UAE-ISRAEL

متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے گہرے ہوتے تعلقات ،فلسطین؟

EjazNews

متحدہ عرب امارات میں ڈیجیٹل کمپنیوں کے 100 رہنما اور دبئی چیمبر آف ڈیجیٹل اکانومی ایڈوائزری کونسل کے ممبرکی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

متحدہ عرب امارات ڈیجیٹل دنیا کی اہمیت کو جاننے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس طرف اپنی پیش قدمی بڑھا رہا ہے۔اس ڈیجیٹل اکانومی میں خود کو بڑے پلیئر کے طور پر متحدہ عرب امارات پیش کرنے کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے ۔ لیکن اکانومی کی اس دوڑ میں لگ رہا ہے کہ وہ بہت آگے نکلنے کیلئے شاید ان راہوں پر گامزن ہورہا ہے جو کانٹے دار بھی ہیں اور خار دار بھی ۔

متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو مزید بڑھانے کے کا خواہش مند ہے اور یہ تعلقات بھی اکانومی کیلئے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق بلومبرگ نے معاشی امور کے وزیر عبداللہ بن طوق کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تعلقات استوار ہونے کے بعد سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 60 ابتدائی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سمندر میں تنکوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی

اماراتی وزیر نے کہا تھا کہ وہ اگلے دو برسوں میں مزید معاہدوں پر دستخط کی توقع کر رہے ہیں۔

Dubai_Media_cell

اماراتی وزیر عبداللہ بن طوق نے امریکہ سے ایک ورچوئل کانفرس سے خطاب میں کہا کہ ہمارے درمیان 600 سے 700 ملین ڈالر کی باہمی تجارت ہو رہی ہے، ہمارے پاس اربوں ڈالر کے فنڈز ہیں جس کا اعلان دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ طور پر کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اگلی دہائی میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی معاشی سرگرمی ممکن بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

اسرائیل کا وجود ہی عربوں کے سینے میں خنجر گھونپ کر وجود میں لایا گیا تھا۔ لیکن عرب یہ بات بھولنا شروع ہو گئے ہیں اور پیسے بنانے کیلئے شاید وہ اسرائیل کو اپنے قریبی دوست بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ دوستی ایسی ہی ہے جیسی پاکستان اوربھارت کی ہوتی ہے۔ بھارت نے پاکستان کا وجود کبھی برداشت نہیں کیا اور وہ جب جہاں پر موقع ملتا ہے پاکستان کیخلاف اپنے اقدامات کرتا ہے ۔اسی طرح اسرائیل بھارت سے کروڑوں گنا آگے کی سوچ بھی رکھتا ہے اور ٹیکنالوجی میں بھی بھارت سے کئی سو سال آگے ہے۔ اسرائیل کس طرح سے اکانومک طور پر بہتر ہوئے عرب ملکوں کو تباہ کر سکتا ہے اس کا سوچ کر عجیب و غریب خیالات ذہن میں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  یونان میں پناہ کے قوانین مزید سخت

بہر کیف اپنے ملک سے متعلق فیصلہ کرنے کامکمل اختیار ان کے پاس ہے یہ اختیار ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ فلسطینیوں کے پاس تو پہلے بھی کچھ نہیں آتا وہ آج کے جدید ترین دور میں بھی غلامی سے بدتر زندگی گزاررہے ہیں ۔ اب عرب ملک بھی ایک ایک کرکے ان سے منہ موڑ رہے ہیں۔ ان کی آواز اٹھانے والا سلطنت عثمانیہ کا ملک ترکی اور سلطنت عثمانیہ سے دل و جان سے محبت کرنے والا پاکستان ہی شاید نہ رہ جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں