Barbar

سمجھداری

EjazNews

ظہیر حجام اپنے علاقے کا مشہور حجام تھا۔ نام تو اس کا ظہیر تھا مگر اس کے پیشے کی وجہ سے اس کا نام ظہیر حجام سب میں مشہور تھا۔ ظہیر مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں کے بال کاٹتا تھاا ور کھانے بھی پکاتا تھا۔ ایک روز ظہیر کو اسلام نگر سے وہاں کے چودھری نے بلایا کہ وہ اس کے پاس آئے اور اس کی حجامت کر دے۔ ظہیر نے چودھری کا پیغام سنا تو جانے کی تیاری کرنے لگا ۔ اس نے اپنا تھیلا اٹھایا اور ضروری سامان لے کر اسلام نگر کی طرف چل پڑا۔ظہیر حجام پیدل چلتے ہوئے جارہا تھا کہ اس نے سوچا کہ ہونے کے لیے جنگل میں سے گزر جائے۔ کیونکہ سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔ یہ جنگل بہت خطرناک جنگلی جانوروں سے بھرا ہوا تھا۔جس کا اندازہ اس وقت ہوا جب وہ آدھا فاصلہ طے کر چکا تھا۔ ظہیر کا دل خوف سے خوب دھڑکنے لگ گیا تھا۔ اسے کم فاصلہ طے کرنے کی ترکیب پر غصہ آنے لگا۔ اگر وہ لمبا سفر طے کر کے چودھری صاحب کے پاس جاتا تو اس خطرناک جنگل سے بچ جاتا مگر اب وہ واپس بھی نہیں جاسکتا تھا اور آگے بڑھنے کی ہمت کم ہو رہی تھی۔ ظہیر حجام نے کندھے پر لٹکایا تھیلا ہاتھ میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے چلتا رہا۔ ابھی وہ مزید آگے چلا تھا کہ اسے جھاڑیوں میں کسی جانور کے چلنے کی آوازآئی۔ ظہیر کا دل تیزی سے دھڑکنے لگ گیا۔ اس سے پلے وہ کوئی احتیاطی حربہ استعمال کرتا ایک شیر جھاڑیوں میں سے نکل کر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  گنجا لنگور

شیر شکل سے ہی بہت خونخوار اور خطرناک نظر آرہا تھا۔ اس اچانک آفت کے آنے پر ظہیر حجام نے اپنی تمام قوت کو یکجا کیا اور نہایت رعب دار انداز میں بولا۔ ار شیر! تم ادھر گھوم رہے ہو؟ میں نے تم کو پورے جنگل میں ڈھونڈا مگر تم یہاں مزے سے سوئے ہوئے تھے۔ میں کافی دیر سے تم کو تلاش کر رہا تھا۔ شیر ، ظہیر حجام کے رعب دار لہجے سے بہت گھبرایا اور بولا اے ابن آدم ! تم مجھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے؟ میں تو یہاں اپنی نیند پوری کر رہا تھا۔ میں نے ایسا کونسا جرم کیا ہے جو تم کو میری تلاش کرناپڑی؟ ۔ ظہیر حجام نے ایک بار پھر رعب دار انداز میں کہا تم کو بادشاہ نے بلایا ہے ۔۔ انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں دو شیروں کو پکڑکر فوراً ان کے سامنے پیش کروں۔ میں نے ایک شیر پہلے پکڑ لیا ہے وہ بہت آسانی سے مل گیا تھا۔ اب تم دوسرے شیر ہو۔ میں نے بادشاہ سلامت کا حکم پورا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مٹھو واپس نہیں آیا

شیر نے جب یہ سنا تو فوراً گھبرا گیا اور بولا تم مجھ کو مت پکڑو۔ میں تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا۔ میں بے قصور ہوں۔ میں اس جنگل کا بادشاہ ہوں۔ مگر تمہارے بادشاہ سے بہت ڈرتا ہوں۔ تمہارا بادشاہ ظالم اور جابر کے سخت خلافت ہے۔ ظہیر حجام نے شیر کی حالت پتلی ہوتے دیکھی تو فوراً خود کو مزید رعب دار کرتے ہوئے بولا ۔ اب یہ بات ناممکن ہے۔ میں تم کو ضرور پکڑوں گا۔ شیر نے اسے کہا تم نے پہلا شیر کہاں قید کیا ہے ؟۔ ظہیر نے اپنے بستے سے ایک بڑا آئینہ باہر نکالا اور شیر کے سامنے لاتے ہوئے بولا یہ ہے پہلا شیر۔ شیر نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو اسے بھی شیر سمجھا جو قید ہو چکا تھا۔ شیر نے آئو دیکھا نہ تائو اور فوراً جنگل میں بھاگ گیا۔ شیر اتنا خوف زدہ ہوا تھا کہ اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اور ناک کی سیدھ میں بھاگتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  پتھر کی مورتوں والا شہر

ظہیر حجام نے اس آفت سے جان چھٹنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی بروقت عقل مندی پر خود ہی خوب داد دی۔ ظہیر حجام بیوقوف شیر کی بیوقوفی پر خوب ہنسا اور اپنی منزل کی طرف چل پڑا۔

اچھے بچو! مصیبت کے وقت فوراً عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصیبت ٹل جاتی ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں