Kabul_AirPort

طالبان کا ایک اور مثبت اقدام

EjazNews

امارت اسلامی افغانستان کے قائم مقام وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند نے امریکہ اور سابق افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری سے مثبت اور مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں ۔

اپنے دئیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی کامیابی کے لئے ہم نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی قربانی دی ہے، خطے کے ممالک اور عالمی برادری سے مثبت اور مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب طالبان نےحامد کرزئی ایئرپورٹ کا نام بھی تبدیل کر دیا ہے ۔ اس کے باہر لگے بورڈز کو ہٹا کر وہاں کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا بورڈ لگا دیا گیا ہے۔

اس ائیر پورٹ کا صرف نام ہی نہیں بدلا گیا بلکہ وہاں سے انٹرنیشنل فلائٹس بھی شروع ہوچکی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایمیلی ہارن نے قطر ایئرویز کی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے کابل سے دوحہ روانگی کو افغانستان میں نئی حکومت کا ‘پہلا مثبت قدم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سارے ڈاکو اکٹھے ہو کر کبھی کچھ کریں گے تو کبھی کچھ، ہمارے پاس بھی آپشن ہے لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے:وزیراعظم

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ میں کہا تھا کہ پرواز میں سفر کرنے کے لیے لگ بھگ 40 امریکی شہریوں یا مقامی افراد کو مدعو کیا گیا تھا لیکن صرف 21 افراد پرواز میں سوار ہوئے۔

گزشتہ دنوں انہوں نے کہا تھا کہ ‘یقیناً ہم اس طرح کی مزید پروازیں دیکھنا چاہیں گے، ہم نے عوامی بیانات سنے ہیں، شاید حقیقت میں ایسا وقت آنے والا ہے۔

افغانستان کو دنیا کیلئے کھولنے کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے اور اس کو طالبان کے ایک مثبت پہلو کی جانب گامزن ہونے کی طرف دیکھا جارہاہے۔

طالبان حکومت کی تشکیل کے بعد اصل صورتحال پیش آنے والی ہے کہ یہ حکومت ملک کو لے کر کیسے چلتی ہے کیونکہ اس وقت تک سب افغانستان کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کی حکومت کو مانے یا پھر نہ مانیں۔

ایک غیر تصدیق شدہ رپورٹ کے مطابق کابل ایئر پورٹ سے 2سو غیر ملکی شہریوں نے سفر کیا ہے ۔ قطر ایئر ویز نے باقاعدہ اپنی پروازیں شروع کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  لگتا ہے کراچی کی سنی گئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں