site-of-badr

جنگ بدر میں شریک صحابہ کرامؓ (حصہ ہشتم)

EjazNews

۳۱۔ربیع بن ایاسؓ
بن عمرو بن غنم بن اُمیہ بن لوذان الانصاری۔ خود معہ اپنے بھائی کے حاضر بدر تھے۔ رضی اللہ عنہ

۳۲۔رفاعہ بن حارث بن رفاعہؓ
بنو عفراء سے ہیں ابن اسحق نے ان کا شمار بدریئین میں کیا۔ واقدی کو انکار ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۳۳۔رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ
رفاعہ بن رافع بن مالک بن العجلان بن عمرو بن عامر بن زریق الانصاری الزرقی۔ ابو معاذ کنیت ابی بن سلول کے نواسہ ہیں ۔ جنگ بدر میں معہ اپنے ہر دو برادران خلا دو مالک کے شریک ہوئے۔
احھی ہمرکاب نبوی تھےواقعہ جمل و صفین میں حضرت علی مرتضیٰ کی جانب تھے امارت معاویہ کے ابتدائی ایام میں وفات پائی۔

۳۴۔ ابن شہاب و ابن ہشام و خلیفہ نے ان کانام بشیر لکھا ہے مگر امام احمد و ابن معین و ابن اسحق سے ثابت ہے کہ ان کا نام رفاعہ تھا۔ یہ انصاری اوسی ہیں سلسلہ نسب یہ ہے۔
رفاعہ بن عبدللتدر بن زبیر بن زید بن امیہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن مالک بن الاوس۔ عقبہ میں حاضر تھے اور بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے۔ جنگ بدر میں حضور کے ساتھ نکلے تھے۔ راہ ہی سے حضور نے ان کو مدینہ کا نگران مقرر فرما کر واپس کر دیا تھا اور غنیمت میں حصہ عطا فرمایا تھا۔ غزوہ سویق میں بھی ان کو نگرانی مدینہ کا عہدہ دیا گیا تھا۔ احد اور جملہ مشاہد مابعد میں بھ یمتلزم رکاب نبوی رہے۔ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے۔ پھر ان کو اپنے اس ترک سعادت کا خیال پیدا ہوا تو خود کو مضبوط زنجیر کے ساتھ ستون مسجد سے بندھوا دیا۔ ان کے بیٹے نماز اور ضروریات بشری کے وقت ان کو کھول دیتے اور پھر باندھ دیتے سات دن بھوکے پیاسے اس طرح کاٹے اسی عرصہ میں شنوائی کم ہو گئی بینائی کو بھی صدمہ پہنچا۔ ایک روز بوجہ ضعف غش کھا کر گر پڑے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لیاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو رہائی بخشی ۔ یہ روایت اس روایت سے زیادہ معتبر و صحیح ہے جس میں بنوقریظہ کے اشارہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
قبولیت توبہ کے شکرانہ میں کل مال اور مکان صدقہ کرنا چاہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ثلث مال کا فی ہے۔
غزوہ فتح مکہ میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف کا نشان ان کے ہاتھ میں تھا۔ امیر المومنین حضرت علی کے ایام خلافت میں انتقال کیا۔ رضی اللہ عنہ۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ فرشتوں کے جلوس میں میدان محشر میں جلوہ فرما ہوں گے

۳۵۔رفاعہ بن عمرو بن زید الخزرجی الانصاریؓ
بیعت عقبہ میں داخل اور بدر میں شامل تھے۔ غزوہ احد میں شہید ہوئے ان کی کنیت ابو الولید ہے مگر یہ ابن ابی الولید کے نام سے اس لئے معروف ہیں کہ ان کے دادا زید بن عمرو کی کنیت بھی ابو الولید تھی۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۳۶۔رفاعہ بن عمرو الجہنیؓ
ابو معشر کہتے ہیں کہ بدر واحد میں حاضر تھے ابن اسحٰق و واقدی نے ان کے نام کی تصحیح و دیعہ بن عمرو کی ہے۔ رضی اللہ عنہ

۳۷۔زید بن اسلم بن ثعلبہ بن عدی العجلانیؓ
یہ قبیلہ بلی میں بھی رہے اس لئے بلوی بھی کہتے ہیں پھر بنو عمرو بن عوف کے حلیف بن گئے تھے اس لئے انصاری ہیں۔ ثابت بن اکرم ان کے چچا ہیں۔
موسیٰ بن عقبہ ن ے ان کو بدرئیین میں شمار کیا ہے جنگ احد میں بھی حاضر تھے۔ رضی اللہ عنہ۔

۳۸۔زید بن دثنہ الانصاری البیاضی ؓ
زید دثنہ بن معاویہ بن عبید بن عامر بن بیاضہ۔ بدر واحد میں شریک ہوئے اور یوم الرجیع۔ میں خبیب بن عدی کے ساتھ کفار کی قید میں اسیر ہوئے۔ صفوان بن امیہ نے ان کو مکہ میں خریدا اور قتل کر دیا ۔ یہ واقعہ ۳ھ کا ہے۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

۳۹۔ زید بن سہل الانصاریؓ
زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید بن مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ۔ الانصاری النجاری ۔
ان کی کنیت ابو طلحہ ہے اور زیادہ کنیت ہی سے مشہور ہیں۔ انس بن مالک کی والدہ ام سلیم بنت ملحان انہی کے نکاح میں تھیں۔ ایک روز انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ ’’انفرو اخفافا و ثقالا۔ جہاد کرو خواہ سامان ہو یا نہ ہو پڑھ کر کہا یا اللہ اس کا مطلب تو معلوم نہیں۔ البتہ جوانی و پیری تو جہاد ہی میں پوری کی ہے۔ پھر اپنی اولاد سے کہا ۔ کہ میں جہاد کو جائونگا ۔ سامان درست کر دو۔ وہ بولا باواجی نبی ﷺ کے عہد میں نی عہد صدیی میں نیز عہد فاروقی میں جہاد کر چکے ہو۔ اب آرام کرو۔ بولے نہیں آخر بحری فوج میں داخل ہوئے اور جہاز ہی پر جان دی ان کی لاش کو سات یوم جہاز پر بانتظام جزیرہ رکھا گیا۔ لاش میں ذرا تغیر نہ آیا تھا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے بعد چالیس سال تک متواتر روزے رکھے۔
مدائنی نے سنہ وفات ۵۱ھ تحریر کیا ہے۔ رضی اللہ عنہ

یہ بھی پڑھیں:  رمضان المبارک کی آمد پر رسول اللہ ﷺکا خطبہ

۴۰۔ زید بن عاصم المازنی الانصاری ؓ
بیعت عقبہ میں شامل تھے ۔ بدر میں حاضر ۔ غزوہ احد میں خود اور ان کی زوجہ ام عمارہ اور ان کے ہر دو فرزند حبیب و عبد اللہ نبرد آزما ہوئے۔ ان کی کنیت بظن غالب ابو حسن لکھی ہوئی ہے۔ رضی اللہ عنہ و عن اہلیہ بیتہ۔

۴۱۔زید بن المز بن الانصاری البیاضیؓ
بدرو احد میں حاضر تھ ے۔ یوم الرجیع کو خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کفار کے ہاتھو ں گرفتار ہو گئے صفوان بن امیہ نے ان کو خریدا اور قتل کیا تھا۔ واقدی نے ان کا نام بجائے زید کے یزید لکھا ہے۔
مواخات مہاجرین و انصار میں مسطح بن اثاثہ ان کے بھائی بنائےگئے تھے۔ رضی اللہ عنہ

۴۲۔زید بن ودیعہ الانصاریؓ
یہ بنو عوف بن خزرج میں سے ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے ان کا صرف بدر میں شامل ہونا تحریر کیا ہے۔ مگر دیگر مؤرخین نے ان کو بدر واحد کے حاضرین میں درج کیا ہے ۔ رضی اللہ عنہ۔

۴۳۔زیاد بن لبید بن ثعلبہ انصاری البیاضیؓ
یہ بنو بیاضہ بن عامر بن زریق سے ہیں۔ ابو عبد اللہ کنیت۔ یہ اسلام کے بعد مکہ معظمہ میں نبی ﷺکے پاس آرہے تھے۔پھر جب حضور نے ہجرت کی تو انہوں نے بھی ہجرت کی۔ لہٰذا ان کو مہاجری انصاری کہاجاتا تھا۔ عقبہ۔ بدر۔ احد۔ خندق اور دیگر جملہ مشاہد میں ہمرکاب نبوی رہے۔
نبی ﷺ نے ان کو حاکم حضر موت مقرر فرمایا تھا۔ آغاز حکومت معاویہ میں انتقال فرمایا۔رضی اللہ عنہ

۴۴۔سالم بن عمیر الانصاریؓ
سالم بن عمیر بن ثابت بن نعمان بن امیہ بن امرء القیس بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف الانصاری۔
بدر ۔ احد۔ خندق اور دیگر جملہ مشاہد میں ملتزم رکاب نبوی رہے۔ سلطنت معاویہ کے عہد میں وفات پائی یہ ان بزرگوں میں سے ہیں جکے لئے مشہور تھے۔ رضی اللہ عنہ۔

یہ بھی پڑھیں:  شب قدر(ایک رات جو ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے)

۴۵۔ سبیع بن قیس بن عیثہ الانصاری الخزرجی ؓ
بدر میں شامل تھے ان کے بھائی بن قیس بھی بدری ہیں۔ احد میں شامل ہوئے ۔ رضی اللہ عنہ

۴۶۔ سراقہ بن عمرو بن عطیۃ الانصاریؓ
سراقہ بن عمرو بن عطیہ بن خنساء بن بذول بن عمرو بن غنم بن مالک بن النجار۔ الانصاری۔
بدر احد خندق۔ حدیبیہ، خیبر اور عمرۃ القضاء میں ہمرکات مصطفوی تھے۔یوم موتہ کو شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ

۴۷۔ سفیان بن بشر بن حارث الانصاری ؓ
ان کے والد کو چند مورخین نے بشر (باوشین کیساتھ) اور چند مؤرخین نے نون و سین کیساتھ لکھا ہے۔ بدر واحد میں خدمت نبوی میں حاضر تھے۔ رضی اللہ عنہ

۴۸۔ سراقہ بن کعب الانصاریؓ
سراقہ کعب بن عمرو بن عبد العزیٰ بد عوف بن غنم بن مالک بن النجار۔
بدر۔احد اور دیگر جملہ مشاہد میں حاضر ہوئے اور سلطنت امیر معاویہ میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ

۴۹۔ سعد بن خولی الانصاریؓ
یہ حاطب بن ابی بلتعہ کے غلام آزاد کردہ تھے۔ کوئی ان کو مذحجی ۔ کوئی کلبی۔ کوئی فارس النسل بیان کرتا ہے بدر میں شامل تھے۔ یہیں شہید ہوئے بعض نے ان کی شہادت غزوہ احد کی بیان کی ہے۔ رضی اللہ عنہ

۵۰۔ سعد بن خثیمہ الانصاری الاوسیؓ
بنو عوف بن عمر میں سے ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر پر چلنے کیلئے فرمایا۔ تو ان کے والد نے کہا کہ میں جائونگا اور تم گھر پر ٹھہرو۔ سعد بولے باوا جان یہ بہشت کا معاملہ ہے اس لئے مجھے ہی جانے دیجئے۔ کیونکر میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ میں مجھے شہادت ضرور نصیب ہو جائیگی۔ آخر قرعہ اندازی ہوئی قرعہ میں بھی ان کا نام نکل آیا۔ خوشی خوشی گئے۔ شہادت پاکر خوشی خوشی جنت کو سدھارے یہ عقبی بھی ہیں اور بدری بھی۔ ابو خثیمہ یا ابو عبد اللہ کنیت کرتے ہیں ان کے والد سال آئندہ جنگ احد میں فائز بہ شہادت ہوئے ۔ رضی اللہ عنہما۔

اپنا تبصرہ بھیجیں