ali_gilani

شہید کی قبر بھی انڈین فوج کو ڈرا رہی ہے

EjazNews

سید علی گیلانی ایک ہفتے قبل اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے تھے۔ ان کی تدفین اورقبر کے معاملے میں جس طرح کے ظلم و ستم انڈیا نے اٹھائے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بندوق کے زور پر کشمیریوں کو کس طرح دبایا گیا ہے کہ ایک بزرگ رہنما کی نماز جنازہ اور تدفین میں بھی ان کے قریبی رشتہ داروں تک کو شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اس کے ساتھ ساتھ حالات یہ تھے کہ ان کے چاہنے والوں کو تو قریب ہی نہیں پھٹکنے دیا اور جس طرح رات کے اندھیرے میں ان کے خاندان کو تدفین کرنے پر مجبور کیا گیا اس نے غلامی کی یادوں کو ایک مرتبہ پھر تازہ کر دیا کیونکہ آزاد معاشرے میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

 سید علی گیلانی کی وفات کے ایک ہفتے بعد بھی انڈین فوج قبر پر پہرہ دے رہی اور قبرستان آنے والوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  شمالی کوریا اور روس کی قربتیں

میڈیا رپورٹس سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق شمالی کشمیر میں بھارتی فورسز نے ایک خاتون کو عسکریت پسند قرار دے کر گرفتار کر لیا ہے جبکہ سوپور میں ایک اور نو جوان کی لاش بھی بر آ مد ہو گئی ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں پوری طرح جکڑ بند ہے اس کے باوجود مقامی صحافیوں کیخلاف بڑے پیمانے پر پکڑ دکڑ کی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے صحافیوں کے خلاف کریک ڈاون کے دوران4 صحافیوں کو گرفتارکیا لیکن بعدازاں انہیں رہا بھی کر دیا۔لیکن رہائی کیسے دی ان کے پاس موجود پاسپورٹ ، فون ، لیپ ٹاپ اور ایکسٹرا ہارڈ ڈسکیں جن میں ان کا ڈیٹا تھا سب کچھ چھین لیا۔کیا کسی آزاد معاشرے میں ایسا ہوتا ہے۔

91برس کی عمر میں وفات پانے والے سید علی گیلانی کو سرینگر کے حیدرہ پورہ کے علاقے میں واقع قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا تھا۔ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے اہلِ خانہ کی موجودگی کے بغیر ہی ان کی میت کی زبردستی تدفین کر دی تھی۔اب یہ الفاظ اگر ایک پاکستانی صحافی کے ہوں گے تو الزام عائد ہو گا کے یہ انڈیا کی دشمنی میں بول رہا لیکن یہ امریکی نشریاتی ادارے کے نشر کیے ہوئے الفاظ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حافظ سعید کی گرفتاری میرے 2سالہ دباﺅ کا نتیجہ ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی ادارے نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ سید گیلانی کے حامی خفا ہیں کہ انہیں ان کا آخری دیدار کرنے کا موقع فراہم کیا گیا اور نہ ہی جنازے میں شرکت کرنے کی اجازت دی گئی اور اب انہیں ان کی قبر پر جانے سے بھی روکا جا رہا ہے

اس حالات میں مقبوضہ کشمیر کے شہری زندگی بسر کر رہے ہیں کیا اب بھی دنیا کو جاگ نہیں جانا چاہئے اور مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکنے کیلئے اپنا کر دار ادا نہیں کرنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں