site-of-badr

جنگ بدر میں شریک صحابہ کرامؓ (حصہ نہم)

EjazNews

51۔سعد بن ربیع الانصاری الخزرجی ؓ
سعد بن ربیع بن عمرو بن ابی زبیر بن مالک بن امرءالقیس بن مالک الاغر بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث عقبی بھی ہیں اور بدری بھی نبی ﷺ کے دو ازدہ نقیبوں میں سے ہیں۔ ایام جاہلیت میں بھی کاتب تھے۔ عقبہ کی بیعت اولیٰ و ثانیہ میں حاضر۔ بدر میں شامل تھے۔ احد میں شہید ہوئے۔ غزوہ احد کا ذکر ہے کہ جنگ کے خاتمہ پر نبی ﷺنے فرمایا کہ سعد کی خبر کون لائے گا۔ میں نے دیکھا تھا کہ نیزہ برداروں کا ایک گروہ اسے گھیر ے ہوئے ہے۔ ابی بن کعب خبر لانے کو اٹھے۔ دیکھا کہ شہیدوں کے ڈھیر میں پڑے ہیں۔ ابھی سانس چلتی ہے اور آنکھ چمکتی ہے مجھے دیکھ کر کہا۔ کیا دیکھتے ہو۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تمہاری خبر کو بھیجا ہے سعد نے کہا حضور سے میرا سلام عرض کردینا اور کہہ دینا کہ مجھے نیزہ کے بارہ زخم آئے ہیں مگر میں نے بھی اپنے حملہ آور کو جانے نہیں دیا۔
قوم کو بھی میرا سلام کہہ دینا اور کہنا۔ اللہ۔ اللہ۔ وہ عہد نہ بھو لجائیں جو انہوں نے نبی ﷺ سے شب عقبہ میں کیا تھا۔ وہ یہ سمجھ لیں کہ اگر تم میں سے ایک شخص کی زندگی میں بھی رسول اللہ ﷺ کو ذرا سیآنچ لگی تو تم اللہ کے سامنے کچھ جواب نہ دے سکو گے۔
نبیﷺ نے یہ سنا تو فرمایا اللہ تعالیٰ سعد پر رحم فرمائے زندگی اور موت اللہ اور رسول کی خیر خواہی میں پوری کر گیا۔
یہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اولاد کو سب سے پہلے ترک عصبہ شرعی ملا ۔ ان دو دختروں کو ۳۲حصہ ملاتھا۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی آفات ، وبائی امراض کے تناظر میں رزق حلال کی اہمیت

52۔سعد بن زید زرقی الانصاریؓ
سعد بن زید بن فاکہ بن زید بن خلدہ بن عامر بن زریق۔ بدر میں حاضر ہوئے۔ رضی اللہ عنہ

53۔سعد بن سہل الانصاریؓ
سعد بن بہل بن عبد الاشہل بن حارثہ بن دینار بن النجار ۔ بدر میں حاضر ہوئے۔ رضی اللہ عنہ

54۔سعد بن عبید اللانصاری الاوسیؓ
سعد بن عبید بن نعمان بن قیس بن زید بن امیہ بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف ابو زید ان کی کنیت ہے۔ بدر میں حاضر ہوئے اور `15ھ کو بعمیر 64سال جنگ قادسیہ میں شہید ہوئے۔
یہ سعد القاری کے نام سے معروف ہیں اوران بزرگوں میں سے ہیں جنہوں نے عہد نبوی میں قرآن مجید کو حفظ کر لیا تھا۔ ان کے فرزند عمیر بن سعد کو فاروق اعظم نے شام کا والی بھی بنا دیا تھا۔ رضی اللہ عنہما۔

55۔سعد مولیٰ عتبہ بن غزوان ؓ
غزوہ بدر میں اپنے مولیٰ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

56۔سعد بن عثمان بن خلدہ الانصاری الزرقیؓ
۔سعد بن عثمان بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق الانصاری
ابو عبادہ کنیت ہے بدر میں حاضر ہوئے۔ یہ ان تین اشخاص میں سے ہیں جو جنگ احد میں بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ دوسرا انکا بھائی عقبہ بن عثمان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کو قرآن میں نازل فرمایا۔ رضی اللہ عنہ

57۔سعد بن معاذ الانصاری سید الاوس ؓ
سعد بن معاذ بن نعمان بن امرءالقیس بن زید بن عبدالاشہل بن جشم بن حارث بن خزرج بن بنیت (عمر) بن مالک بن اوس۔
عقبہ اول و ثانیہ کے درمیان (۱۱نبوت)کو مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے۔ بدر۔ احد۔ خندق میں حاضر ہوئے۔ جنگ خندق میں ان کے ایک تیر گھٹنے کی آنکھ پر لگا تھا۔ رگ کٹ گئی۔ جب خون بند کرتے تو ورم ہو جاتا۔
نبی ﷺ نے ان کا خیمہ مسجد نبوی میں لگوا دیا تھا خود تیمار داری فرمایا کرتے ۔ جنگ خندق کے بعد بنو قریظہ کا غزوہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے دعا مانگی کہ الٰہی جب تک میں بنی قریظہ کا فیصلہ نہ دیکھ لوں اس وقت تک مجھے موت نہآئے۔ خون بند ہوگیا حتیٰ کہ ایک قطرہ بھی نہ نکلا۔
اسی اثنا میں بنو قریظہ نے ان کو اپنا حکم تسلیم کرلی اور نبی ﷺ نے بھی ان کو حکم مان لیا۔ قبل از اسلام اوس اور بنو قریظہ کا اتحاد تھا۔ اور ان یہودیوں کا یہ خیال تھا کہ اس خاندانی اتحاد کی بنیاد پر سعد بن معاذ ہماری ہی اعانت کریں گے۔
سعد بن معاذ ؓ نے فیصلہ یہ کیا کہ جنگ آوروں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی زن و بچہ کو اسیر کر کے ان کی قیمت سے مسلمانوں کی حالت درست بنائی جائے۔
نبی ﷺ نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا ”اصبت حکم اللہ فیھم“ تم نے اس حکم کے مطابق کہا جو اللہ تعالیٰ کا ان کے حق میں تھا۔
اس فیصلہ کے بعد پھرزخم سے خون جاری ہو گیا اور اسی عارضہ میں جنگ خندق سے ایک ماہ بعد فائز بہ شہادت ہوئے۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ سعد کیلئے عرض الرحمن بھی جھوم گیا۔
فرمایا کہ ان کے جنازہ میں ستر ہزار فرشتے ایسے شامل ہوئے جو کبھی زمین پر نہ اترے تھے۔
حضر ت سعد بڑے کڑریل لانبے جوان تھے مگر جنازہ میں ذرا بوجھ نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنازہ کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔
ایک بار حضر ت سعد نے فرمایا کہ میں تو معمولی شخص ہوں۔ لیکن تین باتیں مجھے ضر ور حاضل ہیں۔
۱۔ جب نبی ﷺ کچھ فرماتے تو مجھے یقین ہو جاتا کہ ٹھیک منجانب اللہ فرما رہے ہیں۔
۲۔ نماز میں اول سے آخر تک مجھے کوئی وسوسہ پیدا نہیں ہوتا۔
۳۔ جب کسی جنازہ کیساتھ جاتا ہوں تو موت اور مرنے والے کے سوا اور کوئی خیال میرے دل میں واپسی تک پیدا نہیں ہوتا۔
سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ یہ خسلتیں انبیاءکی سی ہیں۔
ان کی والدہ کبشہ بنت رافع بھی صحابیہ ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما

یہ بھی پڑھیں:  ہمسائے کی خدمت

58۔سعید بن سہیل الانصاری الاشہلی رضی اللہ عنہ
سعید بن سہل بن مالک بن کعب بن عبد الاشہل بن حارثہ بن دینار
ابن اسحق اور ابو محشر نے ان کو بدر واحد میں حاضر ہونیوالا بتلایا ہے ابو محشر ان کی کنیت ہے۔ رضی اللہ عنہ

59۔سفیان بن بشرؓ
انصاری ہیں بدر میں حاضر ہوئے۔ رضی اللہ عنہ

60۔سلمہ بن اسلام الانصاری الحارثیؓ
سلمہ بن اسلم بن حریش بن عدی بن قجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عدی بن مالک بن اوس بدر واحد اور دیگر جملہ مشاہد میں نبی ﷺ کے ہمرکاب رہے۔
14ھ کو جسر ابو عبیدہ والی جنگ میں شہید ہوئے۔ عمر بوقت شہادت بعض نے38بعض نے 63سال درج کی ہے۔ جنگ بدر میں سائب بن عبید اور نعمان بن عمرو کو انہی نے اسیر کیا تھا۔ رضی اللہ عنہ

اپنا تبصرہ بھیجیں