Flood_village_Old_man

لالچ بری عادت

EjazNews

تیز بارشوں کے بعد پانی سیلاب کی صورت میں دیہات اور شہر کو روندتا ہوا گزر رہا تھا۔ پانی کے راستے میں جو چیز بھی آتی تھی وہ اس کو بہا کر ساتھ لے جارہا تھا جس سے مالی نقصان کے علاوہ ج انی نقصان بھی ہو رہا تھا۔ سیلاب سے متاثرہ ایک گائوں میں نعمت نام کا آدمی رہتا تھا جس کا گھر سیلاب کے ریلے میں بہہ گیا تھا۔ نعمت بہت غریب آدمی تھا۔ اس نے پانی جگہ پر دوبارہ مٹی کا گھر بنانے کا سوچا اور گھر کے بچے کھچے ملبے سے گھر بنانے لگ گیا۔ وہ غربت کی وجہ سے خود ہی گھر بنا رہا تھا کیونکہ کسی کو مزدوری دینے کے لیے اس کے پاس رقم نہیں تھی۔ نعمت گھر کی چاردیواری بنا کر اداس بیٹھا تھا کیوکہ چھت بنانے کے لیے اس کے پاس پھوٹی کوڑ ی بھی نہیں تھی۔ ابھی وہ گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ ایک امیر آدمی وہاں سے گزرا ۔ اس نے نعمت کو بلا کر اداسی کی وجہ پوچھی تو اس نے روتے ہوئے کہا ’’جناب ! پانی کے سیلاب نے میراگھر گرادیا ہے۔ میں اس کو تعمیر کر رہا تھا کہ دوبارہ رہنے کے قابل ہو جائے لیکن اس کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملا نصیر الدین کا قرض

امیر آدمیکو نعمت کی بات سن کر بہت دکھ ہوا اور اس نے کہا کہ چھت ڈالنے کے لیے کتنے پیسوں کی ضرورت ہوگی؟۔ نعمت نے کہا جناب! گھاس پھوس کی چھت اور لکڑی کے شتہیر کے لیے مجھے کم از کم پچیس ہزار روپے چاہیے۔ امیرآدمی نے ہاتھی میں پکڑا تھیلا کھولا اور پچاس ہزار گن کر اس کو پکڑاتے ہوئے کہا گھاس پھوس کی چھت ڈالنے کی بجائے پکی چھت بنوا لو۔ گھاس پھوس کی چھت سے بارش کا پانی ٹپکے گا۔ اس لیے تم پکی چھت ہی بنوالو ۔ نعمت پچاس ہزار روپے لے کر بہت حیران ہوا اور امیر آدمی کو دعائیں دینے لگا۔

امیر آدمی اس کو رقم دے کر آگے بڑھ گیا۔ اس کے جانے کے بعد نعمت کو خیال آیا کہ یہ آدمی بہت سخی اور خدا ترس ہے اگر میں اس کو پچیس ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپے کہتا تو مجھے تین چار لاکھ تو ضرور مل جاتے۔ یہ سوچ کر نعمت امیر آدمی کے پیچھے بھاگا اورا س کو روکتے ہوئے بولا۔

یہ بھی پڑھیں:  پیارے بچو کیا آپ جانتے ہیں شور کیا ہوتا ہے؟

جناب! اللہ کریم آپ کو بے شمار رزق عطا فرمائے اور آپ اسی طرح ضرورت مندوں کی مدد کرتے رہیں۔ میں نے گھر کی چھت بنانے کے لیے جو خرچ بتایا تھا وہ تو میں نے اندازے سے بتایا تھا اب میں نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ گھاس پوس کی چھت کے لیے پچاس اور پکی چھت کے لیے کم از کم ایک لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

امیر آدمی نے مسکراتے ہوئے نعمت سے پوچھا ، میں نے جو پچاس ہزار روپے تم کو دئیے تھے وہ کہاں ہیں؟۔نعمت نے خوشی خوشی پچاس ہزاراس کو دیتے ہوئے کہا جناب ! یہ لیجئے یہ رہے پچاس ہزار روپے۔ امیر آدمی نے پیسے پکڑے اور ہاتھ میں پکڑے تھیلے میں رکھتے ہوئے بولا۔

محترم ! مجھ میں جتنی توفیق تھ یمیں نے اس سے زیادہ آپ کو دے دئیے تھے۔ اس سے زیادہ خرچ دینا میرے لیے ممکن نہیں ۔ آپ جائیں اور کسی سے اپنا مطلوبہ خرچ مانگ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک نو عمر شکاری کی رحم دلی

نعمت یہ سن کر بہت پچھتایا اور گھبرا کر پچاس ہزار روپے ہی رکھنے کا کہا مگر امیرآدمی نعمت کی لالچ کو جان چکا تھا۔ نعمت نے اس کی بہت منت سماجت کی کہ وہ پچاس ہزا روپے می اپنی چھت بنالے گا مگر امیر آدمی نے اس کی کوئی بات نہ سنی اور آگے بڑھ گیا۔

نعمت نے گھر واپس آتے ہوئے سوچا کہ اس میں امیر آدمی کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ اس کو یہ لالچ کی سزا ملی ہے۔

اچھے بچو!
لالچ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں