democracy

جمہوریت کا عالمی دن، پاکستان اور بھارت کس مقام پر کھڑے ہیں؟

EjazNews

15ستمبر پوری دنیا میں جمہوریت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا مقصد ہے کہ جمہوریت کی افادیت کو اجاگر کیا جائے اور آمریت کیخلاف جدوجہد پر زور دیا جائے۔

اس دن کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جمہوریت کی راہ میںحائل رکاوٹوں کو بھی کسی طرح سے دور کیا جائے۔

2018ءسے بعد کے تین سال پاکستانی جمہوریت کیلئے خوش کن ثابت ہوئے ہیں۔کیونکہ ان تین سالوں کے دوران پاکستان میں جمہوریت میں بہتری آئی اور جمہوریت پروان چڑھنا شروع ہوئی۔لیکن اس کے برعکس اگر ہم اپنے ہمسائے بھارت پر نظر دوڑائیں تو وہاں بالکل مختلف صورتحال ہے ۔ بھارت اس وقت جمہوریت میں زوال کی جانب گامزن ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا کی 35فیصد آبادی آمرانہ تسلط کے تحت زندگی کے دن پوری کر رہی ہے۔

اگر درجہ بندی کا یہاں پر ذکر کیا جائے تو پاکستان جمہوریت کے معاملے میں بہتر درجوں کی طرف گامزن ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے تین برسوں میں پاکستان 7درجے بہتری کی جانب گیا ہے۔ یعنی پہلے پاکستان کی پوزیشن 112تھی اور اب 105پر آگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چینی قونصلیٹ حملے میں ملوث اسلم اچھو کا نئی دہلی میں علاج کرایا گیا:معاون خصوصی معید یوسف

بھارت دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت کے نام سے مشہور ہے۔ اگر ہم اسے سب سے بڑی جمہوریت مان بھی لیں تو اس وقت سب سے بڑی جمہوریت مسلسل زوال کی طرف گامزن ہے۔جہاں اقلیتوں کیخلاف حکومتی سطح پر اقدامات کیے جارہے ہیں اور خاص کر مسلمانوں کو امتیازی قوانین کا سامنا بھی ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت میں میڈیا کیخلاف بھی سخت معاملات ہیں۔

مغربی جریدے اکنامسٹ اپنی تحریر میں لکھتا ہے کہ 21ویں صدی کے اس دور میں بھی دنیا بھر کی 35فیصد آبادی آج بھی آمرانہ تسلط کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔جریدے کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک میں رہنے والے انسان بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں ان کیلئے زندگی انتہائی مشکل ہے۔

اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ دنیا کی صرف 8فیصد آبادی ایسی ہے جو اپنے جمہوری حقوق سے آگا ہ ہے اور ان کیلئے جستجو کرتی ہے تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بلاول بھٹو زرداری کی میڈیا سے گفتگو

جمہوریت کی عالمی درجہ بندی کی طرف دیکھا جائے توشمالی کوریا دنیا کا بدترین جمہوری ملک ہے جسے آخری نمبر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں