان کے نظریے کو فروغ دیں، جن مسلمانوں نے ہندوستان میں رہ جانا تھا انہوں نے بھی پاکستان کے لیے ووٹ دیا تھا کیونکہ نظریہ پاکستان یہ تھا کہ ہم ایک ملک بنائیں گے جو مثالی اسلامی ریاست بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کابل ایئر پور ٹ پر دھماکہ ، داعش نے ذمہ داری قبول کی اور امریکہ کیا کرنے والا ہے؟

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں انصاف ہوتا ہے تو میرٹ ہوتا ہے، عمران خان کے دوست، کزن، رشتے دار بڑے عہدوں پر نہیں ہیں کیونکہ یہاں میرٹ ہے اور اس کے بھی بہت اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا جتنا آپ سچ اور حقائق کو بیان کریں گے، اتنا ہی اونچا مرتبہ حاصل کریں گے، صحافت میں بھی یہ چیز بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک صحافی جعلی اور جھوٹی خبر چلا کر ایک مرتبہ فائدہ اٹھا لے گا لیکن وہ زیادہ عرصے تک چل نہیں سکتا، اس کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور صحافت میں سب سے اہم چیز آپ کی ساکھ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ چاہوں گا کہ آپ سچ لکھیں، تنقید کریں تو درست تنقید کریں، اگر ہماری حکومت کرپشن نہیں کررہی اور ملک کے قانون نہیں توڑ رہی تو ہمیں آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا سے کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق ان کو پڑتا ہے جو چوری کررہے ہوں کیونکہ وہ صحافت کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں، آمر قانون توڑ رہے ہوں تو وہ میڈیا اور عدلیہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبان نے افغانستان اسلامی امارات کے جھنڈے اور سرکارن نشان کا اعلان کر دیا

ان کا کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسی حکومت نہیں آئی جس نے میڈیا کو اتنی آزادی دی ہو، آپ صرف یہ نکال کر دیکھ لیں کہ تین سال میں کتنی خبریں ہمارے حق میں لگی ہیں اور کتنی ہمارے خلاف لگی ہیں، کتنے پروگرام ہمارے حق میں اور کتنے خلاف ہوئے ہیں، میں گارنٹی دیتا ہوں کہ 70 فیصد پروگرام ہمارے خلاف گئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی کہ ایک ملک کے وزیراعظم کو کہہ رہے ہیں کہ اس نے آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو زائچہ نکال کر نامزد کیا ہے، یہ ایک اہم اخبار کے فرنٹ پیج پر لکھا تھا، یہی انگلینڈ میں لکھتے تو مجھے لاکھوں ڈالرز ہتک عزت کی مد میں ملتے جو میں اپنی چیریٹی میں بھیج دیتا اور شوکت خانم کو اس سے بہت فائدہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا کو اتنی آزادی کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے کیونکہ ہمیں فکر نہیں ہے لیکن ہمیں مسئلہ جعلی خبروں اور پروپیگنڈے سے ہے، ذرا سوچیں کہ باہر کے لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے کہ ملک کا وزیر اعظم زائچہ نکال کر وزیر اعظم بناتا ہے اور اس سیاستدان کے لیے کتنی بڑی توہین ہے جو 30سال سے آزاد کشمیر میں نچلی سطح سے سیاست کرتا ہوا آ رہا ہے کہ وہ زائچہ نکال کر منتخب ہو گیا اور یہ بات ملک کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرپشن میں 32ویں درجے سے پاکستان 31ویں درجے پر آگیا:ٹرانسپیرنسی

انہوں نے کہا کہ پہلے سرکاری میڈیا کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لوگوں کے اربوں روپے چوری کر کے باہر لے گئے اور ان کا سارا مقصد یہی ہوتا تھا اور وہ میڈیا کو رشوت دیتے تھے کہ کسی طرح ان کی چوری چھپ جائے جبکہ عدلیہ میں بھی لوگوں کو رشوت دیتے تھے تاکہ ان کے کیسز نہ سنیں جائیں کیونکہ ان کے پاس چھپانے کے لیے بہت کچھ تھا۔

انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ نئے آئیڈیا کا سوچیں کیونکہ انسانی تاریخ میں نوجوانوں کو کبھی اتنے وسائل میسر نہ تھے جتنے آج ہیں، 25، 25سال کے لڑکے ارب پتی بن گئے اور انہوں نے اپنے کاروبار شروع کردئیے ہیں لہٰذا ہماری حکومت بھی آپ کو پوری طرح سہولیات فراہم کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں